بہاجاتاہوں طغیانی سے پہلے

سعد اللہ جان برق  جمعـء 29 جنوری 2021
barq@email.com

[email protected]

اس وقت معاونین خصوصی برائے کا اور پہلی ترجیحوں کا جوبازار گرم ہے یا میلہ لگاہوا ہے اس میں ایک نئی آواز بھی شامل ہوگئی۔ خیبر پختون خوا کے بڑے سرکاری افسر نے بھی اپنی ’’پہلی ترجیح‘‘ اس دریا میں چھوڑ دی ہے جس میں پہلے ہی سے کنبھ کے میلے کی طرح ہزاروں ترجیحات اشنان کررہی ہیں۔ افسر موصوف کی یہ پہلی ترجیح’’پولیو کا خاتمہ‘‘ہے۔ یہ بہت ہی مشہور و معروف پہلی ترجیح جو پہلے بھی بہت سارے لوگوں کی پہلی ترجیح رہ چکی ہے۔ یوں کہیے کہ اسے ’’پہلی ترجیح‘‘ کا سترسالہ تجربہ ہے۔

ایک لطیفہ جو ذرا کثیفہ ہے کیونکہ ہالی وڈ کا ہے، ہالی وڈ کی ایک رنگارنگ پارٹی میں ایک میز کے گرد بچوں کے دو گروپ بیٹھے تھے۔ ایک گروپ نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیڈی ہے ہمارا آج کل۔اس پر پہلے والے گروپ نے کہا، یہ اچھا آدمی ہے، ہم بھی اسے ایک دوسال ڈیڈی کے طور پر استعمال کرچکے ہیں۔غالباً یہ پولیو خاتمے کی ترجیح بھی کافی اچھی ترجیح ہے جو اکثر لوگوں کی اولین ترجیح ہوتی ہے بلکہ اسے اچھی صورت یا ترجیح کہیے کہ جس نے ڈالی بریُ نظر ڈالی۔اب آپ شاید یہ پوچھیں کہ یہ پہلی ترجیح کیا ہوتی ہے تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ پہلی ترجیح ہمیشہ پہلی ترجیح ہوتی ہے۔

دوسری کبھی نہیں ہوتی اور دوسری ہو بھی کیوں؟کہ جب وہ پہلی ترجیح ہے تو دوسری کیوں ہو۔ویسے بھی جب کسی مقابلے میں ایک ہی کھلاڑی ہو تو دوسرے نمبر پر کون آئے حالانکہ یہ ہوسکتا ہے کہ ساری پہلی ترجیحات کو الگ ایک وقتوںمیں اور الگ الگ مقابلوں میں دوڑا کر پہلی ترجیح بنایا جائے، اس لیے مل کر بولیے زور سے بولیے، پہلی ترجیح۔۔زندہ باد بلکہ ’’پہلی باد‘‘۔محترم سرکاری افسر کو ہم اب تو نہیں کیونکہ اب وہ ہم کو نہیں جانتے تو ہم کیا جانیں لیکن پہلے جانتے تھے کیونکہ وہ ہمیں جانتے تھے، بہت بڑے باپ کے بیٹے ہیں۔

اس لیے ان کی پہلی ترجیح بھی بہت بڑی ترجیح ہوگی، اس لیے ہمیں یقین ہے کہ اب پولیوکا انسداد ہوجائے گا کیونکہ اب تک اس کا کسی سے پالا بلکہ ’’پہلا‘‘نہیں پڑا تھا اور یہ کہیں کاغذات میں ادھر ادھر ہوجاتاتھا لیکن اب نہیں۔ انسدادپولیو کی پہلی ترجیح کو گیا ہی سمجھیے۔بلکہ اسے سابق پہلی ترجیح یا مرحوم پہلی ترجیح لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ورنہ اس سے پہلے تو کم ازکم ایک لاکھ ایک ہزار ایک سو ایک پہلی ترجیحات کا حشر نشر ہم دیکھ چکے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ شیر کی کچھار میں جاتے ہوئے قدموں کے نشان تو دیکھے گئے ہیں لیکن واپسی کا کوئی نشان نہیں دیکھا گیا ہے۔ دراصل کبھی کبھی ہمارے دل میں یہ خیال آتاہے کہ جیسے پہلی ترجیح کو بنایا گیاہو ہمارے لیے۔یا اس کے الٹ بھی ہوسکتا ہے کہ شاید ہم ہی پہلی ترجیح کے لیے بنائے گئے ہوں۔

آسمان بار امنت نہ تو انست کشید

قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند

یعنی جو ’’بارامانت‘‘آسمان سے نہیں اٹھایا گیا، اس کے لیے قرعہ ہمارے نام نکالا گیا ، اس لیے اس دوطرفہ کشمکش میں ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے۔

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے

کہ جیسے تم کو بنایا گیا ہے میرے لیے

تم ا س سے پہلے ستاروں میں رہ تھی کہیں

تجھے زمین پہ اتارا گیا ہے میرے لیے

مسئلہ بہت بڑا نہیں ہے لیکن چھوٹا بھی نہیں جیسے معاونین خصوصی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہیں لیکن چھوٹا مسئلہ بھی نہیں کیونکہ دونوں یعنی معاونین خصوصی برائے اور پہلی ترجیحات کی پیداوار اس رفتار سے بڑھتی رہی تو کسی دن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ملک میں کچھ بھی باقی نہ رہے، معاونین خصوصی برائے اور پہلی ترجیحات کے۔اور پھر عین ممکن ہے یہ دونوں یعنی معاونین خصوصی برائے اور پہلی ترجیحات ایک دوسرے پر پل پڑیں ۔ اسی اندیشے میں ہم…

پریشان ہوں پریشانی سے پہلے

بہا جاتا ہوں طغیانی سے پہلے

چنانچہ اس سے پہلے کہ ایسی کوئی خطرناک صورت پیدا ہوجائے، ہمیں پہلے ہی سے کوئی تدبیر کرنی چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے، سیلاب سے پہلے بند باندھے جاسکتے ہیں، سیلاب آجانے کے بعد نہیں۔

کلی کے حال پر روتی ہے شبنم

گلوں کی چاک دامانی سے پہلے

ہوسکتا ہے کسی اور کو اتنی فکرنہ ہو اس’’جنگ عظیم‘‘ کی جومعاونین خصوصی برائے اور پہلی ترجیحات کے درمیان بپا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہمیں اس لیے بھی فکرمندی ہے کہ ہم ایسی بہت سی لڑائیاں دیکھ بھی چکے ہیں اور بھگت بھی چکے ہیں۔

یوں ہی آتا نہیں انداز سجدہ

بہت کھیلا ہوں پیشانی سے پہلے

ہمارے ذہن میں اس’’انرتھ‘‘کو روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کیونکہ معاونین خصوصی برائے اور پہلی ترجیحات کی پیدائش کو روکنا تو ہمارے بس میں نہیں ہے کہ ہم ان کی خاندانی منصوبہ بندی کرسکیں۔اس سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ان دونوں کے درمیان ہوم سیریز منعقد کی جائے، دونوں ٹیمیں اپنے درمیان دوستانہ میچز کھیلتے رہیں۔ کھیلتے رہیں اور آخر میں جوگیارہ گیارہ کھلاڑی دونوں ٹیموں کے باقی رہیں ان کا ٹاکرا کرایا جائے۔بلکہ بات کو سمجھنے کے لیے ہم آپ کو ایک شوقیہ حکیم کا نسخہ بتائے دیتے ہیں جو اس نے ہمارے دادا کو گھٹنوں کے درد کے لیے بتایا تھا۔

نسخہ یہ تھا کہ پہلے ایک تولہ شنگرف لاکر باریک پیسا جائے۔پھر اسے آٹے میں ملاکر مرغی کے ان بچوں کو کھلانا شروع کیا جائے جو اس غرض کے لیے پہلے سے انڈوں پر بٹھائی گئی ہو، اس مرغی کے تیرہ چوزوں کو وہ آٹا آہستہ کھلایا جائے جب یہ آمیزہ ختم ہوجائے تو ان چوزوں میں سے ایک کو ذبح کرکے اور آٹے میں ملا کر باقی چوزوں کو کھلانا شروع کیا جائے۔یہ خوراک ختم ہوجائے تو ایک اور چوزے کو اسی طریقے پر آٹے میں ملا کر باقیوں کو کھلایا جاتا رہے۔

یوں جب آخر میں ایک چوزہ رہ جائے جو جوان ہوچکا ہوگا، اسے ذبح کرکے دیسی گھی میں بریان کیا جائے، پھر اسے بھی باریک پیس کر شہد میں گولیاں بنائی جائیں، وہ گولیاں صبح نہار منہ مکھن میں رکھ کر کھائی جائیں تو گھٹنوں کا درد غائب ہوجائے گا اور شاید ساتھ میں گھٹنے بھی،گھٹنوں کے ساتھ ٹانگیں بھی اور ٹانگوں کے ساتھ مریض بھی۔ نہ رہے گا بانس اور بجے گی بانسری۔ نسخہ ہم نے بتادیا، اب بنانا اور استعمال کرنا آپ کاکام ہے۔

نہ تھی دنیائے غم میں دل کی عظمت

تمناؤں کی قربانی سے پہلے

ابھی سے فکر کرلو اس بلا کی

’’سیاست‘‘نے بڑھادی ان کی قیمت

یہی دو اشک تھے پانی سے پہلے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔