بوبکر کا جینا، علی کا سفینہ ، نبی کا مدینہ

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین  جمعـء 29 جنوری 2021
تمہید مدینہ کا مقصد بڑا خاص ہے، عاشق جب درد میں ہو تو محبوب کا شدید مطلوب ہوجاتا ہے

تمہید مدینہ کا مقصد بڑا خاص ہے، عاشق جب درد میں ہو تو محبوب کا شدید مطلوب ہوجاتا ہے

کرم کی تجلیوں کا مرکز مدینہ، آقا کریم کے پیاروں کا سفینہ مدینہ، اہل بیت وصحابہ کا جینا مرنا مدینہ، سکوں کہیں ملے نا تو مدینہ، سکوں بس ملے جہاں وہ مدینہ، صبح کی پہلی کرن کا سلام، مدینہ سورج ڈھلنے کا انعام مدینہ، روشنی کا کھلا پیغام مدینہ، درود سرعام مدینہ، بوبکر کا قیام مدینہ، شہادت فاروقی کی شام مدینہ، حیائے عثمان کا اعلان مدینہ، مولا علی کی داستان مدینہ، حسن و حسین کی یاد مدینہ ، مادر حسنین کے لیے عام مدینہ ، عشرہ مبشرہ کا اعلان مدینہ ، بوذر کی عظمت کا اعلان مدینہ، ابن مسعود کا شاہدِ تلاوت قرآن مدینہ، فخر احد مدینہ اور سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب میزبان مدینہ۔

تمہید مدینہ کا مقصد بڑا خاص ہے، عاشق جب درد میں ہو تو محبوب کا شدید مطلوب ہوجاتا ہے، دیکھنے والے سمجھتے ہیں گناہ گار ہے اس لیے مدینے کا طلب گار ہے گویا سمجھنے والا طبقہ معصومین سے تعلق رکھتا ہو اور یاد مدینہ میں رونے والا اسے گناہ گار نظر آتا ہو۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کسی نے عرض کیا ’’بلال کوتی اعرابی رسول اللہؐ کی جائے اطہر پہ (میں ادباً قبر یا تربت لکھنے سے احتراز برتتا ہوں) روز آکے روتا ہے، یہ روانگی مصطفی کریمؐ کے6 یا 7 روز کے بعد کی بات ہے کیونکہ سیدنا بلال توکچھ عرصے بعد خود ہی مدینہ چھوڑ چلے تھے آپ نے یہ سنتے ہی فرمایا مجھے اس شخص سے ملواؤ، لوگوں نے کہا عشا کے بعد کونے میں بیٹھ جاتا ہے اور تہجد تک روتا ہے، سیدنابلال بولے ’’ واللہ میں اسے روکوں گا، کیونکہ وہ میرے آقا کی یاد سے بھرا پُرا ہے اس لیے یاد میں نہیں رو رہا، ستایا گیا ہے، تہمتوں سے دل گرفتہ ہے اور اپنوں کا زخم خوردہ ہے اگر اس کو منا کرنہ روکا گیا تو اللہ اُن سب کو نابود کردے گا جنھوں نے اس کے حبیب کے عاشق کو ناحق ستایا ہے‘‘ المختصر ماجرا یہی نکلا لیکن وہ سیدنا بلال کی ’’ درخواست ‘‘ (انھوں نے اُس سے یہی فرمایا تھا)ٹال نہ سکا اور سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سلام عرض کرکے چپ چاپ چلا گیا، سیدنا بلال نے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا ’’اللہ اور اس کا رسول جن سے محبت کرتے ہیں ان کی کچھ نشانیاں ہیں جو مجھے آقا نے بتائیں اور میں تم لوگوں کو نہیں بتا سکتا پس ایسوں کو اتنا تنگ نہ کرو کہ وہ اس بارگاہ میں آکر رو پڑیں جس کی کہیں نہیں سنی جاتی اس کی یہیں سنی جاتی ہے۔‘‘

بظاہر تہمتوں اور پیاروں کی نادانستہ حرکتوں کے سبب یا محسن کشوں کے روایتی ڈنک کے زہر کے باعث کوئی بدنام کیا جائے اور اب تو تکنیک سے بدنام کرنے کے لیے اسی شخص جیسا انسان بھی ماسک اور دیگر ذرایع آلات کے ذریعے ایسی حالت میں دکھایا جا سکتا ہے کہ اس کے سوا کوئی اور نہ لگے اور منافرت ایسی پھیلے کہ آنسوؤں اور خاموشی کے سوا صفائی دینے کو کچھ نہ ہو تو ڈرنا کہ کہیں وہ کائنات کے شاہد کو شاہد نہ بنا لے جنھیں تو یہ بھی گوارا نہیں کہ کوئی کسی کو چھپ کر دیکھے یا گھروں میں جھانکے … ایسی آنکھوں کو پھوڑ دینے کا حکم ہے چہ جائیکہ تہمت طرازی کی جائے۔

ایک عاشق سے کسی نے کہا ’’آپ دکھی ہیں مدینے چلے جائیں، سرکار سنبھال لیں گے، اللہ کی عطا سے غیب اور ہمارے عیب وہ جانتے ہیں اور کملی بھی ان ہی کے پاس ہے جائیے چھپالیں گے‘‘ عاشق نے کہا نہیںمدینہ نہیں جانا

ڈانٹ پڑے گی

کیسے طالب مدینہ ہو

کہ

سمجھایا تھا

مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا

تم تو بار بار ڈسے گئے

لوگ رسول اللہؐ سے رحمت کی توقع رکھتے ہیں کیونکہ انھوں بے رسول اللہ ؐ کوکسی کو ڈانٹتے نہیں دیکھا! اور توقع رحمت ہی کی رکھنا چاہیے کیونکہ وہ رحمت للعالمین ہیں… عاشق کہتا ہے مجھے ڈانٹ دیا تو اللہ کیسے معاف کرے گا؟ ابھی اُن سے ڈر لگ رہا ہے، اپنے گناہوں کی وجہ سے نہیں،اُن نیکیوں کی وجہ سے جو دراصل گناہ تھیں اور میں نیکیاں سمجھ بیٹھا اب پہلے مولا عباس کو سفارش کے لیے راضی کرنا پڑے گا کیونکہ غیرسید غیر اولاد فاطمہ سے ہی رجوع کرتا ہے حالانکہ شہادت کے وقت آسمانوں میں جنابِ سیدہ کا آنسوؤں سے تر رخسار مبارک کی زیارت کر کے آپ نے سیدنا حسین کو بتایا تو آپ نے لرزتی آواز میں بھائی کے ماتھے پر بوسا دیتے ہوئے کہا عباس، تم نے ماں کو دیکھا ہے تم سید ہوگئے، اللہ اکبر… وہ مولا علی سے کہیں گے مولا سیدنا ابوبکر کو اطلاع دیں گے اور نجف سے آیا پیغام جب فاروق اعظم تک پہنچے گا تو وہ رسول اللہ ؐ سے ادب سے کہیں گے۔

’’درخواست گزار آپ کے بیٹے غازی ہیں سفارش میرے مشیر میرے خسر علی نے کی ہے، تائید ابوبکر کی ہے ، آواز میری ہے ، مراد نے آپ سے مراد مانگی ہے، مراد آپ جانتے ہیں، حضور آپ جانتے ہیں!اب عاشق کو معلوم نہیں آقا کیا فرمائیں گے!‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔