کشمیر کا پاکستان سے شکوہ

سید امجد حسین بخاری  جمعـء 5 فروری 2021
آج تک میری آزادی کےلیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھ سکا۔ (فوٹو: فائل)

آج تک میری آزادی کےلیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھ سکا۔ (فوٹو: فائل)

پیارے پاکستان! حال ہی میں چلہ کلاں سے فارغ ہوا ہوں۔ سرما کی رُت اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ چنار کی کونپلیں پھوٹنے کو ہیں، جنگل برف سے ڈھکے ہوئے ہیں، لیکن جہاں جہاں سے برف ہٹی ہے، وہاں سے بنفشے کے پھول سر اٹھانا شروع ہوگئے ہیں۔

یہ موسم سرما بھی بہت عجیب ہے، زندگی کے آثار کو منجمد کرکے رکھ دیتا ہے۔ سرسبز و شاداب جنگلات اور وادیاں برف کی چادر اوڑھ لیتی ہیں، جبکہ چاروں جانب صرف سفیدی دکھتی ہے۔ میرے محسن! چلہ کلاں اور خورد ہر سال آتا ہے، پورے جوبن کے ساتھ وادی کو منجمد کرکے رکھ دیتا ہے، لیکن دو ماہ کے بعد یہ شدت ختم ہوجاتی ہے۔ زندگی جینے لگتی ہے، پرندوں کی چہل پہل شروع ہوجاتی ہے، بن ککڑ، چکور، دان گیر اور چڑیوں کے نغمے وادی میں گونجنے لگتے ہیں، کوئل کی کوک سے وادی میں بہار کا اعلان ہوجاتا ہے۔

میرے پاکستان، میرے محسن! آج 74 برس بیت چکے ہیں۔ ان سات دہائیوں میں 74 بار موسم تبدیل ہوئے۔ وادی سفید چادر اوڑھنے کے بعد دوبارہ سے سبزے اور پھولوں میں نہا جاتی ہے۔ لیکن اس وادی کے بیٹے گزشتہ 74 برسوں سے روزانہ سفید کفن پہن لیتے ہیں، سبز ہلالی پرچم میں دفن ہوتے ہیں۔ سات دہائیوں سے ان کی زندگی گویا منجمد سی ہوگئی ہے۔ ان کی زندگی کا چلہ کلاں اتنا طویل ہوگیا ہے کہ انہیں اب نغمے گانے کا موقع نہیں ملتا۔ یہ نوجوان بھی جنگلوں ، پہاڑوں اور وادیوں میں للہ عارفہ کا کلام گنگنانا چاہتے ہیں۔ یہ بھی تیتر، چکور اور کوئل کی طرح آزاد فضاؤں میں جینا چاہتے ہیں۔ لیکن کشمیر کے ان چکوروں کو اپنے چاند یعنی تم تک پہنچنے کا موقع ہی نہیں مل پاتا۔

میرے محسن! اس وادی پر تمھارے بے پناہ احسانات ہیں۔ تیرے میدانوں کے نوجوانوں، ریگستانوں کے گلہ بانوں، دریاؤں کے ملاحوں اور کھیتوں کے کسانوں کے احسانات تلے میری کمر جھک چکی ہے۔ میرے پاکستان! وادی میں صبح کا آغاز تیرے پاس پہنچنے کی امید سے ہوتا ہے، لیکن رات کی تاریکی میں تیرے جدائی کا غم کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ میرے پاکستان! جب تیری دھرتی پر تیرے بیٹے سینہ چوڑا کرکے چل رہے ہوتے ہیں، اسی وقت میرے بیٹے کسی ناکے پر ہاتھ اوپر کرکے تلاشی دے رہے ہوتے ہیں۔ جب تیری بیٹیاں، تیرا سر فخر سے بلند کررہی ہوتی ہیں، عین اسی لمحے میری بیٹیاں اپنی ناموس بچانے کےلیے گھروں کے دریچے بند کر رہی ہوتی ہیں۔ وہ آدھے کھلے ہوئے کواڑوں سے گلی میں تیرا سبز ہلالی پرچم دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ میرے محسن! شاید تمھیں اس بات کی خبر نہیں کہ میرے بیٹے اور بیٹیاں تم سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ تمھیں پتا ہے ناں، دریائے جہلم، جو تمھارے پاس آتا ہے، اس دریا میں میرے کتنے ہی بیٹوں کی لاشیں، چیخیں اور نالے بھی تیری طرف آتے ہیں۔

میرے پیارے پاکستان! سوچتا ہوں کہ اس بار تمھیں موسم سرما میں بھوک کے خوف کے علاوہ اپنے بیٹوں پر ڈھائی جانے والی قیامت کا تذکرہ کروں۔ کوشش کرتا ہوں کہ وہ سارے شکوے، وہ سب دکھ تمھیں لکھ بھیجوں، جو میرے بیٹے سہتے ہیں۔ لیکن میرے پاکستان! میرے بیٹے مجھ سے ناراض ہوجائیں گے، کیونکہ تم تو ان کا عشق ہو، تم میرے بیٹوں کا جنون ہو، وہ تم سے اندھی محبت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں محبوب سے شکوہ نہیں کیا جاتا۔ عشق تو قربانی کا نام ہے۔ ابھی تو صرف چند لاکھ ہی قربان ہوئے ہیں، اس عشق کےلیے تو ہم اپنا وجود ہی مٹا دیں گے۔

میرے محسن! میرے محبوب! میرے پاکستان! گلے، شکوے اور شکایات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ میرے بیٹے تجھ سے کچھ نہ کہیں، لیکن میرا اور تمھارا تعلق تو یک قالب دو جان کا ہے۔ میں تو تم سے شکوے کرسکتا ہوں۔ میرے پاکستان! میری آزادی کےلیے تمھارے بیٹوں نے قربانیاں دیں۔ لیکن تم میدانوں میں جیتی گئی جنگیں ایوانوں میں ہارتے گئے۔ تمھیں کئی بار میں نے بھارت کی سوچ سے خبردار کیا، لیکن تم نے ہر بار دشمن کا اعتبار کیا۔ وہ دشمن، جس نے ہمیشہ تیری پیٹھ پر وار کیا۔ میرے محسن! 74 سال کی کہانی لے کر بیٹھ جاؤں تو یقین جانو مجھے آنسو روکنا ہی مشکل ہوجائیں۔ جنوری 1948 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شروع ہونے والا کیس آج بھی اسی اقوام متحدہ کی الماریوں میں بند پڑا ہے۔ اعلان لاہور، معاہدہ تاشقند، شملہ معاہدہ، پیار کرو یا وار کرو والا قصہ، سب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ لیکن آج تک میری آزادی کےلیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھ سکا۔

میرے محبوب! میرے سفیر! جب تم نئے پاکستان کا جشن منا رہے تھے، اسی دوران بھارت نے مجھ سے میری شناخت چھین لی، میرا وجود مٹا دیا گیا۔ میری روح کو قید کرنے کی کوشش کی۔ لیکن میرے سفیر! تم میری خاطر باہر نکلے، ہر جمعہ میری آزادی کےلیے دعا کی۔ لیکن میرے محبوب! دعاؤں سے آزادی نہیں ملتی۔ مجھے تو نے مزار کی چادر بنا دیا ہے، جو مقدس تو ہوتی ہے، لیکن بے جان وجود، جس کی شناخت مزار سے ہوتی ہے۔ مزار کے باہر اس کا تقدس بھی بے وقعت ہوجاتا ہے۔ میرے سفیر! گزشتہ 74 برسوں کو اگر تم یاد کرو۔ ذرا ایک لمحے کو سوچو کہ ان سات دہائیوں میں تم نے سات ممالک کو بھی میری آزادی کا حامی بنایا ہے؟ سات براعظموں میں پھیلے تمھارے بیٹوں نے کبھی سات گھنٹے ہی میرے لیے صرف کئے ہیں؟ گزشتہ 74 برسوں میں اقوام متحدہ سے لے کر او آئی سی تک ہر فورم پر تم نے میرا مقدمہ تقاریر کی صورت میں لڑا، لیکن کبھی سوچا ہے کہ تمھاری تقاریر بے اثر کیوں ہیں؟

میرے محبوب، میرے سفیر، میرے پاکستان! میں تمھیں بتاتا ہوں، جب تم معاشی طور پر خودمختار ہوگے، جب تمھاری خارجہ پالیسی آزاد ہوگی، جب تمھارے بیٹے تمھارے دست و بازو بنیں گے، اس وقت ہی تمھاری تقاریر میں اثر ہوگا، تمھاری باتیں سنی جائیں گے۔ میرا مقدمہ لڑنے میں تمھیں آسانی ہوگی۔ تمھارے بیٹے آج ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مجھ سے یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ میری آزادی کے بیس کیمپ مظفر آباد میں بھی خوب رونقیں ہیں۔ سنا ہے لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں بھی خوب چہل پہل ہے۔ لیکن جموں سے سری نگر اور لداخ سے پونچھ تک، ساری وادی میں گہرا سکوت طاری ہے۔ میرے بیٹے اور بیٹیاں انجانے خوف میں مبتلا ہیں۔ انہیں میری شناخت چھننے سے اتنا غم نہیں، جتنی تکلیف تمھاری جانب سے مجھے نظر انداز کرنے سے ہورہی ہے۔

میرے محبوب! لکھنے کو تو 74 سال کی داستان ہے، لیکن آج میرے لیے ایک پورا دن مختص کرنے پر تمھارا بہت بہت شکریہ۔ اپنا اور اپنے بیٹوں کا خیال رکھنا۔
فقط تمھارا کشمیر

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سید امجد حسین بخاری

سید امجد حسین بخاری

بلاگر میڈیا اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ نجی ٹی وی چینل سے بطور سینئر ریسرچ آفیسر وابستہ ہیں۔ سیاسی، سماجی اور معاشرتی موضوعات پر قلم اٹھانے کی سعی کرتے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر Amjadhbokhari پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔