ڑ سے پہاڑ؟

سہیل احمد صدیقی  اتوار 28 فروری 2021
شروع میں ادائیگی اور صوتی دونوں خوشگوار نہیں، اس لیے زبردستی لفظ بنانا لازم نہیں۔

شروع میں ادائیگی اور صوتی دونوں خوشگوار نہیں، اس لیے زبردستی لفظ بنانا لازم نہیں۔

زباں فہمی 86

بچپن میں اردو کا ابتدائی قاعدہ پڑھتے ہوئے بہت حیرت اور پریشانی ہوا کرتی تھی کہ ’’ڑ‘‘سے پہاڑ کیسے ہوتا ہے یا ہوگیا ہے، جبکہ یہ تو لفظ کے شروع میں نہیں آتا۔ {آگے بڑھنے سے قبل یہ یاد رکھیں کہ جدید سرکاری قاعدے کے مطابق، اب، صوتی اعتبار سے یہ اردو کا پچیسواں اور اس کے بعد، ڑھ اردو کا چھبیسواں حرف ہے۔

یہ حرف جنوبی ہند کی انتہائی قدیم یعنی دراوڑی زبانوں بشمول تمل، تلیگو، ملیالم، کنڑ کی آوازوں میں شامل ہے۔} جب ایک عمر کو پہنچ کر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کم ازکم دو الفاظ، اردو لغت بورڈ کی عظیم وضخیم (بائیس جلدوں پر مشتمل) لغت میں شامل ہیں: ڑوڑا (روڑا) اور ڑوڑی (روڑی)۔ یہ بات ہے اُن دنوں کی کہ جب راقم پاکستان ٹیلی وژن، کراچی مرکز کے لیے پروگرام ٹی وی انسائیکلوپیڈیا کی تحقیق وتحریر میں مشغول تھا (1993-1996)۔ جب حرف ’ڑ‘ کی باری آئی تو ڈاکٹر نسیمہ ترمذی عرف نسیمہ بنت سراج صاحبہ سے ٹیلی فون کال کرکے جامعہ کراچی میں ملاقات کا وقت طے کیا، کیونکہ اس پروگرام سے بھی مدت پہلے، اُن کے اخباری کالم میں یہی بحث چھِڑی تو کچھ افراد نے مراسلوں کے ذریعے صلاح دی تھی کہ ہماری علاقائی زبان کا فُلاں لفظ، اردو میں شامل کرلیا جائے۔

یہ سارامواد میرے پاس محفوظ نہ تھا، لہٰذا محترمہ سے رجوع کیا۔ ملاقات نہ ہوسکی اور پھر ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے معذرت چاہی کہ وہ سارا مواد تو میرے پاس بھی موجود نہیں۔ خیربندے نے جیسے تیسے اس حرف کا تعارفی شذرہ لکھ دیا اور پھر دیگر موضوعات پر خامہ فرسائی کرکے پروڈیوسر کو مسودہ پیش کردیا جو بعدازآں نشر بھی ہوگیا۔ (یہ فقط احوال واقعی ہے۔

اس سے مرحومہ کی تنقیص یا خاکسار کی تعریف مقصود نہیں۔ ہم سب کے ساتھ ایسا ہوجاتا ہے کہ وقت پڑے پر کوئی شئے نہ ملے اور ہم خالی ہاتھ رہ جائیں)۔ {جب ان جلدوں کا خلاصہ مختصر اردو لغت۔ دو جلد کی صورت میں شایع ہوا تو وہ الفاظ شامل نہیں کیے گئے۔

اس بابت ہمارے محترم دوست ڈاکٹر شاہدضمیرصاحب، مدیراعلیٰ اردو لغت بورڈ نے وضاحت بھی فرمائی ہے}۔ اب چونکہ انھیں ابتدائی قاعدے سمیت کہیں بھی کتابی شکل میں شامل کرتے ہوئے عام کرنے کی سعی نہیں کی گئی، لہٰذا بہت سے لوگوں کی یہ پریشانی یا تشویش ابھی تک برقرار ہے کہ ہماری عظیم زبان میں اس حرف سے کوئی لفظ کیوں شروع نہیں ہوتا۔ کیا کوئی لفظ یا الفاظ دیگر زبانوں سے مستعار لے کر اردو میں شامل کرنا موزوں رہے گا، کیا ایسی شعوری مساعی زبان کی تشکیل کے ضمن میں درست ہوگی…..اس مسئلے میں اہل زبان ہی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، چہ جائیکہ ماہرین لسانیات (جو ویسے بھی خال خال ہیں)۔ گزشتہ دنوں فیس بک گروپ ’اردوسرائے‘ اور ’اردستان‘ میں اس موضوع پر بحث چھڑی تو بہت سے افراد (کئی غیراہل زبان اور کچھ اہل زبان ) نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔

پہلے تو یہ ملاحظہ کیجئے کہ کن الفاظ کی اردو میں شمولیت کی بات کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ پشتو زبان کے لفظ ’’ ڑوند‘‘ کے حق میں اظہارِخیال کیا گیا اور یہ نکتہ اٹھانے والے ہمارے بہت محترم، فاضل فیس بک /واٹس ایپ دوست پروفیسرڈاکٹر تاج الدین تاجورصاحب (صدرشعبہ اردو، گورنمنٹ کالج، پشاور) ہیں جو خود لسانیات کے عالم ہیں اور ’زباں فہمی‘ کے مستقل قارئین ومداحین میں شامل ہیں۔ تاجورصاحب کی تحریر یہاں نقل کرتا ہوں:

حرف ”ڑ ” کا مخمصہ ازڈاکٹرتاج الدین تاجور

’’ ابتدائی جماعتوں میں اردو کی کتابوں اور قاعدوں میں اردو میں مستعمل حروفِ سے بنے الفاظ درج ہوتے ہیں، مثلاً ا– انار، ب— بابا۔۔۔۔۔ تاہم جب خالص ہند نژاد آواز ’ ڑ‘ کی باری آجاتی ہے تو اردو میں مستعمل کوئی ایسا لفظ ہمارے سامنے نہیں آتا جو ڑ سے شروع ہوتا ہو۔ عمومی طور قاعدوں میں ڑ سے پہاڑ درج ہوتا ہے جو ایک طرح سے اردو زبان کی کم مائیگی (فقط اس حرف کی حد تک ورنہ اردو زبان نے گزشتہ تین سو برسوں میں جتنی وسعت پائی ہے شاید ہی کسی زبان کو حاصل ہو) کا احساس دلاتا ہے جبکہ دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اردو زبان کا اپنے ’’ہند نژاد‘‘ سرمائے کے ساتھ عربی، فارسی، ترکی، پشتو، انگریزی، پرتگالی (پُرتگیز۔س ا ص)، روسی اور مقامی دراوڑی زبانوں کے الفاظ سے استفادہ کرتی آئی ہے۔

اب ” ڑ ” کے باب اگر ایک اور پشتو لفظ سے استفادہ کیا جائے تو کیا مضائقہ ہے، جبکہ ماضی میں پشتو کے الفاظ، اردو نے قبول کئے ہیں جن کی تفصیل عرشی صاحب کی کتاب موجود ہے، جبکہ اب جدید دور میں پشتو کے کئی ایک نئے لفظ اردو میں داخل ہو گئے ہیں، خاص طور پر خواتین کے نام مثلاً پلوشہ، زر سانگہ، کشمالہ وغیرہ، تو کیوں نہ ” ڑ ” کے ضمن میں بھی پشتو سے استفادہ کیا جائے۔ پشتو میں اندھے کو ” ڑوند ” کہتے ہیں،، ویسے بھی جب ’ث‘ سے ثمر اور ’ض‘ سے ضعیف وغیرہ جیسے عربی الفاظ قاعدوں میں درج ہیں تو ڑ کے سلسلے میں کیوں نہ ’’ڑوند‘‘ کو رواج دیا جائے۔‘‘ بات چل نکلی تو تاجورصاحب کے تائید کرنے والوں میں محترمہ یاسمین سحرصاحبہ نے اسی لفظ کے مؤنث ’ڑوندہ‘ (اندھی) کا ذکر بھی کیا۔ اسلام آباد میں مقیم ہمارے فیس بک دوست پروفیسر کامران سرفراز بیگ صاحب نے اس موقع پر ارشاد فرمایا:’’ڈاکٹر تاج الدین تاجور صاحب! میں آپ سے کلّی طور پہ متفق ہوں۔

جناب کی لیاقت کا معترف اور پیش کردہ تجویز وسفارش کی بھرپور حمایت کرتا ہوں۔ شعبہ نصاب ‘وفاقی وزارت تعلیم’، اسلام آباد سے بطور افسر متعلقہ اردو ‘کشمیری’ فارسی اور چاروں پاکستانی زبانوں، وابستگی (2005تا 2008) (کے دور میں) ایسی متفرق قابل نفاذ سفارشات پر عمل کرایا۔ الحمدللہ۔‘‘ اسی بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایک اور رکن محترم قیصرسہیل صاحب نے فرمایا:’’جی اس زمرے میں آپ ”ڑ” سے ” ڑنگا ” بھی کر سکتے ہیں جو ہندی میں ہے اور اردو سے بہت قریب ہے۔ بیل کے گلے میں گھنٹی کو کہتے ہیں۔ ان کی تصدیق میرپورخاص سے کراچی منتقل ہونے والے ممتاز ادیب، شاعر جناب ذوالفقاردانش نے مزید وضاحت کے ساتھ یوں فرمائی: ڑنگا (گاڑی بانی) چنگ (بڑا وزنی گُھنگرو جو رتھ یا بیلی کی ہم کے نیچے بندھا ہوتا ہے اور گاڑی کی حرکت سے ہلتا اور بجتا رہتا ہے جس سے راہ چلنے والے خبردار ہو کر گاڑی کے سامنے سے ہٹ جاتے ہیں) کے بیچ میں کا لٹکن جس کے ٹکرانے سے آواز ہوتی ہے۔

ساجدسلیم صاحب نے ان الفاظ میں تصدیق فرمائی ہے:’’ڑنگا۔ (گاڑی بانی) چنگ (بڑا وزنی گُھنگرو جو رتھ یا بیلی کی ہم (بم ہوگا۔ س اص) کے نیچے بندھا ہوتا ہے اور گاڑی کی حرکت سے ہلتا اور بجتا رہتا ہے جس سے راہ چلنے والے خبردار ہو کر گاڑی کے سامنے سے ہٹ جاتے ہیں) کے بیچ میں کا لٹکن جس کے ٹکرانے سے آواز ہوتی ہے۔‘‘ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ راجاراجیسور راؤ اصغرؔ جیسے فاضل کی مرتب کی ہوئی ہندی اردو لغت نیز اُس کی جدید اشاعت مع اضافہ ومقدمہ از قلم قدرت نقوی میں حرف ڑ سے شروع ہونے والا کوئی لفظ شامل نہیں اور اسی طرح فیلن[S.W.Fallon, Ph.D. Halle] کی مشہور ہندوستانی لغت [A Hindustani-English Law and Commercial Dictionary] میں بھی اسے درخوراعتناء نہیں سمجھا گیا۔ یہاں پھر ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر تاج الدین تاجور کام آئے۔

انھوں نے فرمایا :’’ڑنگا بھی بنیادی طور پر ہریانوی زبان کا لفظ ہے، اسے استعمال میں لانا چاہیے، تاہم اس لفظ کا اندراج کم ہی لغات میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔‘‘ علمی بنیاد پر خاکسار اُن کی تائید کرتا ہے اور چونکہ ہریانوی بنیادی طور پر اردو ہی کی قدیم، مگر زندہ بولی ہے، لہٰذا یہ لفظ بھی اردو مانا جائے گا۔ شیرازاکبر نے پنجابی لفظ ’’ڑانگی‘‘ کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا: ڑ سے ڑانگی: یہ ایک لمبا بانس ہوتا ہے جس کے ایک سرے پے ہاکی کی جیسا بلیڈ ہوتا ہے۔

ڑانگی درختوں کی شاخیں کاٹنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ علی جعفری صاحب نے بتایا کہ بلتی زبان میں پتھر کو ’’ڑدوا‘‘ کہتے ہیں۔ (خاکسار نے گلگت بلتستان کی زبانوں کا جائزہ مع تقابلی لغت از ڈاکٹر عظمیٰ سلیم، مطبوعہ اکادمی ادبیات پاکستان، سن اشاعت ۲۰۱۷ء سے اس کی تصدیق بھی کرلی ہے)۔

نسیم خان صاحب نے بتایا کہ گوجری میں ”ڑوت پیو” سوتیلے باپ کہتے ہیں۔ میرے محترم فیس بک /واٹس ایپ دوست حق نوازچودھری صاحب نے مجھ سے کہا کہ ’’ہوسکتا ہے، کسی علاقے میں کہتے ہوں، ورنہ ہمارے یہاں سوتیلے باپ کو ’’اوڑھ باپ‘‘ کہتے ہیں، ویسے ایک ہی لفظ گوجری میں رائج ہے جو ’ڑ‘ سے شروع ہوتا ہے، ڑُوس (بہت زیادہ کھانا، حد سے زیادہ کھانا)، مثلاً: تَیں بوہت زیادہ ڑُوس کھادو اے۔‘‘ عظمت محمود صاحب نے فرمایا کہ ’’پنجابی اور پوٹھوہاری میں کسی بھی پھل کی گٹھلی کو ” ڑِک ” کہتے ہیں۔‘‘ ظفرحسین صاحب نے یوں تصدیق کی:”ڑہیک” ایک پنجابی یا پوٹھواری لفظ ہے بمعنی گٹھلی، جب اردو دوسری زبانوں کے الفاظ قبول کر سکتی ہے تو مقامی یعنی سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، پنجابی، پوٹھواری، ہندکو کے الفاظ قبول کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہونی (ہونا) چاہیے۔

رابطہ کرنے پر میرے فاضل معاصر، اردو، پنجابی اور پوٹھوہاری کے شاعر جناب شاہین فصیح ربانی اور جواں سال اردو، پنجابی وپوٹھوہاری شاعر، محقق عزیزم حسنین ساحر (بارہ کہو، اسلام آباد) نے میرے اس قیاس کی تصدیق کی ہے کہ یہ لفظ ڑھیک ہے۔ شاہین صاحب کے خیال میں اصل لفظ پنجابی کا ہڑِک ہے جسے بزرگ اردو، پنجابی و پوٹھوہاری شاعرنسیم سحر صاحب، ہَڑیک بتاتے ہیں، مگر حسنین ساحرکا کہنا ہے کہ پوٹھوہاری میں دو لہجے ہیں، ہماری پوٹھوہاری میں یہ لفظ اسی طرح بولا اور لکھا جاتا ہے۔

تجربہ کار براڈ کاسٹر، صاحب تصنیف ادیب محترم شریف شادؔصاحب نے ان الفاظ کا اضافہ فرمایا: ڑانگ (اونچی آواز میں چیخنا چلّانا)، ڑی (حرف ِندا) اورڑینگ (جانور کا اونچی آواز میں بولنا)۔ {شادؔ صاحب پوٹھوہاری کے بطور جدازبان تشخص کی تحریک کے پرچارک ہیں۔

انھوں نے 2008ء میں اولین پوٹھوہاری اردو لغت مرتب کرکے شایع کی۔ اُن کے بعد محترم دل پذیر شادؔصاحب (مرحوم) نے ایک مختصر لغت تیار کی اور پھر جناب شیراز طاہر نے ’’شیرازاللغات‘‘ کے عنوان سے ایک ضخیم لغت مرتب کی۔ شریف شادؔصاحب پوٹھوہاری میں اوّلین ترجمہ قرآن کی ترجمہ کاری واشاعت کا شرف بھی دوماہ قبل حاصل کرچکے ہیں جو درحقیقت مولوی فتح محمد جالندھری کے اردو ترجمے کا پوٹھوہاری قالب ہے}۔ ایک بار پھر پنجابی کا رُخ کرتے ہیں۔ فیصل محمدلشکری صاحب نے بتایا کہ آستین چڑھانے کو ’بازو ڑونگ‘ کہتے ہیں۔

اور اب ملاحظہ فرمائیے پنجابی میں ’ڑ‘ سے شروع ہونے والے الفاظ (آن لائن دستیاب لغت سے استفادہ): ڑِک ڑِک: (جنس: مونث، معنی: ٹک ٹک، رہٹ دے چلن دی آواز)/ڑِکّا: (جنس: مذکر، معنی: اڑکا دی تخفیف۔۔۔ ڈکا، روک، اڑنگا)/ڑِکّن:(جزوِکلام: مصدر، معنی: ڈکن، مڈکن)/ڑُنبن: (جزوِکلام:مصدر، معنی: اڑنبن دی تخفیف۔۔۔ ڑسن،حوالہ:ڑسن)/ڑِنگ بھِڑنگا (جنس: مذکر، جزوِکلام: صفت، معنی: ونگا ٹیڈھا، ترچھا)/ڑنگا (جنس: مذکر، معنی: اڑنگا دی تخفیف۔ ڈکا، اٹکا، روک،ڈٹا)/ڑِنگڑی (جنس: مونث، معنی: اڑنگڑی دی تخفیف، ڑینگڑی حوالہ: ڑینگڑی)/ڑِنگن (جزوِکلام: مصدر، معنی: اڑنگن دی تخفیف۔ اڑاون، رنگن، اچی آواز کڈھن، چیکن))/ ڑِنگی (جنس: مونث، معنی: اڑنگی دی تخفیف۔ ویکھو: ڑنگا جیہدی ایہہ تانیث اے))/ ڑھُت (جزوِکلام: صفت، معنی: تیویں دے پہلے خاوند دا پتر، لے پالک، گستاخ پتر))/ ڑھِیک (جنس: مونث، معنی: اڑھیک دی تخفیف۔ چرج گل، عجیب بات، ریس، نقل))/ ڑھیکا (جنس: مذکر، معنی: اڑھیکا دی تخفیف۔۔۔ ٹھڈا، ٹھوکر، سٹ، ہجکا، ہچکولا) /ڑواڑا (جنس: مذکر، معنی: اڑواڑا دی تخفیف اے۔ اوہ دو سانگھی لکڑی جیہڑی ٹٹی ہوئی کڑی یاں پھلاں دے بھار نال نیوندی ہوئی ٹہنی ہیٹھاں دتی جاندی اے، سہارا، ٹیک)/ڑواڑی (جنس: مونث، معنی: اڑاوڑی دی تخفیف۔ مچھی دی اک قسم، حوالہ: ڑاڑی)/ڑوس پڑوس (جنس: مذکر معنی: اڑوس پڑوس دی تخفیف۔ آنڈھ گوانڈھ، آل دوالا، آنڈھی گوانڈھی، ہمسائے)/ڑوسی پڑوسی (جزوِکلام: صفت، معنی: اڑوسی پڑوسی دی تخفیف۔ آنڈھی گوانڈھی، ہمسائے)/ڑُوں (جنس: مؤنث، معنی: ول، جھکا، خم، اڑنگا، رکاوٹ، حوالہ: ڑوں ڑوں)/ ڑُوہا (جنس: مذکر، معنی: اڑوہا دی تخفیف۔ بہک، جھوک، پڑا، سرا، ایویں جیہا کاروبار، روزگار)/ڑے (جزوِکلام: حرفِ ندا، معنی: ارے دا وگاڑ۔ اوئے)/ ڑی (جزوِکلام: حرفِ ندا، معنی: ویکھو: ڑے جیہدی ایہہ تانیث اے)/ڑِیک (جنس: مونث، معنی: اڑیک دی تخفیف۔ اڑ، ضد، کب، انوکھی گل، عجیب بات، ریس، نقل، اڈیک، انتظار)/ڑِیک چال (جزوِکلام: صفت، معنی: اڑیک چال دی تخفیف، اڑیل، ضدی، کبا، نخرہ، اڑی، ضد، ریس بریسی، نقل لاہون دی حالت)/ ڑیکا (جنس: مذکر، معنی: اڑیکا دی تخفیف، حوالہ: ڑکا)/ڑِیں ڑِیں (جنس: مونث معنی: رہٹ دے چلن دی آواز، بچے دے روون دی آواز)/ڑِینگڑی (جنس: مونث، معنی: اڑینگری دی تخفیف۔ اڑنگی، گھول کوڈی دا اک دا، دوجے دیاں لتاں وچ اپنیاں لتاں پھساون دا اک ڈھنگ)/ڑِینگلی (جنس: مونث، حوالہ: ڑِینگڑی)۔

پنجابی کی طرح قدیم سندھی میں بھی لفظ ’ڑے‘ (حرف ِندا) موجود ہے جو ،جدید سندھی، مکرانی بلوچی اور کراچی کی عوامی بولی [Slang]کا اَڑے ہی ہے۔ (بحوالہ سندھی انگریزی ڈکشنری از پرمانند میوارام، اشاعت اول 1910ء، تیسویں اشاعت 1991ء : انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی، جام شورو)۔ سرائیکی زبان میں حرف ’ڑ‘ سے شروع ہونے والے کسی لفظ کی تلاشِ بسیار کے بعد، خواجہ غلام فرید کی ایک کافی میں ایک لفظ ’’ڑی‘‘ بطور ردیف استعمال ہوتا نظر آیا، یہ بھی اردو کا حرف ِندا ’’ری‘‘ /اری ہی کی ایک شکل ہے۔

تبرکاً ایک مصرع اور اُس کا اسی بحر اور راگ میں منظوم ترجمہ، میرے فاضل بزرگ معاصر محترم امدادنظامی (مرحوم) کے قلم سے ملاحظہ فرمائیے: دل غیروں غیرت کھاوم ڑی/دل غیر سے غیرت کھائے ری (فرید رنگ، فرید انگ۔ تذکرہ ، تبصرہ اور منظوم تراجم از امدادنظامی، تمغہ امتیاز۔ وجدان پبلی کیشنز، کراچی/کوئٹہ : ۲۰۰۳ء)۔ ڈاکٹر مہرعبدالحق کی شاندار تحقیق ’ملتانی زبان اور اُس کا اردو سے تعلق‘، مطبوعہ اردواکادمی، بہاول پور، سن اشاعت ۱۹۶۷ء میں سرائیکی کے خاص الفاظ کی فہرست میں بہرحال ایسا کوئی لفظ شامل نہیں۔ کتاب حرفاً حرفاً پڑھوں تو شاید کہیں نکل آئے۔

اس ساری بحث کا اختتام اپنے حلقہ احباب کے دو فاضل اراکین کی آراء پر کرتا ہوں۔ ممتاز شاعرہ محترمہ آمنہ عالم صاحبہ (خازن بزم سائنسی ادب) نے فرمایا کہ ’’حروف آواز کے نمائندہ ہوتے ہیں، الفاظ کا آغاز ہونے کے نہیں۔ الفاظ سازی میں حروف کی آواز کے صوتی آہنگ کی خوبصورتی کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ حرف ڑ درمیان اور آخر میں بہتر صوتی تاثر دیتا ہے۔

شروع میں ادائیگی اور صوتی دونوں خوشگوار نہیں، اس لیے زبردستی لفظ بنانا لازم نہیں، جہاں جہاں آ رہا ہے اس کا تعارف ہی کافی ہے۔‘‘ اردوبحالی مہم (یعنی بلاضرورت مستعمل انگریزی الفاظ کی جگہ مروج اردوالفاظ کی بحالی کی مہم) کے بانی، محترم سلیم فاروقی صاحب کا خیال ہے کہ ’’تجویز اور خواہش تو اچھی ہے لیکن حقیقت کے مطابق نہیں ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ اردو ہی کیا کسی بھی زبان میں کسی بھی دوسری زبان کا کوئی لفظ ایسے شامل نہیں کیا جاتا ہے کہ جیسے قانون بنا کر آئین میں شامل کردیا جائے۔ کسی بھی معاشرے میں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہوتا ہے جو قانونی طور پر کسی بھی لفظ کو اپنی زبان میں اپنانے یا نکالنے کا مجاز ہو۔ کوئی لفظ عوامی استعمال سے کسی بھی زبان میں شامل ہوتا ہے یا نکل جاتا ہے۔

اگر ہم منصوبہ بندی کے ساتھ کسی بھی زبان کا کوئی بھی لفظ اردو میں شامل کرنا چاہیں تو شاید یہ ناممکن ہو کیونکہ اس کے لیے ضروری یہ ہوگا پہلے لوگ اس کو عام گفتگو میں استعمال کرنا شروع کریں، اتنا استعمال کریں کہ کانوں سے اس کی اجنبیت ختم ہوجائے، کچھ عرصے بعد اپنا اپنا سا لگنے لگے، جب تمام صوبوں کے افراد اِس لفظ کو سمجھنے اور استعمال کرنے لگیں گے تب ہی ہم کہہ سکیں گے کہ یہ اردو کا لفظ ہے۔ جب قبولیت اس حد تک ہوگی کہ شاعر اور ادیب بھی اس کو اپنی تخلیقات میں بے جھجھک استعمال کرنا شروع کردیں گے تب کہیں جا کر یہ اس قابل ہوگا کہ لغت میں شامل کیا جائے۔ اب اس پورے سلسلے میں کتنا وقت لگتا ہے اس کا کوئی کلیہ نہیں ہے، اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔‘‘ ان دو فاضلیَن کی رائے پر خاکسار کی رائے زنی کیسی؟ بہرحال میری ناقص رائے میں اعتراض برائے اعتراض ہی سہی، دور کرنے کے لیے اردو زبان میں، پہلے سے موجود، دو الفاظ اور چند دیگر کے شعوری رواج میں کوئی ہرج نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔