اے ٹی ایم ٹرانزیکشنز پر اضافی چارجز کی وجہ سامنے آگئی

بزنس رپورٹر  جمعرات 11 فروری 2021
صارفین نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ اضافی کٹوتی کو روکا جائے(فوٹو، فائل)

صارفین نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ اضافی کٹوتی کو روکا جائے(فوٹو، فائل)

 کراچی: ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی وون لنک نے کہا ہے کہ اے ٹی ایم سے رسید نکالنے پر چارجز کی وصولی کا مقصد کاغذی رسید کی حوصلہ شکنی کرکے ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

ون لنک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اے ٹی ایم سے رقوم نکلوانے یا بیلنس کی تفصیل جاننے کے لیے کاغذی رسید حاصل کرنے پر ڈھائی روپے چارجز کی وصولی ”گو گرین“ مہم کا حصہ ہے۔ اس مہم کا مقصد کاغذ کا استعمال کم کرکے درختوں کو بچانا اور ماحول میں کچرا پھیلنے سے روکنا ہے۔

دوسری جانب اس اقدام سے رسید کی پرنٹنگ پر اٹھنے والے اخراجات کے بوجھ کو بھی کم کرنا ہے، کاغذی رسید جاری ہونے سے رسید پر درج صارفین کی اہم معلومات بھی افشاء ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

وون لنک کے بیان میں کہا گیا ہے کہ رسید پرنٹنگ کا طریقہ واحد نہیں اور اس حوالے سے صارفین کے پاس انتخاب کا حق  موجود ہے کہ وہ کاغذی رسید حاصل کریں یا اسٹیٹ بینک کی ہدایات کی روشنی میں بیلنس اور ٹرانزیکشن کی بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع سے استفادہ کریں۔

وون لنک کے مطابق اسٹیٹ بینک نے اس حوالے سے بینکوں کو پابند نہیں کیا۔اسٹیٹ بینک کی ہدایت کے تحت بینکوں کے پاس اکاؤنٹ ہولڈرز کے موبائل نمبر درج ہیں جن پر ٹرانزیکشن کی اطلاع اور بیلنس کی تفصیل مہیا کی جاتی ہے۔

اس بارے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بینک اپنی خدمات کے عوض چارجز وصول کرنے کے مجاز ہیں بشرطے کہ وہ اسٹیٹ بینک کی کسی ہدایت سے متصادم نہ ہوں۔ صارفین سے وصول کیے جانے والے تمام سروس چارجز بینکوں کے شیڈول آف چارجز میں ظاہر کیے جاتے ہیں جس سے اسٹیٹ بینک کو بھی آگاہ کرنا ضروری ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: اے ٹی ایمز سے رسید کی وصولی پر بھی پیسے کٹنا شروع

ادھر عوامی حلقوں اور صارفین کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکوں نے صارفین کو کسی قسم کی پیشگی اطلاع دیے بغیر یہ چارجز وصول کرنا شروع کردیے ہیں۔ ملک بھر میں ہر گھنٹے میں لاکھوں ٹرانزیکشن کیے جاتے ہیں جس سے بینکوں کو بھرپور آمدن ہوگی۔

صارفین نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ اضافی کٹوتی کو روکا جائے اور بینکوں کو پابند کیا جائے کہ کسی قسم کے نئے چارجز صارفین کی منظوری کے بغیر عائد نہ کیے جائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔