کیا یہی حقیقی جمہوریت ہے؟

محمد حسان  ہفتہ 6 مارچ 2021
سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوریت پر عوام کا اعتماد بحال کریں۔ (فوٹو: فائل)

سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوریت پر عوام کا اعتماد بحال کریں۔ (فوٹو: فائل)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سپیرے کو ایک نومولود سنپولا ملا۔ سپیرے نے اس سنپولے کو پال لیا۔ سپیرا غربت کی وجہ سے اس سنپولے کو بھی وہی دال ساگ کھلاتا جو وہ خود کھاتا، یہاں تک کہ وہ سنپولا ایک مکمل اور بڑا اژدھا بن گیا۔

سپیرا اپنی غربت سے تنگ تھا۔ ایک دن اچانک سپیرے کے ذہن میں انوکھا خیال کوندا جو کہ سپیرے کی غربت مٹانے میں مددگار ثابت ہوسکتا تھا۔ سپیرے نے فوری طور پر اس کا تجربہ کیا، جو کہ سو فیصد کامیاب رہا۔ اس نے اژدھے کا منہ کھلوایا اور اس کے کھلے ہوئے منہ میں کھڑا ہوگیا۔ سپیرا پانچ منٹ تک اژدھے کے منہ میں کھڑا رہا لیکن دال روٹی کھانے والے پالتو اژدھے نے سپیرے کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ سپیرا بہت خوش تھا۔ اس نے اگلے ہی دن شہر کے مصروف چوک پر عوام کے سامنے یہ خطرناک مظاہرہ پیش کیا، جسے بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور وہ چند دنوں میں ’’ٹکٹ‘‘ کی مد میں لیے جانے والے پیسوں سے مالا مال ہوگیا۔ اب سپیرے نے باقاعدہ ایک جگہ خرید لی، ڈھیروں ملازم رکھ لیے اور باقاعدہ کاروبار کے طور پر مظاہرہ دکھانے لگا اور خوب پیسے کمانے لگا۔ لوگ ایسا انوکھا مظاہرہ دیکھنے کےلیے میلوں دور سے آنے لگے اور بھاری ٹکٹ خرید کر یہ مظاہرہ دیکھتے۔

جب سپیرے کے پاس دولت کے انبار لگ گئے تو اس کے دل میں خیال آیا کہ اژدھا جو اس کی کامیابی کی بنیادی وجہ ہے، کیوں نہ اسے دال ساگ کے بجائے گوشت کھلایا جائے تاکہ اس کی زیادہ اچھی نشوونما ہوسکے۔ ملازمین کو حکم ہوا اور اژدھے کی غذا میں گوشت شامل کردیا گیا۔ اژدھے کی غذا میں گوشت شامل ہونے کے بعد عوامی مظاہرے کے دن بھرے مجمعے میں لوگوں نے ایک انوکھا منظر دیکھا کہ اژدھا اچانک اپنے کھلے منہ میں کھڑے سپیرے کو نگل گیا اور دیگر لوگوں کو بھی کھانے کےلیے لپکا۔ اس طرح سپیرے کی زندگی کا کھیل ختم ہوگیا۔ سپیرے نے نادانستگی میں اژدھے کے منہ کو گوشت کی صورت میں خون لگادیا تھا، جس کے بعد جب سپیرا اژدھے کے منہ میں کھڑا ہوا تو اسے گوشت اور خون کی مسحور کن خوشبو نے بے چین کردیا اور وہ اپنے منہ میں کھڑے سپیرے کو نگل گیا۔

یہ مثال ’’انفرادی حیثیت‘‘ میں بے شمار سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں پر صادق آتی ہے۔ دراصل جرنیلوں کے منہ کو خون لگانے والے بھی یہی جمہوریت کے علمبردار سیاستدان ہیں، جنہوں نے بلاضرورت جرنیلوں کے منہ کو خون لگایا۔ گو پاکستان میں رائج جمہوری نظام بھی کوئی اعلیٰ و ارفع نظام نہیں ہے، لیکن بہرحال ایک آئینی اور قانونی نظام تو ہے۔ لیکن ہمارے سیاستدانوں نے ماضی اور ماضی قریب میں خود جرنیلوں کو دعوتیں دے دے کر آئینی نظام پر شب خون مارنے پر اکسایا۔

آج جو جماعتیں پی ڈی ایم کی شکل میں متحد ہیں، پہلی بات تو ان میں یہ ہے کہ یہ ایک غیر فطری اور وقتی اتحاد ہے، جو کہ عنقریب ٹوٹنے والا ہے۔ یہ سارا کھیل اقتدار کےلیے کھیلا جارہا ہے۔ اگر حکومت ٹوٹنے جیسی صورتحال پیدا ہوئی تو یہ ساری جماعتیں تتربتر ہوکر اپنی اپنی ذاتی دکانیں چمکانا شروع ہوجائیں گی، تاکہ اقتدار حاصل کیا جاسکے۔ ہر پارٹی کی کوشش ہوگی کہ حکومت میں اکثریت انہیں ملے اور باقی جماعتیں ان کے حکومتی اتحاد میں شامل ہوں، تاکہ ان کی انفرادیت برقرار رہے۔ فضل الرحمٰن کو تو زیادہ فکر نہیں ہوگی کیونکہ وہ تو ایم کیو ایم کی طرح کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ ہو ہی جائیں گے، زیادہ پریشانی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو ہے۔

پی ڈی ایم کی کوئی بھی جماعت ایسی نہیں ہے جو اس بات کا دعویٰ کرسکے کہ اس کے ہاتھ صاف ہیں۔ انہوں نے ماضی میں جرنیلوں کو استعمال نہیں کیا یا خود ان کے ہاتھوں استعمال نہیں ہوئے۔ کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ انہوں نے جرنیلوں سے رقبے نہیں لیے یا انہیں رقبے نہیں دیے۔ پی ڈی ایم کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ صرف اس حکومت کو بنانے میں سلیکٹرز کا کردار ہے۔ کیا پی ڈی ایم یہ بات دعوے سے کہہ سکتی ہے کہ ماضی میں انہوں نے اپنی حکومتوں کےلیے سلیکٹرز سے مدد نہیں لی؟ اگر موجودہ حکومت مدد لے رہی ہے تو آپ بھی ماضی میں لے چکے ہیں، جو اگر سچ ہے تو ایسا نہ پہلے ہونا چاہیے تھا اور نہ اب ہونا چاہیے۔ مطلب اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں، صرف بات اس وقت اقتدار حاصل کرنے کی ہے۔ کیا پی ڈی ایم سیاسی جلسے کرکے اپنی عوامی طاقت حکومت اور لوگوں کو دکھانا چاہ رہی ہے یا جن کو پی ڈی ایم سلیکٹرز کہتی ہے ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانا چاہ رہی ہے تاکہ ان سلیکٹرز کو رام کرکے ان کی مدد سے اپنے اقتدار کی راہ ہموار کی جاسکے؟

اب بات کرتے ہیں حالیہ سینیٹ الیکشن اور وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کی، تو معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ہر پاکستانی یہ چاہتا ہے کہ ان کا اعتماد جمہوریت پر بحال ہو، لیکن ہمارے سیاستدان ان آئینی، قانونی اور اہم ملکی معاملات میں بھی پیسوں کو لے آئے اور دہائیوں سے لا رہے ہیں۔ اور انہوں نے عام آدمی کو یہ کہنے پر مجبور کردیا ہے کہ سیاست ایک گٹر ہے جہاں سب مال بکاؤ ہے۔

موجودہ حکومت اور پی ڈی ایم سمیت اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت کا رول جمہوری نہیں ہے۔ ہر کوئی پیسے لے کر اور کچھ پیسے دے کر گنتی کرنے میں مصروف ہے۔ پی ڈی ایم نے یہاں بھی غیر جمہوری روایت قائم کی کہ اعتماد کے ووٹ کے وقت ایوان کا بائیکاٹ کردیا اور یہ کہا کہ اپوزیشن کی شمولیت کے بغیر یہ ووٹنگ بے معنی ہے۔ جبکہ انہیں چاہیے تھا کہ سڑکوں کی طرح ایوان میں بھی اپنی طاقت دکھاتے اور وزیراعظم کو نکال باہر کرتے اور جمہوری اقدار کو قائم رکھتے۔ کیا پی ڈی ایم کو اس بات کا خطرہ تھا کہ ان کی شمولیت کے باوجود بھی وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ مل جائے گا؟اس لیے اپنی عزت بچانے کےلیے بائیکاٹ کر بیٹھے؟ مطلب جمہوریت کا ناٹک بیکار ہے، یہ سب پیسے اور اقتدار کا کھیل ہے۔ بہرحال ہمارے سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوریت پر عوام کا اعتماد بحال کریں۔ اپنے ہاتھ صاف رکھیں تاکہ ہم حقیقی جمہوریت کی جانب گامزن ہوسکیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد حسان

محمد حسان

محمد حسان ایک نوجوان میڈیا ریسرچر، فری لانس رائٹر، بلاگر اور کارکن برائے انسانی حقوق ہیں آپ انہیں ٹوئیٹر پر @BlackZeroPK سے سرچ کر سکتے ہیں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔