لکھنے والوں کو سرکاری ملازمت نہیں کرنی چاہیے، نام وَرادیبہ اور کالم نگار زاہدہ حنا سے ایک بیٹھک

رضوان طاہر مبین  جمعرات 6 جولائ 2017
دوسروں کے غم بچپن سے میرے اندر پنجے گاڑے ہوئے ہیں، فوٹو : ایکسپریس

دوسروں کے غم بچپن سے میرے اندر پنجے گاڑے ہوئے ہیں، فوٹو : ایکسپریس

 کراچی: ”افسانہ نگاری تمہارے بس کی بات نہیں“ ایک خاتون ادیبہ نے جب ایک افسانہ نگار لڑکی سے یہ کہا تو یہ ’ٹوک‘ اس قدر کاری واقع ہوئی کہ پھر اِس نے اگلے سات آٹھ برس تک کوئی افسانہ نہ لکھا، 1972-73ءمیں مشہور شاعر عبیداللہ علیم اُن کے گھر آئے ہوئے تھے، کہ کچھ کاغذات کھنگالتے ہوئے زرد کاغذوں کا ایک پلندہ نکل کر فرش پر آگرا، یہ اِس لڑکی کا ایک افسانہ تھا، جو اُسی ٹوک کے بعد عدم توجہی سے کسی کونے کھدرے میں پڑا تھا عبیداللہ علیم نے اصرار کر کے یہ افسانہ سنا اور پھر یہ ’سیپ‘ میں شایع ہوا۔ یہ زاہدہ حنا کا افسانہ ’زیتون کی ایک شاخ‘ تھا وہ کہتی ہیں کہ اگر یہ واقعہ رونما نہ ہوتا، تو شاید وہ کبھی دوبارہ افسانہ نگاری کی طرف نہ لوٹتیں۔

زاہدہ حنا نے 5 اکتوبر 1946ء کو بہار کے شہر سہسرام میں آنکھ کھولی۔ والد بٹوارے سے پہلے کراچی میں تھے، یوں 3 جنوری 1948ءکو ان کا خاندان بہ ذریعہ بحری جہاز کراچی آگیا۔ کہتی ہیں کہ خود کو مہاجر نہیں سمجھتی، کہ مہاجر تو بے سروسامان آتا ہے، ہم تو سارے سازوسامان کے ساتھ آئے۔ زاہدہ حنا کی ایک چھوٹی بہن ہیں، ایک چھوٹا بھائی تھا، جو دس برس پہلے برین کینسر کی نذر ہوگیا۔ ہجرت کے بعد کراچی میں جوبلی سینما کے قریب رہائش رہی، ماہ نامہ ’عصمت‘ کا دفتر بھی نزدیک تھا، والدہ سے زیادہ اب ننھی زاہدہ کو ’عصمت‘ کا انتظار رہتا۔ ایک دفعہ پرچا نہ ملا، تو اپنی بوا کے ساتھ دفتر جاپہنچیں، وہاں ’عصمت‘ کی آٹھ سالہ قاریہ کو حیرت سے دیکھا گیا۔

زاہدہ حنا کے والد محمد ابوالخیر کے حالات تنگ رہے، دادا کہتے تھے کہ علی گڑھ میں غنڈے پڑھتے ہیں۔ والد کی اردو، فارسی اور انگریزی پر خوب دسترس تھی۔ والد ہی نہیں والدہ کو بھی کتابوں کا بہت شوق تھا۔ طلسم ہوش رُبا سے ایڈووکیٹ فیاض علی کی لکھی ہوئی ”انور“ اور ”شمیم“ تک بہت سی عمدہ اور نادرکتب اب ان کے ذخیرے میں شامل ہیں۔ والد نے اسکول بٹھانے کے بہ جائے اپنا بنایا ہوا نصاب پڑھایا۔ پانچ برس کی عمر سے اخبار اور امی کی کتب پڑھنا شروع کیں۔ والدہ کے رشتے کی چچی ممتاز جہاں بیگم نے والد کو باور کرایا کہ اُن کی خراب صحت کی بنا پر بیٹی کو ملازمت کرنی پڑے گی، جس کے لیے اسکول کی تعلیم لازمی ہے۔

یوں 1958ء میں ’مدرسة البنات گرلز اسکول‘ میں ساتویں جماعت میں داخلہ ہوا، یہاں کا ماحول گھٹن زدہ لگا کہ لڑکیوں کے ہنسنے کی بھی منادی تھی، دو سال بعد والدہ سے کہہ کر کاسموپولیٹن گرلز سیکنڈری اسکول (سعید منزل) میں داخلہ لیا، جہاں داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہوئیں، نویں کے بہ جائے آٹھویں میں جگہ ملی، والدین ناخوش تھے، لیکن وہ اُس فیصلے کو درست سمجھتی ہیں۔ اسکول کے رسالے ’ار م‘ میں تحریری تربیت ہوئی، غالب کے شعر ’ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد، عالم تمام حلقہ ¿ دام خیال ہے‘ پر 122 صفحات کا مضمون لکھا، جس پر استاد حمرا خلیق نے بہت حوصلہ افزائی کی، ایک سال بعد ہی انہیں ’ارم‘ کی ادارت سونپ دی گئی۔ 1961ءمیں مختلف اسکولوں کے تحریری مقابلے میں دوسرا انعام پایا، جس کی سندآج بھی مطالعہ گاہ کی زینت ہے۔

میٹرک کے امتحانات کے بعد یکم اگست 1962ءکو جمشید روڈ پر گرین ووڈ اسکول میں کیشئر کی ملازمت کی، انٹر اور بی اے پرائیوٹ کیا۔ اسلامیہ کالج فور ویمن کی پرنسپل مسز پیرزادہ نے اتوار کو کالج آنے کی اجازت دی، 1966ءمیں بی اے کیا۔ تعلیم کے شوق کے لیے وہ ’ہوس‘ کا لفظ برتتی ہیں۔ آج بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو حسرت اور رشک سے دیکھتی ہیں۔

1964ءمیں ڈھائی برس نیشنل بینک آف پاکستان میں کام کیا، پھر 1966ءمیں ’اخبار خواتین‘ سے بطور فیچر لکھاری جڑگئیں، روزنامہ مشرق (کراچی) کا آغاز ہوا، تو انہیں وہاں ”ایک خاتون کی ڈائری“ کے زیرعنوان روزانہ کالم لکھنے کی ذمہ داری ملی۔ ’نیشنل پریس ٹرسٹ‘ سے اُن کے نظریات ٹکرائے اور انتظامیہ نے انہیں علیحدہ کر دیا۔ گھریلو حالات ان کی بے روزگاری کے متحمل نہ ہو سکتے تھے۔ انہوں نے اخبار کے لیے مہر ماہ رشید خان کا انٹرویو کیا تھا، وہ پاکستان میں ’وائس آف امریکا (اردوسروس) کی نگراں تھیں، چناں چہ زاہدہ حنا اُن کے توسط سے ’وائس آف امریکا‘ کے کراچی دفتر سے منسلک ہوگئیں۔ یہ سلسلہ ڈھائی برس رہا۔

1969ء میں ویت نام کی جنگ عروج پر تھی، وہ امریکا مخالف مظاہروں میں شریک ہوتیں، ایک دن احتجاج کرنے والوں میں اُن کا نام بھی آیا، تو ان کے باس جان کانسٹیبل نے انہیں بلا کر کہا کہ آپ کام بھی یہاں کرتی ہیں اور مظاہرے بھی ہمارے خلاف کرتی ہیں اب ایسا کریں، دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرلیں۔ یہ سن کر انہوں نے 1600 روپے مہینے کی اچھی ملازمت کو نظریات پہ وار دیا۔ اس کے بعد ’عالمی ڈائجسٹ‘ کی ادارت سنبھالی، جس کے لیے ترجمے کا سلسلہ 1962ء سے جاری تھا۔

اس کے بعد 1986ءمیں بی بی سی منسلک ہو کر لندن آگئیں۔ اُن کا خیال تھا کہ یہاں اختلاف رائے کی گنجائش زیادہ ہوگی، لیکن بی بی سی میں وائس آف امریکا سے بھی زیادہ اختلافات ہوئے۔ ان کے کہانیاں لکھنے پر سوال ہوا، تو انہوں نے کہا کہ میرے کوائف میں نظریات اور سرگرمیاں عیاں ہیں، انہیں مستقل ملازمت، برطانوی شہریت وغیرہ کی پیش کش ہوئی اور کہا کہ کہانی شایع کرانے سے پہلے دکھا دیا کریں، لیکن انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ملک میں ضیاالحق کی کوئی قدغن برداشت نہیں کی، تو یہ کیسے کر سکتی ہوں۔ کہتی ہیں اس صورت حال کی وجہ کچھ گورے افسران کے ساتھ ’اپنے‘ ساتھی بھی تھے۔

وہاں میر خلیل الرحمن ملے تو انہوں نے نے کہا آپ ہمارے لیے ’لندن لیٹر‘ لکھیں، جب بی بی سی چھوڑا، تو اس پیش کش کو زائد المیعاد جان کر دھیان سے پرے کیا، لیکن میر خلیل کراچی میں ملے، تو انہوں نے دوبارہ کہا، یوں 1988ءمیں بطور کالم نگار روزنامہ جنگ سے منسلک ہوگئیں۔ بعد میں کالموں میں کاٹ پیٹ اور موضوعات پراعتراضات سے بہت پریشان ہوئیں۔ انہی دنوں ’ایکسپریس‘ کراچی کے مدیر طاہر نجمی نے اپنے ہاں کالم لکھنے کے لیے رابطہ کیا، تو انہوں نے یہ وعدہ لیا کہ سنسرشپ نہیں ہوگی، اس طرح جون 2006ءمیں وہ ’ایکسپریس‘ سے وابستہ ہوگئیں۔

سندھی روزنامے ’عبرت‘ کے لیے کالم لکھا، وہ اردو میں بھیجتیں، جس کا سندھی ترجمہ شایع ہوتا، بعد میں ’ایکسپریس‘ کے کالم کا سندھی ترجمہ ’سندھ ایکسپریس‘ میں شایع ہونے لگا۔ اردو نیوز (جدہ) میں بھی پندرہ، سولہ سال کالم لکھے۔ 2006ءمیں ماہ نامہ ’رابطہ‘ کے نفیس غزنوی ہندوستان میں راج کمار کیسوانی سے کالم لکھنے کی ہامی بھر آئے، یہاں آکر انہوں نے زاہدہ حنا کا نام تجویز کردیا، یوں ہندوستان کے سب سے بڑے ہندی اخبار ’بھاسکر‘ میں ان کی کالم نگاری کا سلسلہ شروع ہوا، جو آج بھی جاری ہے۔

کالموں میں نوازشریف کی حمایت کا ذکر چھِڑا، تو بتایا کہ پچھلے دور میں ان کے خلاف میرے سخت کالم بھی موجود ہیں۔ وہ خود کو جمہوریت کا طرف دار قرار دیتی ہیں، کہ منتخب حکومت کو آپ چناﺅ میں ہرا سکتے ہیں۔ انہوں نے 1999ءکی فوجی حکومت کے خلاف لکھا، اور 2006ءمیں ملنے والے تمغہ ¿ حسن کارکردگی وصول کرنے سے انکار کیا، بعد میں 2011ءمیں پیپلزپارٹی کی حکومت میں انہیں یہ اعزاز دیاگیا۔ وہ کہتی ہیں کہ پرویزمشرف دہشت گردی کی جنگ کو اپنے ملک میں کھینچ لائے۔ مجھے ’لفافہ‘ لینے کے الزامات پر ہنسی آتی ہے، میں تو آج تک ایچ بی ایف سی (House Building Finance Company) کا قرض ادا نہیں کر سکی۔ مجھے آج بھی فلیٹ کی قرقی کے نوٹس آتے ہیں۔

پرویز مشرف کے خلاف لکھنے پر دباﺅ کے سوال پر زاہدہ حنا کہتی ہیں کہ چھوٹے موٹے دباﺅ تو آتے رہتے ہیں، آپ کے اندر اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ کسی لالچ میں نہ آئیں۔ کہتی ہیں کبھی ’این جی او‘ بنائی، نہ ہی کسی غیر سرکاری تنظیم کا حصہ رہی۔ ایک مرتبہ انہیں کہا گیا کہ این جی او بنالیں، تو ایک کروڑ رپے مل جائیں گے، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔

زاہدہ حنا کہتی ہیں کہ جو غم بچپن سے میرے اندر پنجے گاڑے ہوئے ہیں وہ دوسروں کے ہیں۔ اس میں ایک غم بوا کا بھی ہے۔ یہ بوا اُن کی نانی نے ’قحط بنگال‘ میں پانچ کلو ٹوٹے چاول کے عوض خریدی تھیں اور یہ ان کی والدہ کو جہیز میں ملیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پوچھا کہ تمہیں ماں باپ یاد نہیں آتے۔ تو بولیں، جوماں باپ ہم کو بیچ گئے، وہ کیا یادآئیں گے۔ زاہدہ حنا لکھنے والوں کی سرکار ملازمت کے خلاف ہیں۔ انہیں سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے ’اکادمی ادبیات پاکستان‘ کی مسند نشینی کی پیش کش کی، تو انہوں نے معذرت کی کہ میں نے تو ان کے خلاف لکھا کہ انہوں نے ادیبوں کے لیے کام نہیں کیا۔ وزیراعظم کی مشیر عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر کراچی نہیں چھوڑنا چاہتیں، تو ’اردو لغت بورڈ‘ میں آجائیں۔ انہوں نے منع کر دیا کہ کل مجھے اس کے خلاف لکھنا پڑے تو میں کیا کروں گی؟ پرویز رشید نے ضمانت دی کہ جو چاہیں لکھیں، لیکن اب وہ خود ہی وزیر نہیں، ایسی صورت میں کیا ہوتا؟

ازدواجی زندگی کے حوالے سے زاہدہ حنا کہتی ہیں کہ شادی میرا اور جون ایلیا کا انتخاب تھی اور دونوں ہی غلطی پر تھے۔ اہل خانہ اور دوست احباب اس شادی کے خلاف تھے۔ جون کا طرز زندگی جو ہوتا گیا، وہ میں اپنے اور اپنے بچوں کے لیے زہر سمجھتی تھی۔ ہمارے ہاں اونچی آواز میں بات کرنا یا گالی دینایہ بہت بد تہذیبی سمجھی جاتی ہے۔ اور بھی بے شمار باتیں جو میں کرنا ہی نہیں چاہتی۔ جون خلع کے لیے بہ مشکل راضی ہوئے، یہ ناتا 1970 تا1992ءرہا، لیکن 1988ءسے پہلے علیحدگی ہو چکی تھی۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اگر نباہ نہ ہوسکے، تو میاں بیوی کو سلیقے سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ کہتی ہیں کہ خلع سے زیادہ افسوس ناک لوگوں کی ہم دردیاں حاصل کرنے کے لیے جون کا مسلسل اُن کے خلاف بولنا تھا۔ علیحدگی کے بعد تینوں بچے (دو بیٹیاں اور ایک بیٹا) اِن کے ساتھ رہے۔

بیٹے کی اپنے والد سے ملاقات ہوتی تھی، لیکن جب وہ یہ کہنے لگے کہ ’بیٹا پستول دکھا کر پیسے لے جاتا ہے‘ تو اُس نے جانا چھوڑ دیا۔ ٹی وی پر اُن کے انتقال کی خبر آئی، تو بیٹا گیا اور اس نے ہی غسل دیا۔ زاہدہ حنا کی بڑی بیٹی فینانہ شادی کے بعد دبئی میں رہتی ہیں، بیٹے زریون کے بھی دو بچے ہیں، جب کہ چھوٹی بیٹی سحینا پنڈی کے نیشنل کالج آف آرٹس میں پڑھاتی ہیں۔ فینانہ کو وہ عینی آپا (قرة العین حیدر) سے محبت میں عینی کے وزن پر فینی کہتی ہیں۔

نویں جماعت میں ابن صفی سے متاثر ہو کر 400 صفحات کا ایک جاسوسی ناول ’سرخ الو‘ لکھا، جو اُن کی ناخواندہ بوا نے اَن جانے میں ردی میں دے ڈالا۔ اردو نیوز (جدہ) میں 56 قسطوں پر مشتمل ناول ’درد آشوب‘ کی نقل بھی ان کے پاس موجود نہیں۔ کہتی ہیں کہ بہت سی چیزیں لکھتے لکھتے گم ہو جاتی ہیں، پھر بعد میں ملتی ہیں۔ ان دنوں ایک ناول لکھ رہی ہیں، جس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ قحط کس طرح عورت پر ایک بھیانک وبا کی صورت میں نازل ہوتا ہے۔

زاہدہ حنا یہ سمجھتی ہیں کہ اردو پر جتنا احسان پنجاب کا ہے، اور کسی کا نہیں۔ خود کو اہل زبان کہنے والے بھی بہت غلطیاں کرتے ہیں۔ کسی بھی طرف سے ناپسندیدہ باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ گنگا جمنی تہذیب میں رنگی زبان اور روزمرہ کو ترک کرنے کی باتوںکو بھی وہ انتہاپسندانہ قرار دیتی ہیں۔ کہتی ہیں ایسی باتیں کرنے والوں کی وجہ ¿ شہرت بھی اردو ہے۔

زاہدہ حنا غالب ومیر کے کلام کی معترف ہیں۔ والد کے نزدیک قرآن کے بعد کلام اقبال کا مقام تھا، تین سال کی عمر میں مسدس حالی اور اقبال کی شاعری حفظ کرائی گئی۔ نثر میں قرةالعین حیدر کی بڑی مداح ہیں۔ عزیز احمد، عصمت چغتائی، عظیم بیگ چغتائی کی بھی معترف ہیں۔ پڑھنے لکھنے کے علاوہ اور کوئی شوق نہیں۔ ڈی ٹیکٹو، کلاسیکی اور مہم جوئی پر مبنی فلمیں زیادہ دیکھتی ہیں۔ نرگس اور دلیپ کمار وغیرہ کی دل دادہ ہیں۔

کھانے میں یخنی پلاﺅ، ماش کی دال کے دہی بڑے اور چینی پکوان دل لبھاتے ہیں۔ پسندیدہ شخصیت یا ادیب میں کسی ایک کا نام نہیں لے سکتیں۔ کہتی ہیں کہ فلسطینی حریت پسند لیلیٰ خالد نے جس طرح طیارہ اغوا کیا، وہ سب آج دہشت گردی ہے، لیکن میں چوں کہ بھگت سنگھ کو ہیرو سمجھتی ہوں تو لیلیٰ خالد آج بھی میری ہیروئن ہیں۔ لیاقت نیشنل لائبریری کے لائبریرین ابن حسن قیصر کی احسان مند ہیں کہ وہ ان کے لیے اپنے نام پر کتب جاری کرا کے ان کے گھر پر دے جاتے۔

زاہدہ حنا کہتی ہیں کہ ایم کیو ایم اپنا بویا ہوا کاٹ رہی ہے، آج اگر ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو پہلے وہ بھی اس کے مرتکب تھے۔ اگر میں ایم کیوایم کا ساتھ دیتی، تو ممکن ہے سینٹیر یا رکن اسمبلی ہوتی، لیکن یہ سب میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اُن سے بنیادی اختلاف لسانی سیاست پر ہے۔

تصانیف

زاہدہ حنا کے تین ناول’درد کاشجر‘(1981ئ)، ’دردِ آشوب‘(1994ئ) اور ’نہ جنوں رہا نہ پری رہی‘(1995ئ) منصہ ¿ شہود پر آئے۔ افسانوں کی چار کتابوں میں ’قیدی سانس لیتا ہے‘ (1983ئ)، ’راہ میں اجل ہے‘ (1995ئ)، ’تتلیاں ڈھونڈنے والی‘ (2010) اور ’رقص بسمل ہے‘ (2011) شامل ہیں۔ مضامین کے مجموعوں میں ’ضمیر کی آواز‘ (2003ئ)، ’عورت زندگی کا زنداں‘ (2006ئ) اور ’امیدسحر کی بات سنو‘ (2011ئ) شایع ہوئیں۔ ٹی وی ڈراموں میں ’زرد پتوں کا بن‘ (1986ئ)، ’یہ کیسی زندگی‘ (1988)، ’خواب مرتے نہیں‘ (1989ئ)، ’پرستار‘ (1992ئ)، ’دوسری دنیا‘ (1998ئ) اور ’مٹھی بھر خوشی‘ شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کی 14کہانیوں کا انگریزی ترجمہ بہ عنوان “The House of Loneliness” منظر عام پر آیا۔ زاہدہ حنا ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کوآرڈینیٹر برائے خواتین رہیں۔ جامعہ اردو کے سینیٹ اور انجمن ترقی اردو کی گورننگ باڈی کی رکن ہیں۔ فیض ایوارڈ، لٹریری پرفارمنس ایوارڈ، ساغر صدیقی ادبی ایوارڈ، کے آر یو ایوارڈ، سندھ اسپیکر ایوارڈ، سطور ایوارڈ اور سارک ادبی ایوراڈ مل چکے ہیں۔

سرقہ اور چربہ

کچھ برس پہلے زاہدہ حنا کے پاس رباعیات سرمد آئی، جو عاشق لکھنو ¿ی کے اردو ترجمے کا سرقہ تھا، انہوںنے اس پر گرفت کی۔ اسی طرح امرت سر میں ایک ایسا ناول ملا، جو یہاں رشید ندوی کے نام سے شایع ہوا، اس پر انہوں نے کالم لکھا، رشید صاحب نے فرہاد زیدی سے شکایت کی، لیکن انہوں نے کہا کہ میں معافی نہیں مانگوں گی۔ اکادمی ادبیات میں ادبی انعامات کے حوالے سے جج تھیں، تو تب بھی ایک کتاب “The Far Arena” کا چربہ دکھائی دی، تو اسے مقابلے سے خارج کرایا۔ کہتی ہیں بہت سے ادیب ایسا کر رہے ہیں، لیکن سب کو غلط کہنا زیادتی ہوگی۔

’قلم گوید کہ من شاہ جہانم‘

ایک مرتبہ زاہدہ حنا ہندوستان میں ریل میں سوار تھیں، انہوں نے دیکھا کہ کچھ لڑکے لڑکیاں انہیںبار بار دیکھ کر جا رہے ہیں۔ ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی، تو اُن کے ہاتھ میں ہندی اخبار ’بھاسکر‘ تھا ، وہ آئے اور انہوں نے پوچھا کہ آپ ’جاہدہ جی‘ ہیں؟ انہوںنے کہا ہاں، تو وہ بولے ہم اتنی دیر سے آپ کو پہچان رہے تھے، لیکن پوچھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ اس کے بعد وہ ان کے ساتھ تیسرے درجے میں جا کر بیٹھیں اور گھنٹوں ان سے گفتگو رہی۔ وہ لمحہ بے حد مسرت کا تھا۔ کہتی ہیں ابا نے تختی لکھوائی تھی کہ ’قلم گوید کہ من شاہ جہانم‘ آج بھی اس کی اقلیم میں ہوں۔

فہمیدہ لالہ رُخ سے زاہدہ حنا تک

زاہدہ حنا نے پہلا افسانہ ’بچپن کی محبت‘ نو برس کی عمر میں لکھا، جب کہ افسانہ ’فردوس گم شدہ‘ اکتوبر 1963ءمیں ’ہم قلم‘ میں باقاعدہ شایع ہوا۔ اُن کا پیدایشی نام فہمیدہ لالہ رخ تھا، بیمار رہنے لگیں، تو نام زاہدہ بانو ہوا، اسکول میں زاہدہ ابوالخیر درج ہوا۔ جب عصمت چغتائی کو شادی کے بعد نام عصمت شاہد لطیف کرنا پڑا، تو سوچا کہ اُن کا شوہر بھی ایسا نہ کرے، چناں چہ نام ’زاہدہ حنا‘ کرلیا۔ ابا نے بہت دن بعد نام کی تبدیلی قبول کی۔ گھر میں غربت تھی، شکر اور گڑ روٹی پہ گزارا کرتے، لیکن بھرپور دعوت سے کوئی مفلسی کا تصور نہ کر سکتا تھا کہ ہر دعوت کے لیے والدہ کا کوئی زیور بکتا۔ کہتی ہیں کہ لکھنا میرا فرض منصبی نہیں، اندر کی طلب ہے۔ افسانوں پر اپنا نظریہ نہیں تھوپتی۔ نقادوں کو نہیں، اپنی کہانیوں کے سامنے جواب دہ ہوں۔ افسانہ نگاری شوق، جب کہ صحافت، کالم نویسی اور ڈرامے لکھنا ضرورت ہے۔ فیض نے ان کی کہانی کا انگریزی ترجمہ کیا، جسے بڑا اعزاز سمجھتی ہیں۔ تقلید کو تخلیق میں زہر قرار دیتی ہیں۔ ادیبوں کے مسائل کے حل کے لیے ایسی’گلڈ‘ ہونی چاہیے، جس پر سرکار کا سایہ نہ ہو۔ 1970ءکی دہائی میں حکیم محمد سعید نے یونیسکو کا پرچا Courier اردو میں ’پیامی‘ کے نام سے نکالا، اردو میں ایسا پرچا آج تک نہیں نکلا۔ اس کے بند ہونے کا صدمہ آج بھی ہے۔

’بغاوتوں‘ کے سلسلے

زاہدہ حنا کہتی ہیں کہ میں اس بدنصیب تہذیبی گروہ سے تعلق رکھتی ہوں، جس نے شعوری طور پر بغیر کسی فساد کے ترک وطن اور دربہ در ہونے کا فیصلہ کیا، میں اس سے اختلاف رکھتی ہوں۔ کراچی چھوڑنے کے لیے شدید ناسٹلجیا کا شکار ہو جاتی ہوں۔ میرے لیے مالی آسودگی سے زیادہ جذباتی وتہذیبی وابستگیاں اہم ہیں۔ زاہدہ حنا کے دادا محمد یوسف علی کے نانا مرزا دل دار بیگ ایسٹ انڈیا کمپنی فوج کی طرف سے جہلم میں متعین تھے، انہوں نے 1857ءکی جنگ آزادی میں بغاوت کی، جس پر انہیں پھانسی ہوئی، دریائے جہلم کے کنارے ان کا مدفن ’دربارخاکی شاہ‘ ہے۔ والد بھی بغاوت کے الزام میں ڈھائی سال اسیر ہوئے۔ زاہدہ حنا نے فوجی استحصال پر ’بودنبود کا آشوب‘، ’رنگ تمام خوں شدہ‘ اور ’تتلیاں ڈھونڈنے والی‘ شایع ہوئے، تو لاہور کے کچھ ادیبوں نے جنرل ضیاالحق سے کہا کہ اس ’گستاخ عورت‘ کو ملک بدر کیا جائے۔ زاہدہ حنا کہتی ہیں کہ انہوں نے زیور، کپڑے اور گھر کے بہ جائے کتابوں پر خرچ کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔