کسان، گندم کی درآمد اور پنشن یافتہ افراد

ایم آئی خلیل  جمعـء 19 فروری 2021
مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے البتہ اس دوران حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے

مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے البتہ اس دوران حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے

ہمارے وطن کے غریب جفاکش محنتی کسان جب اپنا کھیت تیار کرکے بیج بو دیتے ہیں تو سورج کی روشنی اسے توانائی بخشتی ہے۔ فضائے آسمانی کی وسعتوں میں جب بارش کا سماں پیدا ہو جاتا ہے تو بادلوں کی گرج چمک کی آواز سنتے ہی بیجوں میں اطمینان کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

بیجوں کے مٹی میں سر چھپانے کی خبر سنتے ہی پہاڑوں کی بلندیوں پرگلیشئر پگھلتے ہیں، دریاؤں میں روانی پیدا ہو جاتی ہے پھر تو اس کی موجوں میں ایسی بجلی بھرتی ہے کہ چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی پتھروں کو دھکیلتی ہوئی ندی نالوں سے گزرتی ہوئی نہروں کے ذریعے مچلتی ہوئی لپکتی ہوئی ان کھیتوں کھلیانوں سے آ ملتی ہیں اور جب یہ نہری پانی بیجوں کی پرورش کا آغاز کرتا ہے تو جیسے ہی مٹی سے باہر ننھا پودا کھلتا ہے تو بادلوں کی اوٹ سے نکل نکل کر چاند بھی اسے اپنی ٹھنڈک بخشتا ہے۔

تب کہیں جا کرکسان ہاری کی محنت کا پسینہ ہرے بھرے کھیت کی صورت میں لہلہاتا ہے توکسان پھولے نہیں سماتا۔ پھر کوئی بھی فصل، زرعی پیداوار وغیرہ آنے سے قبل کسان یاری کی جو محنت ہوتی ہے اس کی بات کچھ یوں ہے کہ نو مہینوں کھیتوں کھلیانوں پر محنت کرنے والا کسان، ہاری جو علی الصبح اٹھ کر کھیت میں جاتا ہے۔ سورج کی تپش ہو یا آندھی آئے یا طوفان، بارش ہو جائے یا یخ بستہ ہوائیں چلتی رہیں یا گرم لُو چلتی رہے کوئی رکاوٹ اس کا راستہ نہیں روک سکتی یہ کھیتوں کھلیانوں پر اپنی محنت و مشقت کو جاری و ساری رکھتا ہے۔

سخت گرمیوں کے دنوں میں ایک لمبے پہر سخت محنت کا پسینہ بہانے کے بعد لُو چلتی دوپہر میں کسی نیم کے درخت کی چھاؤں میں آدھی اینٹ کا سرہانہ بنا کر قیلولہ کرلیتا ہے جہاں اسی درخت کی ٹہنیاں اور پتے اسے پنکھا جھلنے لگتے ہیں۔ ان دل نواز جھونکوں کے ساتھ ہی وہ تھوڑی دیر کی نیند لے کر پھر سے توانا ہو کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

پھر فصلوں پہ بہار آتی ہے کسان کی محنت رنگ لاتی ہے۔ گندم، چاول، چنا، کپاس، گنا، دالیں اورکئی اقسام کا غلہ اناج، سبزیاں، پھل وغیرہ پیدا کرنے والا یہ کسان یہ ہاری یہ باغبان اس وقت حیران و ششدر رہ جاتا ہے جب اس کی محنت کے صلے کا بڑا حصہ آڑھتی، وچولا، کمیشن ایجنٹ، بڑے ہول سیلر، وغیرہ وغیرہ لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ دل برداشتہ کسان کو اب اپنی پیداوار میں زبردست کمی اور زیادہ لاگت کا بھی سامنا ہے۔

اب پیداوار میں کمی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ نہری پانی کی قلت، جعلی کھاد و بیج، ناقص ادویات اور کئی چیزیں شامل ہیں، لیکن جب سے آئی ایم ایف کی مداخلت میں اضافہ ہوا ہے اب کسان پیداواری لاگت سے سخت پریشان ہیں۔ ٹیوب ویل چلانے کے لیے بجلی کا بل بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ اب یہ خبر بھی اس پر بجلی بن کر گری ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبات تسلیم کرلیے ہیں۔ حکومت نے بجلی مہنگی کرنے، اضافی ٹیکس لگانے پر اتفاق کرلیا ہے۔ پٹرول، ڈیزل ہر 15 دن کے بعد مہنگا ہو کر رہ جاتا ہے۔ کورونا کے در آتے ہی بیرون ممالک سے آنے والی کیڑے مار ادویات، کھاد کے علاوہ زرعی مشینری، پرزہ جات وغیرہ سب انتہائی مہنگے ہو کر رہ گئے ہیں۔

ایسا معلوم دے رہا ہے کہ گزشتہ کئی عشروں سے حکومت کی ترجیح یہ نہیں ہے کہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ پیداواری لاگت گھٹائی جائے اور زرعی فصلوں کی پیداوار حاصل ہونے کے بعد صرف اور صرف کسان کو ہی اس کی اچھی قیمت ملے۔ اس کا منافع بڑھے، لیکن اب تک ترجیحات یہ چلی آ رہی ہیں کہ پیداوار کم ہو رہی ہے تو کیا ہوا؟ درآمد کرلی جائے۔

گندم کے پیداواری رقبے میں مسلسل کمی آ رہی تھی کہ کسانوں کے بے شمار مسائل تھے۔ اس سال پیداوار میں کمی ہوگئی ہے۔ حکومت نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ 20 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ کیونکہ ملک میں گندم کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ ساتھ ہی قلت کا خدشہ بھی ہے۔ اس وقت جولائی 2020 تا جنوری 2021 یعنی ان 7 ماہ میں گندم برآمد کرنے والے وطن عزیز نے 29 لاکھ 9 ہزار 4 سو میٹرک ٹن گندم درآمد کرلی ہے، جب کہ مزید 20 لاکھ درآمد کرنے کی تجویز ہے۔

ان درآمدات پر ایک کھرب 27 ارب 95 کروڑ90 لاکھ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ اس طرح 31 جنوری تک گندم کی درآمد پر بہ لحاظ ڈالر 79 کروڑ45 لاکھ 93 ہزار ڈالر کے اخراجات آئے ہیں۔ اب یہاں زیر غور بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے اتنے ناز نخرے برداشت کرنے اور ملک پر مزید مہنگائی مسلط کرنے کے بعد ہمیں 50 کروڑ ڈالر کی قسط ادا کی جائے گی۔

ایک اندازے کے مطابق مزید 20 لاکھ ٹن گندم درآمد کرتے ہیں تو یہ رقم اور اس میں چینی اور گندم کی درآمد پر جو رقم خرچ کی گئی ہے۔ یعنی جنوری 2021 تک 2 لاکھ 78 ہزار5 سو میٹرک ٹن چینی کی درآمد پر 20 ارب 60 کروڑ روپے اور بہ لحاظ ڈالر 12 کروڑ67 لاکھ 63 ہزار ڈالر ان دونوں درآمد کردہ اور مزید درآمدات کو جمع کریں تو اندازہ ہے کہ آئی ایم ایف سے وصول کردہ آیندہ تین قسطوں یعنی ڈیڑھ ارب ڈالر کے برابر ہو جائے گی۔ اس طرح گندم چینی کی درآمدی خرچ اور آیندہ درآمد پر خرچ ملا کر جو رقم ہم خرچ کر دیں گے اتنا ہی بطور قرض لینا پڑے گا۔ ساتھ ہی بجلی، گیس، پٹرول اور کئی اضافی ٹیکس یہ بیماریاں ساتھ آئیں گی۔ مزید مہنگائی کا طوفان بھی آئے گا۔

مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے البتہ اس دوران حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جو خوش آیند ہے جس سے امید ہے پرائیویٹ سیکٹر بھی تنخواہوں میں اضافہ کرے گا۔ لیکن پنشن یافتہ افراد جو معاشرے کے بوڑھے لاچار بے بس افراد ہوتے ہیں اور خاندان کے سربراہ ہونے کے باعث جن کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں ، مہنگائی کی چکی میں پنشن یافتہ افراد بھی پس رہے ہیں ان کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ نہ کرنا، تحریک انصاف کی حکومت میں زبردست ناانصافی ہے جس کا فوری ازالہ کیا جانا چاہیے تاکہ پنشن یافتہ افراد کی اشک شوئی ہو سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔