گلگت کی سوغات: مزیدار اور خوش ذائقہ کیلاؤ

راضیہ سید  منگل 9 فروری 2021
اس اخروٹ والی چاکلیٹ ’’کیلاؤ‘‘ کی تیاری ایک دقت طلب کام ہے۔ (فوٹو: فائل)

اس اخروٹ والی چاکلیٹ ’’کیلاؤ‘‘ کی تیاری ایک دقت طلب کام ہے۔ (فوٹو: فائل)

سرد ہوائیں چلیں اور پھر بوندا باندی ہو تو ایسے میں خشک میوہ جات کا استعمال موسم سرما کی خوبصورتی کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔ کاجو، اخروٹ، مونگ پھلی، چلغوزے، خوبانی، پستہ اور دیگر ڈرائی فروٹ سردیوں کے یخ بستہ موسم میں جسم کو حرارت اور ضروری غذائیت پہنچانے کے ساتھ ساتھ موسم کے لطف کو دوبالا کردیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں گلگت میں رہائش پذیر ہمارے ایک عزیز نے ہمیں اخروٹ کی ایسی ڈش کھلائی کہ باقی ڈرائی فروٹس ہمیں نارمل سے لگنے لگے۔ یہ اخروٹ کی ڈش جنہیں عام فہم زبان میں، میں نے تو اخروٹ والی چاکلیٹ ہی کہا، تاہم اسے مقامی زبان میں ’’کیلاؤ‘‘ یا ’’کلائیو‘‘ کہا جاتا ہے۔

کیلاؤ نام کی یہ ڈش دراصل گلگت بلتستان کے علاقے کی خاص سوغات اور وہاں کا منفرد ڈرائی فروٹ کہلایا جاسکتا ہے۔ اس اخروٹی چاکلیٹ کو بنانے کےلیے گلگت کے عوام بہت محنت کرتے ہیں۔ کم اور ناکافی وسائل ہونے کے باوجود یہ محنت طلب کام ان کی روزی روٹی کا ایک باوقار ذریعہ ہے۔ ہمارے انکل گلگت سے آتے ہوئے ہم سب اہل خانہ کےلیے بطور خاص یہ تحفہ لے کر آئے۔ لیکن کھانے سے پہلے ہی ہماری لکھنے کی رگ پھڑک اٹھی اور المختصر کیلاؤ کی تیاری کی سب کہانی سننے کے بعد میں نے چاہا کہ فوراً اسے تحریر کر ڈالوں۔

کیلاؤ شمالی علاقہ جات کی ایک ایسی سوغات ہے، جسے بنایا تو جاتا ہے لیکن محدود تعداد میں۔ کیونکہ اسے بنانا دقت طلب کام ہے۔ اس کی تیاری کا پہلا مرحلہ جس میں خوبانی اور اخروٹ کی گریاں الگ کرلی جاتی ہیں (یہ دو مختلف ڈرائی فروٹ یعنی خوبانی اور اخروٹ سے الگ الگ بنایا جاتا ہے) لیکن اپنے ذائقے کی وجہ سے اخروٹ کا میٹھا زیادہ پسند کیا جاتا ہے، لہٰذا اخروٹ والی چاکلیٹ زیادہ تعداد میں بنائی جاتی ہے۔

گریوں کو الگ کرنے کے بعد مضبوط دھاگوں میں، جس کی لمبائی کم ازکم اتنی ہوتی ہے کہ اس پر ایک کلو اخروٹ آسکیں، اسے پرو لیا جاتا ہے۔ یہ سب کام خواتین کرتی ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ گریاں پروئی جاتی ہیں، وہیں دوسری جانب کالے انگور، جو گلگت میں بکثرت پائے جاتے ہیں، کا رس نکال کر ایک دیگچے پر کچھ پانی ڈال کر پکنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔

انگور کے اس رس کو دس سے بارہ گھنٹے تک مسلسل پکایا جاتا ہے۔ جب وہ گاڑھا ہونے لگے تو اس میں تھوڑی سی دارچینی، آٹا اور شہتوت کا رس ملا کر پھر سے پکا کر مطلوبہ محلول بنالیا جاتا ہے۔ محلول بنانے کے بعد دھاگوں میں پروئے ڈرائی فروٹس کو لکڑی کے ہلکے بانسوں پر رکھ کر محلول میں اچھی طرح ڈبو دیا جاتا ہے تاکہ انگور کا رس اچھے طریقے سے ہر دانے پر لگ جائے۔ پھر انھیں دھوپ میں سکھا دیا جاتا ہے۔

گلگت میں چونکہ موسم اکثر شدید سرد ہوتا ہے تو ان خشک میوہ جات کو سوکھنے میں کم ازکم ایک یا دو ہفتے کا وقت لگ جاتا ہے۔ کیلاؤ تیار ہونے، یعنی خشک ہونے کے بعد انھیں کپڑوں کے تھیلوں میں رکھا جاتا ہے، اور بعد ازاں کاغذ کے پیکٹس میں بازار میں بیچنے کےلیے بھیج دیا جاتا ہے۔

کیلاؤ گلگت بلتستان کے عوام کےلیے ایک گھریلو صعنت بن کر رہ گیا ہے۔ یہ قیمت میں کافی مہنگا ہوتا ہے لیکن کم ازکم چلغوزوں کے مقابلے میں سستا ہے۔ یہ کیلاؤ فی کلو دو سے ڈھائی ہزار تک مل جاتا ہے۔ نہایت خوش ذائقہ اور لذیذ ہوتا ہے۔ سردی کے موسم میں یہ کھایا بھی خوب جاتا ہے لیکن اس کی تیاری کےلیے مقامی افراد کے پاس کوئی ٹیکنالوجی اور دیگر سامان میسر نہیں ہوتا۔ زیادہ تر کام ہاتھوں سے ہی کیا جاتا ہے۔

گلگت بلتستان میں خشک میوہ جات وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ کیلاؤ کی بڑے پیمانے پر تیاری کرکے مقامی آبادی کی حالت کو سدھارنے کے عملی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راضیہ سید

راضیہ سید

بلاگر نے جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات سے ایم اے کیا ہوا ہے اور گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت سے بطور پروڈیوسر، رپورٹر اور محقق وابستہ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔