یادوں کے سنگ میل

غزالہ عزیز  پير 6 جنوری 2014

اقبال کے قلم سے لکھا ’’پیام مشرق‘‘ کا دیباچہ پڑھتے ہوئے مجھے قاضی صاحب یاد آئے۔ اقبال لکھتے ہیں:

’’مشرق بالخصوص اسلامی مشرق نے صدیوں کی مسلسل نیند کے بعد آنکھ کھولی ہے مگر اقوام مشرق کو یہ بات محسوس کرلینا چاہیے کہ زندگی اپنے احوال میں اس وقت تک کسی قسم کا انقلاب پیدا نہیں کرسکتی جب تک کہ پہلے اس کی اندرونی گہرائیوں میں انقلاب برپا نہ ہو‘‘۔

بے شک اﷲ کسی قوم کی حالت نہیں تبدیل کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتی۔ قاضی حسین احمد پوری زندگی یہ پیغام دیتے رہے۔ اقبال کے کلام کے جیسے حافظ وہ تھے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ فارسی زبان کے اشعار ان کے پرجوش لب ولہجے میں سننے والا زبان نہ جاننے کے باوجود مطالیب پالیتا تھا۔ اقبال کہتے ہیں:

ہیچ میدانی کہ روزی در ولر
موجہ می گفت با موج وگر
چند در قلزم بیک دیگر زنیم
خیز تا یک دم بساحل سر زنیم

معنی (ایک روز جھیل وولر میں ایک لہر نے دوسری لہر سے کہا کہ کب تک ہم پانی کے اندر ایک دوسرے سے ٹکراتی اور سر مارتی رہیں گی۔ آجا کچھ دیر کے لیے پانی کے اندر سر ٹکرانے کے بجائے ساحل کے ساتھ سر ٹکرائیں)۔ یہ پیغام قاضی صاحب قوم کو دیتے رہے۔ اقبال کے اشعار ان کی نوک زباں پر ہوتے تھے۔ انھوں نے اتحاد بین المسلمین کے لیے کیسے عرق ریزی کی۔ تمام مکاتب فکر کو یک جا کیا۔ ملی یک جہتی کونسل کو فعال کیا، تمام فرقوں کو متحد رہ کر دشمن اسلام اور دشمن پاکستان کی سرکوبی کے لیے اکٹھا رہنے کا پیغام دیا۔ رہبری کی اور اتحاد کے لیے کوشاں رہے۔ اقبال کہتے ہیں:

ہزار انجمن آراستند و بر چیدند
دریں سراچہ کہ روشن ز مشعل قمر است
ز خاک خویش بہ تعمیر آدمی برخیز
کہ فرصت تو بقدر تبسم شرر است

کہ اس چھوٹے سے گھر یعنی دنیا میں جو چاند کی مشعل سے روشن ہے ہزاروں محفلیں آراستہ ہوئیں اور اجڑ گئیں۔ یعنی دنیا کی کسی بھی شے کو دوام و ثبات نہیں ہے۔ یہ زندگی بھی عارضی و فانی ہے۔ لہٰذا پھر مٹی سے ایک انسان کی تعمیر کے لیے اٹھ، اس لیے کہ تجھے جو فرصت میسر ہے وہ چنگاری کی مسکراہٹ جتنی ہے لہٰذا اپنی خودی پہچان اور ایک باعمل انسان بن جا۔ اس فانی دنیا کا ایک ایک لمحہ بڑا قیمتی ہے۔ اسے ضایع نہ کر اور اپنی بقا کا سامان کرنے کے لیے جدوجہد سے کام لے۔ میری طرح پتہ نہیں کتنے ہی لوگ ہوں گے جنھیں اقبال کے فارسی کلام سے رغبت ہی قاضی صاحب کی زبان سے اقبال کا فارسی کلام سن سن کر ہوئی۔

آج قاضی صاحب کو رخصت ہوئے سال ہوگیا۔ اندرون ملک اور بیرون ملک انھیں یاد کرنیوالے بیشمار ہیں لیکن ان کی صاحبزادی سمیحہ راحیل قاضی کی یادیں سب سے فرق ہوگئیں لہٰذا خیال آیا کہ ان کے دل کی کیفیت دریافت کریں کہ پچھلے ایک سال کے دوران انھیں کب کب اور کس کس مواقع پر آغا جان کی یاد آئی؟

سمیحہ کی آواز میں اداسی تو تھی لیکن ساتھ ایک عزم اور حوصلہ بھی تھا۔ کہنے لگیں ’’سال کے تین سو پینسٹھ دن میں کوئی دن نہ ہوگا جو ان کی یاد سے خالی گزرا ہو۔۔۔۔ پھر ایک دن میں بھی کئی کئی بار۔۔۔۔ آغا جان کی زندگی ہمارے پورے خاندان کی زندگی سے یوں ہی گندھی ہوئی تھی۔ مشہور ہے کہ بڑے رہنماؤں کو گھر والوں کو دینے کے لیے وقت نہیں ہوتا لیکن ان کے ساتھ ہرگز ایسا معاملہ نہ تھا۔۔۔۔ وہ ہمارے لیے ایک اوپن یونی ورسٹی کی طرح تھے۔ آپ اگر خاص دن یا لمحہ پوچھ رہی ہیں تو وہ الیکشن کے دن بہت یاد آئے۔ پھر مصر میں میدان رابعہ کے موقع پر اور ابھی بنگلہ دیش میں عبدالقادر ملا کی شہادت کی رات۔۔۔۔ میں پوری رات نہ سو سکی۔۔۔۔ آغا جان بتاتے تھے کہ سقوط ڈھاکہ پر ان کی آنکھوں نے جیسے آنسو بہائے ویسے پوری زندگی نہ بہے ہوں گے۔۔۔۔ دل نے کہا کہ اگر آج آغا جان ہوتے تو ان کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوتا۔اس سوال پر کہ کیا کبھی انھیں خواب میں دیکھا؟‘‘

سمیحہ نے کہا کہ میں نے تین دفعہ انھیں خواب میں دیکھا بھرپور انداز میں مصروف جیسے زندگی میں رہا کرتے تھے۔ پختون خوا کے ایک ولی اﷲ بزرگ نے بھی فون پر بتایا کہ انھوں نے آغا جان کو خواب میں دیکھا۔ دیر کے ایک میدان میں۔۔۔۔ جلسہ عام میں۔ کیا انھوں نے کبھی زندگی میں باقاعدہ وصیت کی؟ کہ ایسے اور ایسے کرنا؟

یوں تو وہ کرتے رہتے تھے۔ البتہ 2011 میں قبائلی علاقوں میں دورے کے دوران ان پر بم کا حملہ کیا گیا تھا اس کے بعد وہ پندرہ بیس دن میرے پاس تھے۔ ان دنوں خوب بات چیت ہوتی تھی۔

مجھے یاد ہے کہ جب وہ پہلے دن آئے تو لائٹ گئی ہوئی تھی لیکن اندھیرے میں جیسے ان کے چہرے سے روشنی پھوٹی پڑ رہی تھی۔ اس کا تذکرہ کبھی خاص طور سے نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ اس طرح کی باتوں کا تذکرہ کرنا پسند نہیں کرتے تھے اور نہ حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ان دنوں وہ بہت زیادہ قرآن کی تلاوت کیا کرتے اور نماز میں وقت گزارتے۔۔۔۔ نمازیں لمبی ہوگئی تھیں۔ باتیں بھی زیادہ کرنے لگے تھے۔ ان دنوں دو ہفتے کے دوران انھوں نے کم ازکم چار دفعہ ہدایت کی کہ نظم جماعت کے ساتھ جڑے رہنا اور اطاعت نظم کرنا۔۔۔۔ لوگ ادھر ادھر کی باتیں کریں گے لیکن میری وصیت ہے کہ جو کام کہیں خواہ کیسا ہی ہو۔۔۔۔ خواہ جھاڑو پکڑنے کے کہیں ۔۔۔ عمل کرنا۔۔۔۔ ساری عزت اسی میں ہے۔ لوگ میری محبت بھی تم پر لٹائیں گے۔۔۔۔ ورنہ زمانہ بڑے بڑوں کو نہیں پوچھتا۔ انھوں نے بالکل سچ کہا تھا۔ سارے خاندان کو بے غرض کھری اور شفاف محبت ملی۔ ان کا تذکرہ ہو تو لوگ یوں دلگیر ہوتے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان سے تعزیت کروں، دلاسا دوں۔

وہ مایوسی کے خلاف تھے، وہ کہتے تھے قرآن میں تین دفعہ واضح طور پر اﷲ تعالیٰ نے اس بارے کہا ہے، سورہ توبہ، فتح اور صف میں۔۔۔ یہ کہ ’’وہ اﷲ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو پوری جنس دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اﷲ کی گواہی کافی ہے‘‘۔

دین تو غالب ہونے کے لیے ہی ہے، چاروں طرف جو کشمکش نظر آرہی ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ آج مسلمان خواب غفلت کا شکار ہیں۔ وہ کہتے تھے مزاحمت مسلمان کے خمیر میں ہے۔ لہٰذا اپنا جائزہ اور محاسبہ لازم ہے کہ ہم نے سفر کتنا طے کیا پوچھ سفر کی ہوگی منزل کی نہیں۔

ان کے پاس عورت کے ہر روپ کے لیے عزت اور محبت تھی۔ اپنی والدہ کے چھوٹے بیٹے تھے۔ پانچ بہنوں کے چھوٹے بھائی تھے۔ شریک حیات سے نصف صدی کی رفاقت تھی۔ ہر روپ میں عورت ان کے لیے عزت و احترام کے لائق تھی۔ یہاں تک کہ گھر میں کام کرنے والی خواتین بھی ان کے لیے احترام کے درجے پر رہتی تھیں۔ وہ کہتے تھے عورت کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ’’قواریر‘‘ کہا ہے جو ہیرا بھی ہوتا ہے اور کانچ بھی، یعنی بیک وقت بہت مضبوط اور نازک۔۔۔۔ وہ کہتے تھے عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے جو دل کے قریب اور بازو کے نیچے ہوتی ہے۔ عورت کو محبت اور عزت کا حصار ملے تو وہ ہر کام ممکن کر دکھاتی ہے۔ عورت کا حق محبت، عزت اور احترام ہے۔ یقین رکھیں عورت کے اندر بہت صلاحیت ہے۔ اگر آج کی عورت تبدیلی کا سوچے تو پھر تبدیلی کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔