سابق صدر پرویز مشرف کا دل میں تکلیف کے باعث فوجی اسپتال میں علاج جاری

ویب ڈیسک  جمعرات 2 جنوری 2014
سابق صدر کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہیں لیکن انہیں علاج کے غرض سے اسپتال میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ڈاکٹرز  فوٹو: آن لائن

سابق صدر کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہیں لیکن انہیں علاج کے غرض سے اسپتال میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ڈاکٹرز فوٹو: آن لائن

راولپنڈی: غداری مقدمے میں پیشی کے لئے خصوصی عدالت جاتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کی طبعیت اچانک بگڑ گئی جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کی عدالت روانگی کے موقع پر فارم ہاؤس سے نیشنل لائبریری تک سخت سیکیورٹی کے انتظامات کئے گئے جب کہ پولیس اور رینجرز کی بھی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جانب سے کلیئرنگ کے بعد پرویز مشرف کو سخت سیکیورٹی کے حصار میں خصوصی عدالت کی طرف روانہ کیا گیا اور اس موقع پر تمام ٹریفک اور پیدل چلنے والے افراد کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ پرویز مشرف کا قافلہ نیشنل لائبریری کی حدود میں پہنچا ہی تھا کہ دل کے عارضے کے باعث سابق صدر کی طبیعت اچانک بگڑ گئی جس کے بعد انہیں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کردیا گیا۔

خصوصی عدالت روانگی سے قبل پرویز مشرف کے سیکیورٹی انچارج کی جانب سے وزیر داخلہ چوہدری نثار کو اس حوالے سے آگاہ بھی کردیا گیا تھا تاہم عدالت جاتے ہوئے تکلیف بڑھنے کے باعث انہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا جہاں ہنگامی بنیادوں پر پرویز مشرف کو طبی امداد فراہم کی گئی اور ان کی اینجیو گرافی بھی کی گئی، ڈاکٹرز کے مطابق سابق صدر کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہیں لیکن انہیں علاج کے غرض سے اسپتال میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی حالت دیکھتے ہوئے انہیں علاج کے لئے بیرون ملک بھیجنے کا معاملہ بھی زیر غور ہے تاہم اس سے متعلق کوئی بھی حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے کلینکل ٹیسٹ درست ہیں تاہم ابھی لیب ٹیسٹ جاری ہیں جن کے مکمل ہونے پر 2 دن بعد انہیں اسپتال سے فارغ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب پرویز مشرف کی عین پیشی کے موقع پر طبیعت کی ناسازی اور سعودی وزیر خارجہ کی 6 جنوری کو پاکستان آمد کو لے کر مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں اور کچھ کا خیال ہے کہ پرویز مشرف جلد پاکستان سے چلے جائیں گے۔ ادھر عالمی میڈیا نے بھی سابق صدر کے عدالت کے بجائے اچانک اسپتال پہنچ جانے کے معاملے کو بھرپور کوریج دی، امریکی اخبار ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے مطابق پرویز مشرف کبھی بھی عدالت میں حاضری کے لئے راضی نہیں تھے، ان کے وکلا کی جانب سے بھی متعدد بار استثنیٰ کے لئے زور دیا جاتا رہا ہے۔ ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ لکھتا ہے کہ مشرف کو دل میں تکلیف ہونے کے معاملے میں کوئی حقیقت نہیں جس سے کیس کے قانونی نکات میں پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے، پرویز مشرف کی جانب سے تیسری بار عدالتی سماعت سے فرار کی کوشش کی گئی ہے لیکن غداری کیس ان کے گلے کا پھندا یا عمر قید کی سزا بھی بن سکتا ہے۔

برطانوی اخبار ’’ٹیلی گراف‘‘ اور ’’دی گارڈین‘‘ لکھتے ہیں کہ آج سے پہلے پرویز مشرف کو دل کی بیماری سے متعلق کوئی خبر سامنے نہیں آئی اور یوں اچانک دل کی تکلیف تشویشناک ہے۔ بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کے مطابق عدالت جانے سے قبل پرویز مشرف کے چہرے پر عدم اطمینان کے آثار واضح طور پر دیکھے جاسکتے تھے اور کبھی انتہائی طاقتور نظر آنے والا شخص ذہنی دباؤ کا شکار لگتا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔