کیماڑی میں زہریلی گیس سے ہلاکتیں سویابین کی ان لوڈنگ قرار

ویب ڈیسک  جمعرات 11 فروری 2021
فضا میں کاربن مونو آکسائڈ، ہائیڈروجن سلفائڈ اور سلفر ڈائی آکسائڈ کی مقدار خطرناک حد تک ذیادہ پائی گئی، سیپا رپورٹ۔۔ فوٹو:فائل

فضا میں کاربن مونو آکسائڈ، ہائیڈروجن سلفائڈ اور سلفر ڈائی آکسائڈ کی مقدار خطرناک حد تک ذیادہ پائی گئی، سیپا رپورٹ۔۔ فوٹو:فائل

کراچی: سیپا کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جہاز سے سویابین ان لوڈنگ کے دوران سویابین ڈسٹ فضا میں شامل ہورہی تھی۔ 

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو کیماڑی میں زہریلی گیس پھیلنے سے ہلاکتوں سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ محکمہ ماحولیات نے عدالت کے سامنے رپورٹ پیش کی، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سیپا ٹیم نے واقعہ کے اگلے روز پورٹ کا دورہ کیا تو انکشاف ہوا پورٹ پر زہریلے کیمیکلز کے کئی کنٹینرز برسوں سے موجود تھے، آئل ٹرمینل کے اطراف غلاظت اور گندگی کے ڈھیر تھے،  پائپ لائنز انتہائی خطرناک حالت میں ہیں جو بڑی حادثے کا سبب بن سکتے ہیں، پورٹ پر ایئر کوالٹی انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے، جب کہ وہاں سویابین اور پالتو جانوروں کی فیڈ کے جہاز بھی موجود تھے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: کیماڑی میں ایک بار پھر پراسرار زہریلی گیس کا اخراج

عدالت نے انویسٹی گیشن آفیسر (آئی او) سے استفسار کیا کہ آپ نے اے کلاس میں مقدمات کیوں ختم کردیئے؟۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ایک شخص کا پوسٹ مارٹم ہوا منشیات زیادہ مقدار کی وجہ سے ہلاکت ہوئی تھی، بقیہ لوگوں کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوا تھا۔ ایس ایس پی کیماری نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کی سفارشات کی روشنی میں کاررائی کریں گے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: جاں بحق افراد کے خون میں سویا بین دھول کی موجودگی کا انکشاف

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر پولیس کی غفلت نظر آرہی ہے، جس دن کا واقعہ ہے اس کے 2 دن بعد نمونے حاصل کیے گئے۔ جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیئے کہ متاثرین کے بیانات پر بھی توجہ نہیں دی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس میں کہا کہ اتنا بڑا واقعہ ہوگیا ماحولیات کا ادارہ پتا نہیں کیا کررہا ہے؟۔ ڈائریکٹر ماحولیات نے بتایا کہ سویابین کی مقدار زیادہ پائی گئی تھی اس حوالے سے رپورٹ دے دی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے پولیس نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تفتیش ہی ٹھیک نہیں ہوئی۔ عدالت نے ایس ایس پی کو محکمہ ماحولیات کی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کا حکم دیتے ہوئے سماعت 16 مارچ تک ملتوی کردی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: زہریلی گیس سے 12 متاثرین کی حالت نازک

سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی رپورٹ میں مزید اہم انکشافات ہوئے، رپورٹ کے مطابق سیپا رپورٹ نے کیماڑی اور اطراف میں زہریلی گیس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سیپا نے ریلوے کالونی، ضیاالدین اسپتال ،مسان چوک، بھٹہ چوک سے 17 اور 18 فروری 2020 کو نمونے حاصل کیے، لیب رپورٹ کے مطابق فضا میں کاربن مونو آکسائڈ کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ تھی۔

رپورٹ کے مطابق  ٹیم نے 24 دسمبر 2020 کو بھی کراچی پورٹ کا دورہ کیا، فضا میں کاربن مونو آکسائڈ، ہائیڈروجن سلفائڈ اور سلفر ڈائی آکسائڈ کی مقدار خطرناک حد تک ذیادہ پائی گئی، جہاز سے سویابین ان لوڈنگ کے دوران سویابین ڈسٹ فضا میں شامل ہورہی تھی،  بندرگاہ پر کے پی ٹی اور آئل کمپنیز کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

سویابین ڈسٹ الرجی کیا ہے؟

جس طرح مختلف لوگوں کو سی فوڈ یا مونگ پھلی سے الرجی ہوتی ہے اسی طرح بعض افراد کو سویابین کی بوریوں سے اٹھنے والی ڈسٹ سے الرجی ہوسکتی ہے۔ غذائی ماہرین نے اسے 8 بڑی غذائی الرجی پیدا کرنے والی فہرست میں شامل کیا ہے۔

اسے سوئی الرجی یا پہلے درجے کی الرجی بھی کہا جاتا ہے۔ بعض افراد کا امنیاتی نظام اس کے ردِ عمل میں اینٹی باڈی خارج کرتا ہے یعنی بدن زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے میں اپنا ردِ عمل دیتا ہے۔ ابتدائی علامات میں بدن میں درد، قے، چکر اور ڈائریا شامل ہیں۔

دمے کے مریض اس الرجی سے متاثر ہوسکتے ہیں اور یوں ان کے سانس کا نظام بری طرح مجروح ہوتا ہے جس کے بعد ہلاکت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔