پی ٹی اے کی موبائل فون کی خرید وفروخت سے متعلق عوام کو اہم ہدایت

ارشاد انصاری  جمعرات 11 فروری 2021
غیر معیاری ڈیوائسز ٹیلی کام سروس کے معیار میں خلل پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں، پی ٹی اے۔ فوٹو، فائل

غیر معیاری ڈیوائسز ٹیلی کام سروس کے معیار میں خلل پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں، پی ٹی اے۔ فوٹو، فائل

 اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے موبائل فون، جی ایس ایم ایمپلی فائرز، بوسٹرز، ریپیٹرز اور سم باکس کی خریدو فروخت سے متعلق اہم ہدایات جاری کردیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے عوام الناس کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیکشن 29 ٹیلی کام ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 کے تحت ایسے موبائل فون، جی ایس ایم ایمپلی فائرز، بوسٹرز، ریپیٹرز اور سم باکس وغیرہ کو باقاعدہ اجازت / ٹائپ اپروول / سی او سی نہ ہونے کی صورت میں ہر گز نہ خریدیں ایسی غیر معیاری ڈیوائسز نہ صرف انسانی صحت و قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ ٹیلی کام سروس کے معیار میں خلل پیدا کرنے کا بھی سبب بن رہی ہیں۔

علاوہ ازیں ایسی تمام ویب سائٹس اور ای کامرس میڈیمز جو ایسی ڈیوائسز کی تشہیر یا فروخت کر رہے ہیں ان کو بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ٹیلی کام ری آرگنائزیشن ایکٹ کی دفعہ 31 کے مطابق قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے اپنی متعلقہ ویب سائٹس سے ایسا تمام مواد ہٹا دیں۔

پی ٹی اے کے قواعد کے مطابق سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) اور پی ٹی اے ٹائپ اپروول ہولڈرز کو جی ایس ایم بوسٹر درآمد کرنے اور صارفین کے احاطے میں انسٹال کرنے کی اجازت ہے، ایکٹ کے تحت ایسے صارفین جو انفرادی طور پر بوسٹرز یا ایمپلیفائر کی انسٹالیشن میں ملوث ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، کوریج اور کوالٹی آف سروس (کیو او ایس) سے متعلقہ معیارات کے حوالے سے پی ٹی اے نے متاثرہ علاقوں میں نیٹ ورک کوریج اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے سی ایم اوز کو ہدایات جاری کیں ہیں۔

مزید برآں پی ٹی اے نے لائسنس کی تجدید کے ذریعہ آپریٹرز کے لئے کوریج کی ذمہ داریوں اور کوالٹی آف سروس کے معیارات میں بھی ترمیم کی ہے، پی ٹی اے نہ صرف خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے بلکہ عوام کو بھی وقتاً فوقتاً ہدایت جاری کرتا ہے کہ وہ  قابل اطلاق قوانین کے مطابق کسی قسم کی تکلیف اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے ایسے غیر قانونی، جی ایس ایم بوسٹرز / ایمپلی فائرکی خریداری /استعمال نہ کریں جو کسی غیر رسمی چینلز کے ذریعے درآمد شدہ /خریدے گئے ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔