اسلام آباد ہائیکورٹ کی سابق چیف جسٹس کو سیکیورٹی فراہم کرنے کیلئے 9 جنوری تک مہلت

نمائندہ ایکسپریس  جمعـء 3 جنوری 2014
سابق چیف جسٹس کو بلٹ پروف گاڑی دینے سے متعلق اب كوئی بہانہ نہیں چلے گا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی  فوٹو: فائل

سابق چیف جسٹس کو بلٹ پروف گاڑی دینے سے متعلق اب كوئی بہانہ نہیں چلے گا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی فوٹو: فائل

اسلام آباد: ہائی كورٹ نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری كو سیكیورٹی کے لئے بلٹ پروف گاڑی فراہم كرنے كے لئے وزارت داخلہ اور  كابینہ ڈویژن كو 9 جنوری تک کی مہلت دے دی۔

اسلام آباد ہائی كورٹ میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری كو سیكیورٹی دینے سے متعلق درخواست كی سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے کی، دوران سماعت جسٹس شوکت عزیز نے آئی جی اسلام آباد سکندر حیات سے كہا كہ كیا آپ لوگ کیا سابق چیف جسٹس سے كوئی بدلہ لے رہے ہیں، اگر افتخار محمد چوہدری كو بلٹ پروف گاڑی نہ ملی تو تمام وی وی آئی پیز سے بلٹ پروف گاڑیاں واپس لے لی جائیں گی جس پر سکندر حیات نے كہا كہ ہمارے پاس بلٹ پروف گاڑیاں نہیں ہیں اور صرف وزیر اعظم كی ہدایت پر ہی بلٹ پروف گاڑی دی جاسكتی ہے جس پر فاضل جج نے كہا كہ كیا اب سابق چیف جسٹس خود وزیر اعظم سے گاڑی كا پوچھنے جائیں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس کو بلٹ پروف گاڑی دینے سے متعلق اب كوئی بہانہ نہیں چلے گا، وزارت داخلہ اور كابینہ ڈویژن 9 جنوری تک افتخار محمد چوہدری كو بلٹ پروف گاڑی سمیت مكمل سیكیورٹی فراہم كرے۔

دریں اثنا عدالت عالیہ نے سابق چیف جسٹس كو سیكیورٹی كی فراہمی كے خلاف درخواست دائر كرنے والے وكیل ریاض احمد كو  ایک لاكھ روپے جرمانے كا بھی حكم دیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔