کوچ ناقص پرفارم کرنے والے بولرز کی ڈھال بن گئے

اسپورٹس ڈیسک  ہفتہ 4 جنوری 2014
ان کا کہنا ہے بولنگ ڈپارٹمنٹ کی پرفارمنس اچھی تھی،آئی لینڈرزنے بہترین بیٹنگ سے حربے ناکام بنا دیے، فوٹو: فائل

ان کا کہنا ہے بولنگ ڈپارٹمنٹ کی پرفارمنس اچھی تھی،آئی لینڈرزنے بہترین بیٹنگ سے حربے ناکام بنا دیے، فوٹو: فائل

ابوظبی: کوچ محمد اکرم ناقص پرفارم کرنے والے بولرز کی ڈھال بن گئے، وہ پورے دن میں ایک وکٹ حاصل کرنے والوں کا دفاع کرنے لگے۔

ان کا کہنا ہے بولنگ ڈپارٹمنٹ کی پرفارمنس اچھی تھی،آئی لینڈرزنے بہترین بیٹنگ سے حربے ناکام بنا دیے،فتح کی امیدیں ختم نہیں ہوئیں۔ سری لنکن نائب کپتان چندیمل نے کہا کہ انجیلو میتھیوز کی ذمہ دارانہ اننگز نے میچ کا نقشہ بدلا،نتیجہ اپنے حق میں کرنے کیلیے300رنز کا ہدف کافی ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پورے دن میں ایک وکٹ حاصل کرنے کے باوجود کوچ محمد اکرم بولرز کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، انھوں نے کہا کہ بولنگ لائن نے 100 فیصد پرفارمنس کا مظاہرہ کیا لیکن میتھیوز اور چندیمل نے بہت عمدہ بیٹنگ کی،انھوں نے کہا کہ ابوظبی کی پچ اس وقت بھی ٹیسٹ کرکٹ کیلیے بہترین  ہے، اگر کوئی استقامت دکھائے تو رنز بنا سکتا ہے، بولرز نے اپنی صلاحیتوں کا عمدگی سے استعمال اور تینوں سیشنز میں ایک اینڈ سے رنز روکے اور دوسرے سے اٹیک کیا، ایسی پچ پر جو حکمت عملی ہونا چاہیے تھی وہی ہم نے اختیار کی، اس سے بہتر کیا کرسکتے تھے؟

 photo 1_zpsf2c5ce65.jpg

محمد اکرم نے کہا کہ پاکستان کیلیے فتح کی امیدیں ختم نہیں ہوئیں، آخری روز پہلے سیشن میں جلد وکٹیں لینے یا آئی لینڈرز کے اننگز ڈیکلیئرڈ کرنے کی صورت میں ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ون ڈے سیریز میں بھرپور فارم میں نظر آنے والے بیٹسمین میزبان ٹیم کو فتح دلانے کے اہل ہیں۔دوسری طرف سری لنکن نائب کپتان چندیمل نے کہا کہ میتھیوز کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے میچ کا نقشہ بدلا،انھوں نے مشکل وقت میں اہم اننگز کھیلی، ہفتے کو بھی کپتان توجہ کا مرکز ہوںگے، پچ میں تھوڑی اسپن نظر آرہی ہے،تیسرے اور چوتھے روز کچھ گیندیں کافی سست رفتاری سے آئیں،آخری روز بیٹسمینوں کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے،اگر300رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ نتیجہ ہمارے حق میںکرنے کیلیے کافی ہوں گے۔انھوں نے سنچری سے11رنز قبل ہمت ہارنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں ٹیم کے کام آنے پر خوش ہوں تاہم اس موقع پر وکٹ نہیں گنوانا چاہیے تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔