کھجلی والوں کوکہاں روک سکاہے کوئی

سعد اللہ جان برق  بدھ 10 فروری 2021
barq@email.com

[email protected]

پہلے ایک لطیفہ ولدکثیفہ سنیے۔ایک بیوی اپنے شوہرپر منہ کی توپ کھولے، دھنادھن چل رہی ہے، اچانک اس ریپڈفائرنگ میں تھوڑاسا وقفہ آیا تو شوہرنے کہاکہ ’’میری بات تو سنو‘‘۔اس پربیوی نے کہا، ’’اب تک میںنے تمہاری کوئی بات سنی ہے‘‘؟شوہرنے کہا ’’نہیں‘‘۔ بیوی بولی ’’توپھرکیوں اپنی زبان کوتکلیف دیتے ہو؟‘‘

کچھ ایسی ہی حالت ہماری بھی ہے۔ ہمیں بھی اچھی طرح پتہ ہے کہ نہ کبھی کسی نے ہماری بات سنی ہے، نہ کوئی سنتاہے نہ سنے گا۔لیکن پھر بھی بولے جارہے ہیں، بولے جارہے ہیں۔ آخرکیوں؟وجہ وہی ہے جوہم ایک ہزار ایک سو ایک باربتاچکے ہیں کہ آخرکھجلی توکھجلی ہوتی ہے۔ نہ کھجائیں تو لاچارکیاکریں؟کھجلی دار کیا کریں اورمنہ کی بواسیرکے بیمارکیاکریں۔

ہماری جان پہ بھاری تھاغم کا افسانہ

سنی نہ بات کسی نے تو مرگئے چپ چاپ

لیکن جب تک زندہ ہیں اورشرمندہ بھی نہیں تو کھجلی توکریں گے۔اب یہ جوہورہاہے،ہرکوئی کچھ نہ کچھ ’’بو‘‘رہاہے، دھررہاہے،یاسورہاہے یاکھورہاہے اور یاکوئی اڑارہا ہے، چرارہا ہے ،لے جارہاہے، اپنا رہا ہے، دکھارہاہے یاچھپارہاہے، اس پرہم نے کس کس طرف سے کس کس پہلوسے کچھ نہیں کہاہے لیکن کوئی اثرہوا؟کوئی فرق پڑا؟کوئی سدھرا؟

جب کوئی پان بیڑی تک نہیں چھوڑ رہاہے کہ جس میں سراسرنقصان ہے، تاوان ہے اورجانان کی زبان ہے توکوئی کرپشن کیسے چھوڑے گا؟جو پربہارہے گل و گلزارہے، شکردارہے اورہرہرلحاظ سے خریدارہے اور محبوب صد ہزارہے، کوئی گھڑی بھر کا،راستے اورسفرکا ساتھی نہیں۔ بھولتاتوعمربھرکاہمدم دیرینہ کیسے چھوڑسکے گا

میں تجھ کوبھول کے زندہ رہوں خدانہ کرے

یہ اوربات میری زندگی وفانہ کرے

تورونا اس کاہے کہ جب کوئی کسی معمولی اور آسان سی چیزکوچھوڑ نہیں سکتاتواتنی بڑی کرپشن کوکیسے چھوڑسکتاہے لیکن ہم ہیں کہ ناصح مشفق بلکہ احمق بن کر کھجائے چلے جارہے ہیں،کھجائے جارہے ہیں، انصاف کی بلکہ تحریک انصاف کی کہیے کہ ہم سراسر زیادتی کررہے ہیں، اگرکوئی ہم سے کہے کہ کھجلی چھوڑدے توکیاہم چھوڑپائیں گے۔نہیںنا۔لوگ کہتے رہے کہ مت کھجا، مت کھجا لیکن کھجلی والے کجھلی کھجا۔وہ کہتے ہیں کہ ایک جگہ کسی نے چارکھجلی زدگان کوبٹھاکرکہاکہ تم ہرگزہرگزنہیں کھجاؤگے،کچھ دیرتک توکھجلی والے آرام سے بیٹھے رہے لیکن پھرکھجلی آئی تو آتی گئی۔

ہرنقش ماسواکو مٹاتی چلی گئی لیکن پابندی تھی اس لیے سب نے اندر ہی اندر اپنے دماغوں کوکھجایا اورکام پر لگ گئے لیکن پابندی کوبائی پاس کرتے رہے۔ایک جس کے سرمیں کھجلی ہورہی تھی، اس نے بتایا،ایک مرتبہ میرے والد میرے لیے ٹوپی لے کرآئے۔

ٹوپی بہت خوب صورت تھی لیکن میں سر پر رکھ کر ادھر ادھریوں کھینچی، پھر ادھر سے یوں اورپھر یوں اورپھریوںاوربڑے آرام سے اپنے سرکی کھجلی مٹاناشروع کردی۔دوسرے نے کہا،تم ٹوپی کی کہہ رہے ہو۔میراباپ میرے لیے ایک سوئٹر لایا تھا۔ایک مرتبہ جوبہت تنگ تھا لیکن میں نے تہہ کرلیا کہ اسے پہنوں گااورضرورپہنوں گا اوراس کوپہناناشروع کیا،پابندی والاکیا اعتراض کرسکتاتھا کہ وہ تو کھجلی نہیں کررہاتھا،تنگ سوئٹر پہن رہاتھا۔خیرمطلب یہ کہ کھجانے والے کسی نہ کسی طرح کھجاہی لیتے ہیں ، اس سلسلے میں کچھ کہانیاں پیش خدمت ہیں۔

افسر۔’’کیاتمہیں لگتاہے کہ تم رشوت دے کرمجھے رام کرلوگے ‘‘۔

سائل۔’’جی وہ میں……‘‘

افسر۔’’نہیں کیاواقعی لگتاہے کہ تم مجھے رشوت دے کراپنایہ ناجائزکام کرالوگے؟‘‘

سائل۔’’میں میں وہ وہ……‘‘

افسر۔’’نہیں مجھے بتاؤکیاتمہیں لگتاہے کہ تم مجھے ایک لاکھ روپے دے کر مجھے خرید لوگے؟‘‘

سائل۔’’میں میں جی جی…‘‘

افسر۔’’میں میں جی جی چھوڑو۔بتاؤ،سچ میں ایسا ہے؟اگرہے تو بالکل ٹھیک ہے،نکالو‘‘۔

افسر۔آخرتم نے یہ سوچ کیسے لیاکہ تم مجھے رشوت دینے کی کوشش کروجب کہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں پرسوں حج پرچارہاہوں۔

سائل۔جی مجھے معلوم ہے لیکن

افسر۔جب معلوم ہے کہ میں حج پرجارہاہوں تو میں رشوت کے پیسے کوہاتھ لگاسکتاہوں؟

سائل۔مگرجناب میں، میرایہ کام بڑا ضروری ہے اورآپ کے سوا اورکوئی نہیں کرسکتا۔

افسر۔بالکل،میںحج پرجارہاہوں اور رشوت کے پیسے کوہاتھ لگانے سے توبہ کرلی ہے لیکن تم سے دیرینہ مراسم ہیں۔

سائل۔یہی تومیں بھی کہتاہوں۔

افسر۔ ٹھیک ہے، میں حج پرجارہاہوں لیکن بیگم  حج پرنہیں جارہی ہے۔

حاجی افسر۔لوگ میرے بارے میں بہت غلط سوچ رہے ہیں۔

دوست۔کیاسوچ رہے ہیں؟

حاجی افسر۔تم بھی یہی سوچ رہے ہوکہ میرے پاس یہ لاکھوں کروڑوں روپے سب حرام کے ہیں اور حرام کے پیسوں سے حج کیسے ہوسکتا ہے۔ تو سنو،حج کے پیسے خالص میری اپنی تنخواہ کے ہیں جومیں نے الگ سے جمع کرکے رکھے تھے۔

کسٹومر۔یہ کیا؟میرابیلنس اب بھی وہی ہے جو ایک سال پہلے تھا،آخروہ منافع کہاں گیا،جوتمہارے بینک نے دینے کاوعدہ کیاہے، اس پورے سال کا منافع کہاں ہے؟اس کا مطلب ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو،سیونگ اکاونٹ پرکوئی منافع نہیں دیتا۔

بینک افسر۔ٹھہرئیے،میں دیکھتاہوں (کمپیوٹرپر ٹک ٹک کرنے کے بعد)یہ لیجیے آپ بھی دیکھیے،آپ کوبینک نے باقاعدہ منافع دیاہواہے۔

کسٹومر۔مگروہ گیاکہاں؟

بینک،یہ دیکھیے،منافع دیاگیاہے لیکن وہ یکم رمضان کوزکوۃ میں چلاگیاہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔