چین میں کورونا وائرس کا نیا ٹیسٹ متعارف

ویب ڈیسک  بدھ 27 جنوری 2021
گزشتہ برس ہونے والی تحقیق میں اینل سواب ٹیسٹ کو مؤثر قرار دیا گیا تھا، فوٹو : فائل

گزشتہ برس ہونے والی تحقیق میں اینل سواب ٹیسٹ کو مؤثر قرار دیا گیا تھا، فوٹو : فائل

بیجنگ: چین میں کووڈ-19 کی تشخیص کےلیے ایک ٹیسٹ متعارف کرایا گیا ہے جس کے لیے نمونے حلق یا ناک کے بجائے مقعد ( فضلے کے اخراج کی جگہ) سے لیے جاتے ہیں اور یہ ٹیسٹ زیادہ آسان اور قابل اعتماد ہے۔ 

دسمبر 2019 میں سامنے آنے والے مہلک کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا دی تھی اور دنیا کو ایک بار پھر نئی وبا کا سامنا تھا۔ ایک ایسے دشمن کا سامنا تھا جس کی ہیئت، ساخت، مزاج اور وار سے متعلق معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔

سب سے پہلا مرحلہ اس وائرس کی تشخیص کا تھا جس کےلیے دو طریقے وضع کیے گئے تھے: سواب ٹیسٹ، جس کےلیے ناک اور حلق سے بلغم یا تھوک کا نمونہ لیا جاتا ہے؛ جبکہ دوسرا اینٹی باڈیز ٹیسٹ، جس میں خون کا نمونہ لیا جاتا ہے۔ ماہرین دونوں میں سے سواب ٹیسٹ کو زیادہ بہتر قراد دیتے ہیں۔

یہ خبر پڑھیں : دنیا بھر میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کرگئی

شروع میں کہا جارہا تھا کہ کورونا وائرس کا پہلا پڑاؤ گلے میں ہوتا ہے جس کے بعد وہ پھیپھڑوں کو جائے پناہ بناتا ہے اور انہیں ناکارہ کردیتا ہے۔ تاہم بعد ازاں حاصل ہونے والی معلومات سے پتا چلا کہ اس وائرس کی پہنچ گردوں تک بھی ہے، یعنی یہ نظام اخراج میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس طرح ماہرین کو کورونا کی موجودگی کا پتا چلانے کےلیے ایک اور ٹیسٹ کا خیال ذہن میں آیا۔

گزشتہ برس اپریل میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں مقعد سے نمونے لے کر ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتائج پہلے دو ٹیسٹس سے بہتر ثابت ہوئے جس کے بعد ماہرین نے گلے اور ناک کے ساتھ مقعد سے بھی نمونہ لیکر ٹیسٹ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

ماہرین کی اس تجویز کے بعد دنیا بھر میں چین وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے کورونا ٹیسٹ کے لیے ’’اینل سواب‘‘ یعنی مقعد سے نمونے لینے کا آغاز کردیا۔

چین کے سرکاری ٹیلی وژن پر ’’اینل سواب ٹیسٹ‘‘ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کا یہ طریقہ کار وائرس کا پتا لگانے میں زیادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ مفت میں کیا جارہا ہے اس لیے ٹیسٹ کی لاگت سے متعلق معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔