پنجاب کے چڑیا گھروں میں سفید ٹائیگر کے بچوں کی شرح اموات میں کمی کیلیے اہم فیصلے

آصف محمود  ہفتہ 6 فروری 2021
لاہور چڑیا گھر میں 30 جنوری کو سفید ٹائیگر کے 2 بچے ڈائریا اورانفیکشن کی وجہ سے دم توڑ گئے تھے فوٹو: فائل

لاہور چڑیا گھر میں 30 جنوری کو سفید ٹائیگر کے 2 بچے ڈائریا اورانفیکشن کی وجہ سے دم توڑ گئے تھے فوٹو: فائل

 لاہور: محکمہ جنگلی حیات پنجاب نے چڑیا گھروں اوربریڈنگ سینٹرز میں شیراورٹائیگر کے نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں کمی لانے کے لیےجدید طبی سہولتوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔

لاہور چڑیا گھر میں 15 سال بعد پیدا ہونے والے سفید ٹائیگر کے 2 بچوں کی موت کے بعد پنجاب وائلڈ لائف نے صوبے بھر کی چڑیا گھروں اور بریڈنگ سینٹر میں جنگلی جانوروں کو مہیا کی جانے والی طبی سہولتوں کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور چڑیا گھر میں 30 جنوری کو سفید ٹائیگر کے 2 بچے ڈائریا اورانفیکشن کی وجہ سے دم توڑ گئے تھے۔ گزشتہ سال نومبر میں لاہور چڑیا گھر کی سفید شیرنی کے ہاں 15 سال بعد تین بچے پیداہوئے تھے۔ ان میں ایک بچہ پیدائش کے چندگھنٹوں بعد ہی دم توڑ گیا تھا جبکہ باقی دوبچوں کو بھی ان کی ماں نے قبول نہیں کیا تھا ۔ ٹائیگرکے ان نوزائیدہ بچوں کی مصنوعی دودھ اورخوراک پر پرورش کی جارہی تھی۔

لاہورچڑیاگھرکی ڈپٹی ڈائریکٹر کرن سلیم نے بتایا کہ ٹائیگرکے نوزائیدہ بچے ڈائریا کا شکار ہوگئے تھے،ان کا علاج کیاجارہا تھا جبکہ ان کی خوراک میں بھی تبدیلی لائی گئی تھی۔ تاہم 29 جنوری کو ڈائریا کے ساتھ پیچیش شروع ہوگئے اورانہیں خون آناشروع ہوگیا تھا جس سے دونوں بچوں کی موت ہوگئی۔ اس وقت لاہور چڑیا گھر میں سفید ٹائیگرزکی تعداد 7 ہے جن میں 2 مادہ اور 5 نرہیں ان کے علاوہ 2 نر براؤن ٹائیگر ہیں۔

ویٹرنری ماہرین کے مطابق بگ کیٹس میں اپنے نوزائیدہ بچوں کو پیدائش کے بعد قبول نہ کرنامعمول کی بات ہے۔ دنیابھرکے ویٹرنری ماہرین ابھی تک ماں کی طرف سے اپنے نوزائیدہ بچے کو قبول نہ کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ توتلاش نہیں کرسکے ہیں تاہم لاہور چڑیا گھر کی ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر وردہ کا کہنا ہے اس کی کئی ایک وجوہات ہوتی ہیں۔ ایسی بگ کیٹس جو پہلی بارماں بنتی ہیں انہیں بچے کو سنبھالنے کی سمجھ نہیں ہوتی اور وہ انہیں قبول نہیں کرتی ہیں، اسی طرح ڈلیوری کے دوران کسی پچیدگی اورتکلیف کی وجہ سے بھی ماں اپنے نوزائیدہ بچے کوقبول نہیں کرتیں، اس کے علاوہ بعض اوقات ان میں بچوں کو فیڈکے لئے دودھ پیدانہیں ہوتا ہے ،ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگرپیدائش کے بچے شیریاٹائیگرکے بچے کو انسان پکڑلیں توایسے بچوں کو پھردوبارہ مائیں قبول نہیں کرتی ہیں
ماہرین کے مطابق ایسے بچے جن کوان کی مائیں قبول نہیں کرتیں اوران کومصنوعی خوراک کے ذریعے پرورش کی جاتی ہیں ایسے بچے قوت مدافعلت کم ہونے کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔

سینیئرویٹرنری آفیسرڈاکٹربابر نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے بچوں کے بچنے کی شرح 80 سے 85 فیصد تک ہے تاہم پاکستان میں یہ شرح 25 سے 30 فیصد تک ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جنگلی جانوروں کے نوزائیدہ بچوں کے لئے معیاری خوراک کی کمی، ڈاکٹروں اور کئیرٹیکرزکا غیرتربیت یافتہ ہونا اورجدیدطبی سہولیات کا فقدان ہے۔ جوچند بچے بچ پاتے ہیں تاہم اس کے باوجود ہمارے ڈاکٹردستیاب وسائل کوبروئے کارلاتے ہوئے ان بچوں کی پرورش کی کوشش کرتے ہیں جس میں بعض اوقات ناکام بھی ہوجاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔