معاملہ لڑکیوں کی شادی کا

شائستہ سعید  منگل 9 فروری 2021
اخبارات میں ضرورت رشتہ کے کالم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں، لیکن وہ لوگ صرف نشان دہی کر دیتے ہیں۔ فوٹو : فائل

اخبارات میں ضرورت رشتہ کے کالم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں، لیکن وہ لوگ صرف نشان دہی کر دیتے ہیں۔ فوٹو : فائل

صبیحہ میری بچپن کی دوست تھی، اس کے بھائی بھابی امریکا سے آئے ہوئے تھے۔ ہم نے ان لوگوں کو کھانے پر بلایا۔ ان کے ساتھ پیاری سی بیٹی نتاشا تھی، جو اگرچہ بہت زیادہ خوب صورت تو نہ تھی، لیکن دیکھنے میں پیاری لگتی تھی۔

سانولی سلونی رنگت، لمبا قد پھر قاعدے سلیقے سے پہنے اوڑھے ہوئے تھی۔ میں نے اس سے پوچھا ’ تم پڑھتی ہو‘ اس نے بتایا کہ ’بی ایس کر لیا ہے، دو سال سے ایک کمپنی میں جاب کر رہی ہوں۔‘

میں نے بھابی سے مزاحاً پوچھا ’ نتاشا کی شادی کب کر رہی ہو۔۔۔؟‘ بھابھی ایک دم سنجیدہ ہوکر بولیں ’بھئی کوئی اچھا رشتہ بتاؤ، ہم تو فوراً تیار ہیں۔‘ صبیحہ نے میرے کان میں سرگوشی کی’اسی لیے تو لائی ہوں۔‘ میں نے کہا ’ بھابھی آپ ہیوسٹن میں رہ رہی ہیں، وہاں تو پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔‘ بھابی نے جواب دیا’ وہاں شادیاں مشکل سے چلتی ہیں۔‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا ’ آخر کیا وجوہ ہوتی ہیں۔‘

بھابی سنجیدہ ہو کر بولیں۔ ’بھئی ہمارے ایک دوست کی بیٹی کا رشتہ اس لیے ٹوٹا کہ لڑکا اور لڑکی بہت ’امریکن‘ ہوگئے تھے۔ ماں باپ کو پیچھے چھوڑ کر سب کچھ خود ہی طے کرلیا۔ آخر پاکستانی ماں باپ تھے، انھیں یہ بات بالکل پسند نہ آئی۔ لہٰذا آپس میں غلط فہمیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں اور آخر کار رشتہ ٹوٹ گیا۔ ایک ہماری ڈاکٹر دوست ہیں، جن کے شوہر بھی ڈاکٹر ہیں۔ دونوں میاں بیوی نیویارک میں لاکھوں ڈالر کما رہے ہیں۔

ان کی ایک ہی بیٹی ہے، بہت دھوم دھام سے بالکل پاکستانی انداز کی زور دار شادی کی، خوب جہیز دیا۔ لڑکا ابھی ایم ایس کر کے نمٹا تھا، جاب نئی تھی، چھوٹا سا اپارٹمنٹ لے کر رہ رہا تھا۔ لڑکی کے ماں باپ اس کو بے چارہ سمجھ کر ہر چھوٹی بڑی چیز دیے جا رہے تھے۔ چھے ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ لڑکا اس صورت حال سے تنگ آگیا۔ اس نے لڑکی کو منع کیا کہ ہر وقت اپنے ماں باپ سے چیزیں نہ لیا کرو، لیکن لڑکی شاید اس پر تیار نہ ہوئی ایک دم ہی سنا کہ طلاق ہوگئی۔ بہن ایک قصہ ہو تو سناؤں، وہاں تو آج کل ’قیامت‘ سی مچی ہوئی ہے۔ دھوم دھام سے شادیاں ہوتی ہیں اور پھر چند ہی مہینے میں طلاق کا سن لو۔ لہٰذا ہم نے سوچا ہم اپنی بیٹی کو پاکستان لے کر جائیں گے اور وہیں اس کا رشتہ کریں گے۔‘

میں نے قدرے متعجب ہو کر پوچھا ’ آپ کی لڑکی یہاں پرورش پائے ہوئے لڑکے سے نباہ کرلے گی؟‘

بھابی سکون سے بولیں ’اسی لیے تو ہم ہر دو سال بعد بچوں کو پاکستان لاتے رہتے ہیں کہ اپنے ماحول سے واقف رہیں، اپنے رشتہ داروں کو جانیں اور سچی بات ہے میری بچیوں کا تو امریکا سے کہیں زیادہ پاکستان میں اپنے رشتہ داروں میں دل لگتا ہے۔ وہاں تو مستقل یہ انتظار ہی رہتا ہے کب پاکستان جائیں۔ ہم امریکیوں سے بچوں کو ملنے نہیں دیتے۔ بس اسکول کالج وغیرہ میں جو ساتھ ہوتا ہے وہی ہوتا ہے۔ گھر پر تو آنا جانا ہوتا نہیں۔ شادی بیاہ میں اگر ان لوگوں کو مدعو کر لیا جاتا ہے، تو وہ بہت حیران ہوتے ہیں۔‘ میں نے بھابی کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔’ویسے بھابی اب ہماری نسل اپنے کلچر پر شرم سار بھی تو نہیں ہے۔ ہمارے بچے ہم لوگوں کی طرح انگریز یا امریکیوں سے اس طرح مرعوب بھی تو نہیں ہوتے۔ ان کے اندر غلامی کے اثرات باقی نہیں ہیں۔‘

بھابی سنجیدہ ہوکر بولیں ’بھئی وہاں کی پرورش پائی ہوئی لڑکی تو شادیوں کے معاملے میں دُہری مشکل میں ہے۔ ایک ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں ان کے لڑکے کا پرسوں نتاشا کے لیے رشتہ آیا۔ لڑکے کے ابا تمھارے بھائی سے کہنے لگے۔ ’آپ کا ماحول تو بہت ماڈرن ہوگا۔‘ ادھر لڑکے کی والدہ مجھ سے پوچھنے لگیں۔ ’آپ تو اکثر پاکستان آتی ہیں، تو وہاں جوان بچی اکیلی رہتی ہوگی۔‘ بھلا بتاؤ باپ کے ساتھ کوئی اکیلا ہوتا ہے۔ لڑکیاں کیا یہاں اکیلی اسکول کالج نہیں جاتیں۔ مگر لوگ کہاں یقین کرتے ہیں۔ ہم دوسرے ماحول میں بچے پال رہے ہیں ہمیں کتنی سختی کرنا پڑتی ہوگی۔ ہم تو یہاں سے زیادہ اپنا کلچر، عقیدے، عقائد بچوں کو بتاتے ہیں اور ان پر عمل بھی کراتے ہیں۔‘

امریکا انگلستان میں جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد موجود ہے، وہاں اب لوگوں نے شادی کرانے کی سروس بھی شروع کر دی ہے۔ خواتین اور بعض دفعہ مرد بھی اکثر ٹیلی فون کے ذریعہ رشتے کرانے کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ہمارے یہاں شکر ہے کہ اس معاملے میں لوگ ٹیلی فون پر اعتبار نہیں کرتے، ورنہ کبھی کوئی رشتہ نہ طے ہو پاتا کیوں کہ اکثر ٹیلی فون خراب ہی رہتے ہیں۔ ہمارے یہاں شادی کرانے کے دفتر ضرورت سے بہت کم نظر آتے ہیں۔ جتنی لڑکیاں لڑکے شادی کے لائق نظر آتے ہیں اس لحاظ سے یہ سروس بہت کم ہے۔

اکثر والدین ان دفاتر میں جانے سے کتراتے بھی ہیں۔ اپنے لڑکے کے لیے رشتہ تلاش کرنا بہت عزت کی بات ہے، لیکن اپنی لڑکی کے لیے رشتہ تلاش کرنا آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ آج کل کے حالات کے پیش نظر جب شہروں میں خاندان اس طرح بکھر گئے ہیں اور آبائی سلسلے شہروں کی حد تک ختم ہوتے جا رہے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ شادی دفتر ہر محلے میں کھولے جائیں۔ بعض برادریوں میں پرانے زمانے کی نائنیں، اب بیچ والی کے نام سے رشتے کرانے کا کام انجام دیتی ہیں، لیکن ایسی عورتوں کی تعداد بھی بہت کم ہے جو بڑھانے کی بہت ضرورت ہے اور پھر معاشرے میں یہ بات معیوب سمجھی جاتی ہے کہ اپنی لڑکی کے رشتے کے بارے میں ماں باپ زبان کھولیں، اس بات کو بھی اب ختم کرنا چاہیے۔

ہمارے معاشرے میں لڑکی اور لڑکے کا رشتہ طے کرنے میں بڑے مسائل حائل ہیں۔ ذات پات، برادری، نسل اس موقع پر ہر چیز سامنے لائی جاتی ہے۔ ایک طرف ہر لڑکے کی ماں حسین ترین اور مال دار گھرانے کی بہو لانے کی جستجو میں لگی رہتی ہے۔ نباہ ہو نہ ہو یہ معاملہ شادی کے بعد خود لڑکا یا لڑکی طے کریں۔ لڑکے کی ماں بہنیں اپنے ارمان پورے کرنے کی فکر میں رہتی ہیں، لیکن لڑکی کے ماں باپ اور بہن بھائی کسی ارمان کے حق دار نہیں۔

امریکا میں جہاں ہر قسم کی آزادی ہے اور لڑکا لڑکی دونوں کے ماں باپ اس ذمہ داری سے بری الذمہ ہوتے ہیں کہ ان کی اولاد کی شادیاں کہاں ہوں کب ہوں حتیٰ کہ کیسے ہوں، مگر اب وہاں بھی اب شادی کے دفاتر کھل رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک خاتون نے نیویارک کے ایک بارونق ، مصروف ترین اور مہنگے علاقے میں ’شادی دفتر‘ کھولا، جس میں وہ شادی کے خواہش مند لڑکا یا لڑکی دونوں سے 500 ڈالر فیس لیتی ہیں اور رشتہ اس طرح طے کراتی ہیں کہ پہلے کمپیوٹر کے ذریعے ان کے تمام کوائف معلوم کرتی ہیں، پھر ضرورت کے مطابق رشتہ مہیا کرتی ہیں۔

جب دونوں فریق اس رشتے پر راضی نظر آتے ہیں، تو پھر دونوں کے لیے ایک بہت اچھے ہوٹل میں کھانے کا انتظام کرتی ہیں، تاکہ دونوں ایک دوسرے سے مل کر تمام معلومات حاصل کر لیں۔ اس طرح کی کئی ملاقاتوں کے بعد لڑکا اور لڑکی کی رضا مندی کے بعد ان کی شادی کرا دیتی ہیں۔ ضرورت رشتہ کا یہ ادارہ اس قدر مقبول ہو رہا ہے کہ ایک سال کے عرصے میں لاس اینجلس، شکاگو اور دوسرے بڑے شہروں میں اس کی شاخیں کھل رہی ہیں اور فیس بھی دوگنی کر دی گئی ہے۔ کمپیوٹر کے ذریعے دولھا دلہن رشتہ ازدواج میں منسلک ہو رہے ہیں۔

ہمارے یہاں لڑکی یا لڑکے کی شادی کا مسئلہ شدید صورت اختیار کر رہا ہے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں نیک جذبات کے ساتھ شریک ہوں۔ ہمارے یہاں یوں بھی کسی کا رشتہ طے کرانا کارِ خیر سمجھا جاتاہے۔ اخبارات میں ضرورت رشتہ کے کالم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں، لیکن وہ لوگ صرف نشان دہی کر دیتے ہیں۔ یہاں ضرورت نشان دہی سے آگے کی ہے، کیوں کہ اپنے قریبی رشتہ داروں میں بھی رشتہ طے کرتے وقت لڑکا اور لڑکی دونوں کے بارے میں معلومات ضرور فراہم کی جاتی ہے، جو لڑکی اور لڑکے والوں کا حق بھی ہے۔

ہمارے یہاں جس رفتار سے شادی ہال بڑھ رہے ہیں، تقریباً اسی رفتار سے یا شاید اس سے بھی زیادہ ’شادی دفتر‘ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ جن میں سنجیدہ اور متین لوگ کام کریں۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی ’شادی دفاتر‘ بہت کم نظر آتے ہیں۔ جہاں لوگ تندہی سے کام کر رہے ہوں۔ اس معاملے میں عورتوں کو ایک خاص ڈھب بھی ہوتا ہے اور چند یہ کام کر بھی رہی ہیں، لیکن زیادہ سے زیادہ عورتوں کو اس میدان میں آگے آنا چاہیے، بعض رفاحی ادارے بھی یہ کام کرتے ہیں، لیکن اس کی کارکردگی اور تعداد میں اضافہ ضروری ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔