ٹریفک جام میں لوٹ مار، پولیس اسکیٹنگ فورس غائب

راحیل سلمان  جمعـء 19 فروری 2021
،ڈاکوؤںنے اطمینان کے ساتھ سڑک عبور کی جہاں ان کا تیسرا ساتھی موٹر سائیکل پرتھا ۔  فوٹو : ایکسپریس

،ڈاکوؤںنے اطمینان کے ساتھ سڑک عبور کی جہاں ان کا تیسرا ساتھی موٹر سائیکل پرتھا ۔ فوٹو : ایکسپریس

 کراچی: شہر بھر میں ٹریفک جام کے دوران شہریوں کو لوٹنے کی وارداتیں تو تسلسل کے ساتھ جاری ہیں لیکن اس کے سدباب کے لیے خصوصی طور پر قائم کی گئی سندھ پولیس کی اسکیٹنگ فورس کہیں نظر نہیں آرہی ہے ڈاکو آزادی کے ساتھ شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شہر بھر میں ٹریفک جام تو معمول ہے ہی لیکن اسٹیڈیم کے اطراف کی سڑکیں سیکیورٹی کے نام پر بند کی جاتی ہیں، سیکڑوں پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں لیکن ایسے میں بھی ٹریفک جام کے دوران ڈاکو شہریوں سے لوٹ مار کریں تو خود سیکیورٹی پر ہی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے،جیل فلائی اوور کے قریب دو روز قبل  کار سوار شہری کو دو ملزمان نے ٹریفک جام کے دوران اسلحے کے زور پر لوٹا،انتہائی اطمینان کے ساتھ سڑک عبور کی جہاں ان کا تیسرا ساتھی موٹر سائیکل پر ان کا انتظار کررہا تھا اور تینوں انتہائی آسانی کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوگئے،جس مقام پر یہ واردات ہوئی وہ مقام اسٹیڈیم کے قریب ہے جس کی سیکیورٹی کے لیے پہلے ہی سیکڑوں کی تعداد میں پولیس افسران و اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں سندھ پولیس میں ماہ دسمبر میں ایک خصوصی فورس کا اعلان کیا گیا جس کا نام اسکیٹنگ فورس رکھا گیا،اس کا مقصد نہ صرف اسٹریٹ کرائم روکنا بلکہ خصوصاً ٹریفک جام کے دوران ہونے والی وارداتوں پر قابو پانا تھا ، ابتدائی طور پر 10 خواتین اور 10 مرد اہلکاروں کو باقاعدہ طور پر تربیت بھی فراہم کی گئی تھی جس میں انھیں اسکیٹنگ شوز پہنے فائرنگ کی مشق بھی کرائی گئی تھی ، شاپنگ مالز اور ایسی رش والی جگہ جہاں پولیس موبائل کو پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا ایسے مقامات پر اس فورس کو تعینات کیا جانا تھا۔

شہر بھر میں ٹریفک جام کے دوران وارداتیں تو ضرور ہورہی ہیں لیکن اس فورس کا کہیں نام و نشان نہیں ہے،اسٹیڈیم کے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کا جو حال ہوتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کے ٹیکس کے پیسوں سے نت نئے یونٹ تو بنادیے جاتے ہیں۔

ان کی ٹریننگ اور آلات کی خریداری پر کثیر رقم بھی خرچ کردی جاتی ہے لیکن وہ یونٹس عملی طور پر غائب رہتے ہیں جوکہ ان کے پیسوں کا ضیاع ہے ،اس فورس کی جو فوٹیجز سندھ پولیس نے جاری کیں اس میں تو اہلکار انتہائی مہارت کے ساتھ اسکیٹ کرتے اور سیڑھیاں بھی عبور کرتے نظر آرہے ہیں لیکن یہ فورس عملی طور پر سڑکوں پر کب نظر آئے گی یہ بھی بتادیا جائے، شہریوں نے کہا کہ کم از کم اسٹیڈیم کے اطراف تو اسکیٹنگ فورس تعینات کردینی چاہیے، شہریوں نے آئی جی سندھ مشتاق مہر اور کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن سے  مطالبہ کیا ہے کہ پولیس میں ایسے مخلص افسران و اہلکار تعینات کیے جائیں جوکہ شہریوں کو اسٹریٹ کرائم کے عفریت سے نجات دلاسکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔