سربراہ براڈ شیٹ کمیشن عظمت سعید کا تنخواہ اورمراعات لینے سے انکار

ویب ڈیسک  پير 8 مارچ 2021
کابینہ ڈویژن نے براڈ شیٹ کمیشن کے سربراہ کی تنخواہ سے متعلق سمری بھجوائی ہے فوٹو: فائل

کابینہ ڈویژن نے براڈ شیٹ کمیشن کے سربراہ کی تنخواہ سے متعلق سمری بھجوائی ہے فوٹو: فائل

 اسلام آباد: جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید نے بطور سربراہ براڈ شیٹ کمیشن تنخواہ اور مراعات لینے سے انکار کردیا۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق برڈ شیٹ کمیشن کے سربراہ نے  حکومت کو ارسال کردہ خط میں لکھا ہے کہ انہیں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تنخواہ اور مراعات نہیں چاہییں۔ سیکرٹری کابینہ اور قانون کو خط کمیشن رجسٹرار نے تحریر کیا ہے۔  جسٹس (ر) عظمت سعید کی طرف سے جاری ہونے والے خط کی کاپی وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو بھی بھیجی گئی ہے۔

قبل ازیں وفاقی حکومت نے براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخواہ اور مراعات دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں کابینہ ڈویژن نے سمری بھی وفاقی کابینہ کو بھجوا دی تھی۔

سمری میں  وفاقی کابینہ سے جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخواہ اور مراعات دینے کی اجازت طلب کی گئی ہے، سمری میں کہا گیا ہے کہ پہلے بنائے گئے کمیشنز کی سربراہی حاضر سروس افسران کرتے تھے اس لیے تنخواہوں اور الاؤنس کا مسئلہ نہیں ہوا، قواعد کے مطابق ریٹائرڈ جج یا افسر کی تعیناتی پر ان کی سابقہ تنخواہ دی جاتی ہے، کمیشن کی جانب سے کوئی اور رکن تعینات کیا گیا تو اس پر بھی یہی رولز لاگو ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق  9 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ کی جانب ستے  جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کی تنخواہ اور مراعات سے متعلق ملنے والی سمری کی باضابطہ منظوری متوقع تھی۔

براڈ شیٹ کیس کیا ہے؟

سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں نیب نے 2000 میں برطانوی کمپنی براڈشیٹ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کمپنی کو 200 سیاسی رہنماؤں، سرکاری افسران، فوجی حکام اور دیگر کے نام دیے گئے تھے، جن کی بیرون ملک جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیل معلوم کرنے کے لیے براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔ 28 اکتوبر 2003 میں نیب نے براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر دیا۔

براڈ شیٹ نے پاکستانی حکومت کے خلاف برطانیہ میں ثالثی کا مقدمہ جیتا۔ عدالتی حکم پر کمپنی کے مالک کاوے موسوی کو برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کے بینک اکاؤنٹ سے لگ بھگ 29 ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی۔ اپوزیشن اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ پر مشتمل ایک رکنی انکوائری کمیشن قائم کیا گیا۔

کمیشن کا دائرہ اختیار ناصرف براڈ شیٹ تنازع کے معاملات کی تحقیقات کرنا ہے بلکہ اس بات پر بھی غور کرنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں چھپائے گئے اثاثے برآمد کرنے کی بے دل اور غلط سمت کوششوں کی وجہ سے ریاست کو اتنا بڑا نقصان کیوں ہوا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔