میئر شپ کے لیے کشمکش

محمد سعید آرائیں  ہفتہ 4 جنوری 2014

سندھ میں جب بلدیاتی انتخابات کے آثار بھی نہیں تھے اس وقت تقریباً ایک سال قبل سے پیپلز پارٹی کے حلقوں اور رہنماؤں فیصل رضا عابدی اور عبدالقادر پٹیل نے کہنا شروع کردیا تھا کہ کراچی کا آیندہ میئر ہمارا ہوگا۔ ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا ریکارڈ رکھنے والی پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات سے کوئی دلچسپی ماضی میں تھی نہ اب ہے۔ سپریم کورٹ کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو مجبور ہونا پڑا اور سندھ حکومت اپنی ہی دی گئی تاریخوں سے منحرف ہونے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہی مگر الیکشن کمیشن نہ مانا اور اب 18 جنوری کو سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا امکان یقینی ہوگیا ہے مگر التوا بھی ممکن ہے ۔

سندھ کے لیے پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی اکثریت اور من مانیوں سے جو بلدیاتی نظام منظور کروایا ہے اس میں بھی پی پی حکومت آرڈینینسوں کے ذریعے ترامیم کراتی رہی اور یہ ترامیم بھی حکومت نے منصوبے کے تحت اپنے اسپیکر کے قائم مقام گورنر ہونے کے دوران کرائیں اور اب اسپیکر نے کہا ہے کہ اسمبلی سے منظوری کے بعد ایکٹ بل بن چکا ہے۔ سندھ کے لیے جو بلدیاتی نظام پی پی حکومت نے دیا ہے وہ اتنا لولا لنگڑا اور بے اختیار نہیں ہے اور اسی لیے ملک کی بعض پارٹیوں جن میں متحدہ، جماعت اسلامی، فنکشنل لیگ، مسلم لیگ (ن) بھی شامل ہیں نے عدالتوں میں ان بلدیاتی قوانین کو چیلنج کر رکھا تھا۔جسے حال میں سندھ ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا ہے ۔

پی پی کے بانی کو پھانسی دینے والے جنرل ضیا الحق کا 1979 کا بلدیاتی انتخابات کا نظام اس قدر پسند ہے کہ پی پی نے 1988 میں اقتدار میں آکر تو اسے قبول نہیں کیا تھا مگر 2001 میں جنرل پرویز مشرف کے بااختیار بلدیاتی نظام کو ختم کرنے کی کوشش پی پی نے 2008 ہی میں شروع کردی تھی مگر آئینی پابندی کے باعث پی پی حکومت ناظمین کو نہ ہٹا سکی اور 2010 میں پابندی ختم ہونے کے بعد پی پی حکومت نے سرکاری ایڈمنسٹریٹروں کو مسلط کرنا ضروری سمجھا مگر آئینی ضرورت کے تحت بلدیاتی انتخابات کرانے سے مکمل گریز کیا۔ پی پی حکومت کے گزشتہ 5 سالوں میں بلدیاتی نظام اس قدر تباہی کا شکار سندھ کے سوا کسی اور صوبے میں نہیں ہوا۔ پی پی حکومت نے 2010 کے بعد سرکاری افسروں کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کرکے بلدیاتی اداروں کے فنڈ خود استعمال کیے۔ بلدیاتی اداروں میں اضافی اور غیر ضروری طور پر جیالوں کو بھرتی کرکے بلدیاتی اداروں کی یہ حالت کردی کہ وہ اپنے عملے کوتنخواہوں کے قابل بھی نہیں رہے اور سندھ بھر میں بلدیاتی ملازمین کو مذہبی تہواروں پر بھی تنخواہیں نہیں ملیں۔ ہر جگہ احتجاج اور ہڑتالیں ہوئیں اور ماہ رواں کے دوران مسیحی ملازمین کو کرسمس پر تنخواہیں بھی عدالتی حکم پر دی گئیں۔

گزشتہ دنوں سندھ کے بلدیاتی اداروں میں پی پی دور ہی میں بھرتی کیے گئے 12 ہزار نئے ملازمین کی برطرفی کا حکم بھی جاری ہوا مگر احتجاج کے باعث فیصلہ منسوخ کرنا پڑا۔ پی پی کی سندھ کی دونوں حکومتوں کے ساڑھے پانچ سالوں میں شدید مالی بحران کے باعث بلدیاتی ادارے مفلوج کر دیے گئے جس سے صفائی کا فقدان اب تک شدید ہے۔ تعمیری و ترقیاتی کام بری طرح متاثر رہے اور مالی طور پر کراچی کی بلدیہ عظمیٰ سب سے مضبوط تھی جو کراچی میں جاری چند اوور ہیڈ برجز کے منصوبے بھی مقررہ وقت میں مکمل نہیں کراسکی ہے۔

ناظمین کے دور میں پی پی کے بعض وزرا نے ضلعی حکومتوں اور بااختیار ناظمین کے عہدوں سے بھی نفرت کا اظہار کیا تھا اور اب سندھ کو ایک کمزور اور محدود اختیارات کا حامل بلدیاتی نظام دیا گیا ہے۔ پہلے اس نظام کے تحت پانچ میونسپل کارپوریشنوں اور ایک ضلع کونسل کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا جس میں کراچی کی میئر شپ پیپلز پارٹی کو ملنے کا کوئی بھی امکان نہیں تھا۔ میئر شپ کا حصول یقینی بنانے کے لیے سندھ حکومت نئے نئے فیصلے کرتی رہی اور کراچی میں تین سو کے قریب یونین کمیٹیاں اور یونین کونسلیں قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ کراچی میں کورنگی کو بھی ضلع کا درجہ دے کر ڈی ایم سیز کی تعداد چھ کردی گئی ہے جب کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر کا انتخاب یونین کمیٹیاں اور یونین کونسلیں کریں گے، کراچی میں پہلی بار یونین کمیٹیوں اور یونین کونسلوں میں امتیاز برتا گیا ہے۔ دیہی یونین کمیٹیوں اور شہری یونین کمیٹیوں میں آبادی کا فرق بہت نمایاں ہے۔ دیہی یونین کمیٹی صرف 12 ہزار افراد پر مشتمل ہے جب کہ شہری یوسی پچاس ہزار آبادی پر بنائی گئی ہے تاکہ دیہی یوسیز کے ووٹوں کے ذریعے بلدیہ عظمیٰ کی میئر شپ پی پی کو حاصل ہوسکے۔

کراچی میں سب سے کم مینڈیٹ پی پی کو حاصل ہے جس کے صرف ایک رکن قومی اسمبلی اور تین صوبائی اسمبلی کے ارکان ہیں اور ماضی میں اتنا کم مینڈیٹ کبھی پی پی کو نہیں ملا۔ کراچی کے اطراف دیہی علاقوں سے ہمیشہ پی پی کو مینڈیٹ ملتا رہا ہے مگر 2013 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اپنے آبائی حلقوں کے دفاع میں بھی ناکام رہی۔ ضلعی حکومتوں میں بھی لیاری، گڈاپ اور بن قاسم ٹاؤنز میں پی پی کے ناظمین منتخب ہوتے رہے اور کراچی کو 6 ضلعوں میں تقسیم کرنے کے بعد پیپلز پارٹی کا منصوبہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ساتھ ضلع ساؤتھ، ضلع ملیر اور ضلع کورنگی کی میونسپل کارپوریشنوں کی میئر شپ حاصل کرنے کا ہے۔

کراچی میں متحدہ کے لیے بھی بلدیاتی صورتحال یکسر مختلف ہے۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی مل کر متحدہ کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی پوزیشن حاصل کرچکی ہیں۔ پی پی کے ساتھ اے این پی ہے جب کہ دیگر جماعتیں مسلم لیگ(ن)، فنکشنل لیگ، جے یو آئی، جے یو پی، سنی تحریک بھی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں جن کے امیدوار ممکن ہے مل کر متحدہ کا مقابلہ کریں۔

پیپلز پارٹی پر الزام لگتا رہا ہے کہ اس نے کبھی کراچی کو اپنا نہیں سمجھا۔ کراچی میں لیاری اور دیہی علاقوں کو پی پی حکومت میں اہمیت اور فنڈ ملے مگر کراچی کے شہری علاقوں کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں کا سا سلوک کیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے ماضی میں لگے اپنی حکومتوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ کراچی کی ترقی پر کبھی توجہ دی نہ کوئی خصوصی ترقیاتی پیکیج پی پی دور میں کراچی کو ملا جس کی وجہ سے کراچی کے عوام کی اکثریت ہمیشہ پی پی سے دور رہی۔ ایسے حالات میں کراچی کی میئر شپ کا حصول پی پی کے لیے ممکن تو نہیں ہاں اگر حکومتی وسائل سے ایسی کوئی کوشش ہوئی تو اس کا نتیجہ کراچی کے مستقبل کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔