پاکستان کا تجارتی خسارہ بہ مقابلہ برآمدات

ایم آئی خلیل  جمعـء 12 فروری 2021

سولہویں صدی کے آغاز سے ہی بین الاقوامی تجارت نے خصوصی اہمیت حاصل کرلی تھی۔ یورپ کی بہت سی اقوام جنھوں نے اپنی کمندیں ایشیائی اور افریقی ممالک پر ڈالیں تجارتی اقوام کے طور پر جانی جاتی رہی ہیں۔

انگریز بھی جب برصغیر میں وارد ہوئے تو ایک تجارتی کمپنی کے روپ میں مغلیہ دربار میں خود کو متعارف کروایا اور ہندوستان کے سادہ لوح افراد نے یورپ کی دیگر تجارتی اقوام کی طرح اسے بھی ایک تجارتی قوم گردانا۔ اس طرح سیکڑوں ملکوں کو برطانیہ اور دیگر یورپی ملکوں نے اپنی کالونیاں بنالیا۔ اس دوران بین الاقوامی تجارت کو بھی عروج حاصل ہوا۔

تجارتی سامان سے لدے پھندے تجارتی جہاز مختلف ملکوں کی جانب رواں دواں رہے۔ پھر بیسویں صدی کے آغاز کے بعد نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ ہونے لگا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد بہت سے غلام ممالک بتدریج آزاد ہونے لگے تو انھیں اپنی معیشت کو چلانے کے لیے اپنا سامان تجارت چاہے وہ زرعی ہو یا مصنوعات کی شکل میں مختلف ملکوں کو فروخت کرنے کے لیے بہت سے پاپڑ بیلنے پڑے،کیونکہ ان پسماندہ نوآزاد ممالک کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی صنعتی ممالک بن گئے۔

اس کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ ان ترقی پذیر پسماندہ ممالک کی زرعی اشیا ہوں یا صنعتی اشیا بین الاقوامی منڈی میں ان کی قیمت کم لگتی تھی، جب کہ ہر ملک کو ترقی کرنے کی خاطر ٹرانسپورٹ مواصلات، مشینریوں اور دیگر کیپٹل گڈز وغیرہ کی صورت میں جو درآمدات کرنا پڑتیں ان کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی۔ یہیں سے ترقی پذیر ممالک کو برآمدات بہ لحاظ قیمت کم وصول ہوتا اور درآمدات بہ لحاظ قیمت بہت زیادہ ادا کرنا پڑتی اور پھر جب جمع تفریق کی جاتی تو کہا جاتا کہ اچھا خاصا تجارتی خسارہ ہو گیا ہے۔

پاکستان کو بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ خصوصاً 70 کی دہائی سے پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھتا ہی رہا۔ اب گزشتہ کئی سالوں سے کچھ اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہے کہ برآمدات کی مالیت سے زیادہ تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔

اس کی وجہ بڑھتی ہوئی درآمدات کو قرار دیا جا رہا ہے، لیکن ملکی معاشی صنعتی ترقی کے لیے ٹرانسپورٹ سے لے کر صنعتی و زرعی مشینری وغیرہ وغیرہ کی درآمد کرنا بھی لازمی ہے۔ البتہ اشیائے تعیش، اشیائے خوراک اور وہ درآمدات جن کا نعم البدل ملک میں دستیاب ہے ان کی درآمدات میں رکاوٹ ڈالنا ضروری ہے، اگرچہ مختلف ادوار میں حکومتوں کی جانب سے بھی حوصلہ شکنی ہوتی رہی ہے، لیکن ان تمام کے باوجود درآمدات کی مالیت برآمدات کے مقابلے میں زیادہ ہی رہی ہے۔ لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ برآمدات کی مالیت سے زیادہ تجارتی خسارے کا ہونا ہے۔ پاکستان کے گزشتہ کئی سالوں کے تجارتی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تجارتی خسارہ بہ مقابلہ برآمدات زیادہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا جنوری 2021 تجارتی خسارہ 14 ارب 96 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا، جب کہ اسی مدت کے دوران برآمدات 14 ارب 24 کروڑ20 لاکھ ڈالر رہا۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال میں بھی یہی صورتحال تھی کہ برآمدات کے مقابلے میں خسارہ زیادہ تھا۔

یعنی برآمدات 13 ارب49 کروڑ60 لاکھ ڈالر جب کہ تجارتی خسارہ 13 ارب 82 کروڑ ڈالر رہا۔ اب مالی سال 2019-20 کی بات کرنے سے قبل مالی سال 2018-19 کی بات کر لیتے ہیں جب پاکستان کی کل برآمدات 22 ارب 95 کروڑ80 لاکھ ڈالرکی تھیں جب کہ تجارتی خسارہ برآمدات سے تقریباً 9 ارب ڈالر زائد رہا۔

اس سے قبل بھی کئی سال اس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا کہ برآمدات سے 50 تا 80 فیصد یا زائد تجارتی خسارہ بھی رہا ہے۔ انھی سالوں میں پاکستان زبردست مالی دباؤ کا شکار ہوکر رہا ، ادھر آئی ایم ایف کا دباؤ بھی بڑھتا رہا۔ اس کی طرف سے جو بھی قرض دیا جاتا ، اس کے لیے شرائط کی فہرست بھی تھما دی جاتی۔ صورتحال اب بھی ویسے ہی ہے، لیکن اس مرتبہ تھوڑی سی تبدیلی اس ضمن میں یہ ہے کہ روپے کی کم قدری کے بجائے روپے کی قدر میں قدرے استحکام ہے۔

بہرحال 2018-19 کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب 80 کروڑ50 لاکھ ڈالر رہا۔ اس طرح موجودہ حکومت نے کئی اقدامات اٹھائے تاکہ فضول درآمدات وغیرہ کو روکا جائے۔ اس طرح تجارتی خسارے کو کافی حد تک کنٹرول کرلیا گیا۔ یوں 2019-20 کے دوران پاکستان کی برآمدات 21 ارب 39 کروڑ40 لاکھ ڈالرزکی تھیں اور اس سال تجارتی خسارہ بہت ہی کم ہوکر 23 ارب 18 کروڑ ڈالرزکا تخمینہ لگایا گیا۔

اسی کے اثرات ہیں کہ روپے کی بگڑتی صحت میں قدرے افاقہ ہوا اور بڑھتا ہوا ڈالر ریٹ کم ہوا۔ روپے کی قدر میں کچھ مضبوطی آئی کرنسی کی صحت کو قدرے افاقہ محسوس ہوا کہ 168 روپے کا ڈالراب 160 روپے کے لگ بھگ دستیاب ہے۔ پاکستان کو اب بھی کئی مواقع حاصل ہیں اورگنجائش بھی ہے کہ ابھی برآمدات میں اضافہ کرلے۔ اس کے لیے چین سے بھی سبق سیکھا جاسکتا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی تجارت کو اس وقت شدید خسارے کا سامنا ہے۔

اکثر ممالک برآمدات میں کمی کا شکار ہیں لیکن چین نے اس وبا کے دوران بین الاقوامی تجارت کے میدان میں ایک نیا عالمی ریکارڈ بنایا ہے۔ صرف ماہ نومبر میں ہی 75 ارب ڈالر سے زائد کا فائدہ ہوا۔ چین نے بیرونی تجارت سے متعلقہ اپنا عشروں پرانا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ چین بیرونی تجارت کے ضمن میں سرپلس رہا۔ ادھر پاکستان ان 7 ماہ میں 15 ارب ڈالر خسارے کا شکار ہو کر رہ گیا۔

جس سے پھر یہ یقین ہو گیا ہے کہ اس مرتبہ پھر پاکستانی برآمدات سے کہیں زیادہ تجارتی خسارہ ہوگا۔ اگر وزارت تجارت اور وزارت خارجہ کو یہ ہدف دے دیا جائے کہ ہر طرح سے اس بات کی ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کی جائے اور تاجروں صنعتکاروں برآمد کنندگان سے فوری میٹنگ بھی رکھی جائے کہ کم ازکم اتنا تو ہو کہ تجارتی خسارہ برآمدات کی مالیت سے زیادہ نہ ہو، اگر یہ ہدف طے کرلیا جائے اور مختلف ملکوں میں مقیم پاکستان کے تجارتی اتاشی سے لے کر پاکستان کے برآمدکنندہ سب اس بات کی جدوجہد میں لگ جائیں تو آیندہ چند ماہ جس میں اس بات کا خدشہ ظاہرکیا جا رہا ہے کہ تجارتی خسارہ اور برآمدی مالیت کے فرق کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے، اگرچہ اس وقت کورونا وبا اور ملک میں بجلی گیس پٹرول کی قیمت میں اضافے نے پیداواری لاگت بڑھا دی ہے۔

ساتھ ہی بہت سی اشیا پر فری ڈیوٹی کے باعث درآمدات میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔ جس کے باعث درآمدی مالیت مزید بڑھے گی لیکن پاکستان کی برآمدات بڑھنے کا بھی رجحان موجود ہے۔ بشرطیکہ اس کے لیے حکومتی سطح پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت برآمدات میں اضافے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ بصورت دیگر تجارتی خسارے میں اضافہ بہ مقابلہ برآمدات معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔