چین میں ارب پتیوں کی تعداد مزید بڑھ کر 1,058 ہوگئی

ویب ڈیسک  جمعرات 4 مارچ 2021
’ہورون گلوبل رچ لسٹ‘ میں چین گزشتہ چند سال سے امریکا کو مسلسل پیچھے چھوڑتا چلا آرہا ہے۔ (فوٹو: فائل)

’ہورون گلوبل رچ لسٹ‘ میں چین گزشتہ چند سال سے امریکا کو مسلسل پیچھے چھوڑتا چلا آرہا ہے۔ (فوٹو: فائل)

شنگھائی / ممبئی: چین اور بھارت میں بیک وقت کام کرنے والے ریسرچ پلیٹ فارم ’’ہورون رپورٹ انکارپوریٹڈ‘‘ نے دنیا بھر میں ارب پتی افراد سے متعلق اپنی تازہ ترین فہرست جاری کردی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ 2020 میں کورونا وبا کے باوجود چین میں ارب پتی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو اس وقت 1,058 ہوچکی ہے۔

’’ہورون گلوبل رچ لسٹ 2021‘‘ نامی اس فہرست کے مطابق، چین میں صرف ایک سال کے دوران ارب پتی افراد کی تعداد میں 259 اضافہ ہوا جو آج 1,058 ہوگئی ہے؛ جبکہ اسی عرصے میں امریکی ارب پتی افراد کی تعداد 70 اضافے کے ساتھ 696 ہوچکی ہے۔

واضح رہے کہ ’’ہورون گلوبل رچ لسٹ‘‘ میں چین گزشتہ چند سال سے امریکا کو مسلسل پیچھے چھوڑتا آرہا ہے۔

یہ بھی بتاتے چلیں کہ ’’ہورون گلوبل رچ لسٹ‘‘ میں ہر اس شخص کو ’’ارب پتی‘‘ شمار کیا گیا ہے جس کے ذاتی اثاثوں کی مالیت کم از کم ایک ارب امریکی ڈالر کے مساوی یا اس سے زیادہ ہے۔

تازہ فہرست کے مطابق، سرِدست پوری دنیا میں 3,228 ارب پتی موجود ہیں جبکہ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 414 زیادہ ہے۔

عالمی کورونا وبا کے باوجود، دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی دولت میں 3500 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اس وقت ارب پتیوں کی مجموعی عالمی دولت 14,700 ارب ڈالر ہوچکی ہے۔

یہ اضافہ پچھلے سال کے مقابلے میں 32 فیصد ہے جو ایک ریکارڈ بھی ہے۔

اس فہرست میں شامل، چینی کمپنی ’’نونگ فو اسپرنگ‘‘ کے بانی، ژونگ شانشن ذاتی مالیت میں 84.96 ارب ڈالر کے ساتھ دنیا کے دس امیر ترین لوگوں میں شامل ہونے والے پہلے چینی بن گئے ہیں۔

دوسری جانب ’’ٹین سینٹ‘‘ کے سی ای او ’’ما ہوٹینگ چین‘‘ کے دولت مند ترین افراد کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں، جن کی ذاتی دولت 70 فیصد اضافے کے ساتھ 74.21 امریکی ڈالر جتنی ہوچکی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔