ایلینز ہوتے ہیں اور ہیں لیکن؟

سعد اللہ جان برق  بدھ 3 فروری 2021
barq@email.com

[email protected]

قارئین کرام! ہمیں من من افسوس ہے اور آپ سے ٹن ٹن معذرت چاہتے ہیں کہ ’’ایلینز‘‘کے بارے میں ہم سراسر غلطی پرتھے۔ایلنز واقعی ہوتے ہیں بلکہ بہت سارے ہوتے ہیں۔ دراصل ہم سے بھی وہی غلطی ہوئی تھی جو علامہ اقبال سے ہوئی تھی کہ

جنھیں ہم ڈھونڈتے تھے آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل کے مکینوں میں

ہم ایلینزکے بارے میں خواہ مخواہ دور کی کوڑیاں لارہے تھے جب کہ ایلینزہماری بغل میں بیٹھے تھے بلکہ بیٹھے ہیں۔ ہم نے جب غوروحوض کیا بلکہ غور کے حوض میں ڈبکیاں لگائیں، اپنے ٹٹوئے تحقیق کومار مار کر دوڑایا تو پتہ چلا کہ ’’بچہ‘‘تو بغل میں بیٹھا مسکرارہاہے اور ہم یونہی شہر بھر میں ڈھنڈورہ پیٹ رہے تھے۔یا اس آہوئے ختن کی طرح کہ ’’نافہ مشک‘‘اس کے اندر ہوتاہے لیکن وہ اس کی تلاش میں یہاں وہاں دوڑتا رہتاہے۔ آپ کی بے پناہ یاداشت اور منوں منوں ٹنوں عقل پر بھروسہ ’’نہ کرتے‘‘ہوئے تھوڑا سا’’مشک نافہ‘‘کے بارے میں بریف کرتے ہیں۔

کہاجاتا ہے کہ ’’ملک ختن‘‘میں جو آج کل روس میں ہے، ایک خاص نسل کا آہو یعنی ہرن ہوتا ہے۔ ایک خاص عمر اور خاص موسم میں اس کے اندر مشک کی خوشبو پیدا ہوجاتی ہے۔ اس خوشبو کو وہ کہیں باہر سمجھ کر دیوانہ وار کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف دوڑنے لگتا ہے۔

یوں کہیے کہ وہ آہو ہو بہو پاکستانی عوام کی طرح ہوتا ہے جو کبھی ایک پارٹی کبھی دوسری پارٹی، کبھی ایک لیڈر کبھی دوسرے لیڈر کبھی ایک نعرے اور کبھی دوسرے ’’نعرے‘‘کے پیچھے دوڑتے ہیں حالانکہ نافہ مشک خود اس کے اندر ہوتا ہے لیکن یہ بات خود اسے معلوم نہیں ہوتی صرف ’’شکاریوں‘‘کو معلوم ہوتی ہے۔ بیچارا آہوئے ختن یا پاکستانی عوام اس خوشبو کی تلاش میں دیوانہ یا دیوانے ہوجاتے ہیں اور پھر وہ کسی شکاری کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ شکاری فوراً اس کی ناف کے گرد مضبوط دھاگہ باندھ دیتا ہے اور ناف کے اندر کا خون مشک یا مشک نافہ کہلاتا ہے جسے حاصل کرکے شکاری گراں قیمت پر بیچ دیتا ہے اور پھر عطار اسے دکان میں بیچتے ہیں، عامل کامل اس سے تعویذ لکھتے ہیں حکیم وطبیب اس سے گراں قیمت دوائیں بناتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔وہ تو آپ خود بھی دیکھ رہے ہیں۔

مژدہ گانی بدھ وے خلوتی نافہ کشائی
کہ زصحرائے ختن آہوئے مشکیں آمد

یعنی مشک فروشوں اور شکاریوں کو خوشخبری دے دو کہ صحرائے ختن سے آہوئے مشکین یہاں آگیاہے اور پاکستانی عوام تخلص کرتا ہے۔ ’’امید‘‘ہے کہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہے اور ’’یقین‘‘ہے کہ حسب معمول نہیں آئی ہوگی کیونکہ آپ کی سمجھ دانی یا مشک نافہ بھی شکاریوں کے ہاتھ لگ چکا ہے۔لیکن اس موڑ کے بعد ہم پھر اپنے اصل موضوع’’ایلینز‘‘کے موضوع پر آتے ہیں جو مشک نافہ کی طرح ہمارے اندر سرایت کیے ہوئے ہیں اور یہ پتہ ہمیں اچانک ’’ٹماٹر‘‘اور آلو نے بتایا ہے۔ اب پھر آپ اپنی ڈیٹ ایکسپائرسمجھ دانی کو تکلیف مت دیں، ہم خود ہی بتائے دیتے ہیں کہ آلو اور ٹماٹر نے ہمیں ’’ایلینز‘‘کے بارے میں کیسے اور کیا بتایا ہے۔لیکن اس کے لیے آپ کو پوری کہانی سنانا پڑے گی۔ ہوا یوں کہ ہم نے اپنے کھیت میں ٹماٹر بوئے۔

ان کو خوب پالا پوسا، کھاد ،گوڈی اور دواؤں وغیرہ سے پالن پوسن کیا ،کھیت نے بھی احسان کا بدلہ دیتے ہوئے ٹوکریاں بھر بھر کر ٹماٹر دیے جنھیں لے کر ہم منڈی پہنچے اور دو روپے کلو کے حساب سے بیچ دیے ۔حساب کتاب لگایا تو کچھ زیادہ منافع تو نہیں ہواتھا لیکن کھیت اور ہماری دیہاڑی نکل آئی۔اس دن مصروفیت کی وجہ سے ہم کھیت سے اپنے گھر میں استعمال کے لیے ٹماٹر نہیں لاسکے تھے، اس لیے لوٹتے ہوئے سوچا کہ بازار سے ہی لیے لیتے ہیں۔ دکاندار سے پوچھا تو اس نے ساٹھ روپے فی کلو بتایا۔ہم تو دھک سے رہ گئے کہ ابھی ابھی شہر کی منڈی میں دو روپے فی کلو کے حساب سے بیچ آئے تھے اور اب شہر کے دوسرے حصے میں ساٹھ روپے فی کلو ہوگئے۔

مرجائیں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
آگوش خم حلقہ زنار میں اوے
غارت گر ناموس نہ ہو گر ہوس زر
کیوں شاہد گل باغ سے بازار میں آوے

آخر بیچ میں یہ اڑتالیس روپے کون کھا گیا یا ہڑپ کرگیا یا ڈکار گیا ،کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو سوچا کہ یہ اس ٹماٹر بدذات کی ذات میں ہرجائی پن ہوگا کہ شہر پہنچتے ہی اس نے اپنی آنکھیں بدل ڈالیں اور خاک سے عالم پاک ہوگیا، اس لیے اس کی ذات ہی سے توبہ۔

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہ اعمال میں تھی

بلکہ ان شاعروں کے کہے پر یقین آگیا جو انھوں نے ’’حسینوں‘‘کی بے وفائی اور ہرجائی پن پر کہے ہیں، یہ کم بخت بھی تھوڑا حسین ہے، اس لیے غرور حسن کا مظاہرہ کرتا رہتا ہے، اسی لیے تو بزرگوں نے کہا ہے کہ حسینوں سے فقط صاحب سلامت یعنی ہیلو ہائے، ٹاٹا بائی بائی دور ہی دور سے رکھنا چاہیے، ان کے زیادہ قریب میں جانے میں خطرہ 420 والٹ ہے، تب ہم نے سوچا کہ اس ہرجائی حسین کے بجائے بدصورت ’’آلو‘‘ سے ناتا جوڑنا چاہیے کہ اتنا بے رنگ بھی نہیں ہے لیکن ’’حسینوں‘‘ میں اس کا شمار نہیں ہوتا۔

دور ایک کونے میں چارپائی پر ہمارے جیسا ایک حستہ حال بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے اشارہ کرکے پاس بلایا۔اور بولاکہ اس طرح ہوتا ہے اس طرح کے آلووں میں۔جو بوری بیج کی تم نے خریدی تھی، وہ میرے کھیت کی تھی اور پانچ سو روپے میں بیچی تھی، وہ بھی ادھار۔ آج اس کے پیسے لینے کے لیے آیا ہوں، اپنے گاؤں سے۔ہم نے جب اس کے ساتھ مل کرآنسو بہائے اور مل کر آہ وزاریاں کیں تو پتہ چلا کہ درمیان ہی میں کہیں گڑبڑ ہے ،کوئی نامعلوم مخلوق یہ پیسے ہڑپ کر لیتی ہے۔ تب ہماری سمجھ میں آیا کہ ایلینز ہوتے ہیں بلکہ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور بہت زیادہ ذہین ہیں جو دکھائی نہیں دیتے ،صرف کام سے اپنی موجودگی کا پتہ دیتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔