آئی ایم ایف کی شرائط اور معاشی حکام کا ادراک

ایم آئی خلیل  اتوار 14 مارچ 2021

اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے 140 ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کی منظوری دے دی ہے جس کا نفاذ اگلے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرضوں کے حصول کا معاہدہ ہوا تھا لیکن اس کے لیے سخت ترین شرائط بھی عائد کی گئی تھیں۔

آئی ایم ایف نے اپنی شرائط منوانے کی خاطر قرضہ پروگرام کو روک رکھا ہے۔ البتہ بجلی کی قیمت بڑھانے کی شرط جس کی وزیر اعظم مزاحمت کرتے رہے ہیں بالآخر وہ شرط پوری کرتے ہوئے بجلی کی قیمت بڑھا دی گئی ہے۔ اب 80 اقسام کے ٹیکسوں میں جو چھوٹ دی گئی تھی وہ بھی ختم کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط نے اسٹاک ایکسچینج پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے۔ ان شرائط کو پورا کرنے کے باعث ملک میں مہنگائی کی لہر میں اضافہ ہوگا۔

پاکستان کی معیشت نے کورونا وبا کے دوران دنیا کے بہت سے ملکوں کی نسبت قدرے بہتر صورت حال کا مظاہرہ کیا تھا۔ اب یہ سب آئی ایم ایف کی شرط کی نذر ہو جائے گا۔ پہلے ہی بجلی کے نرخوں میں اضافے کے باعث ہر طرف منفی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب ٹیکس بڑھائے جائیں گے۔ اس کے بعد روپے کی کم قدری پھر ہونے لگے گی۔ آئی ایم ایف سے قرض لینے سے قبل حکومت کے آئی ایم ایف سے کئی مذاکرات ہوتے رہے تھے۔ اگرچہ حکومت آئی ایم ایف کو اس بات سے خبردار کرتی رہی ہے موجودہ صورتحال میں سخت ترین شرائط پر مکمل عملدرآمد کرنا پاکستان کی معیشت کے لیے قطعاً موزوں نہیں ہے۔

کورونا وبا کے باعث 2020 میں پاکستان کو کچھ ریلیف ملا ہوا تھا۔ اگرچہ آئی ایم ایف قرض بحالی کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس دوران پاکستان میں شرح سود میں کمی ہوئی۔ لیکن شرح سود میں زیادہ اضافہ کرنے سے ممکنہ معاشی دباؤ کا خطرہ ہے۔ پاکستان نے پہلے ہی بجلی گیس کے نرخ کافی بڑھا دیے ہیں، لیکن اب روپے کی قدر جس میں کچھ بہتری کے آثار تھے اس میں دوبارہ تنزلی کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان کو 500 ملین ڈالر دے گا، اگرچہ آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کی تعریف کی ہے کہ اس سے معیشت کو فائدہ ہوا ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو رہے ہیں۔

آئی ایم ایف نے معاہدہ کرتے ہوئے 6 ارب ڈالر قرض دینا تھا جس کی ایک قسط کی مالیت 500 ملین ڈالر بنتی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ بیرونی ادائیگی میں سہولت دی جائے ساتھ ہی پائیدار ترقی کی راہ ہموار کی جائے۔ لیکن اس دوران کورونا وبا کے باعث پوری دنیا کی معیشت ڈانواڈول ہونے لگی تو آئی ایم ایف نے بھی ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے ان کو قدرے چھوٹ دے دی تھی جس کا فائدہ پاکستان نے بھی اٹھایا، لیکن کورونا وبا کے باعث پاکستان کی شرح ترقی منفی بھی ہے اب کیا پاکستانی معیشت میں اتنی سکت ہے کہ وہ آئی ایم ایف کی 32 شرطوں کو پورا کرسکے۔ جن میں کئی شرطیں رواں مالی سال میں مان لی گئی ہیں اور جب نئے مالی سال کا آغاز ہوگا تو دیگر شرائط مان لی جائیں گی اس کے بعد معیشت منفی زون سے نکل کر مثبت زون کی طرف کیسے جائے گی؟

بات یہ ہے کہ آیندہ کے لیے بہتر ترقی کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ بجٹ خسارے کو کم کیا جائے اور پاکستان میں ترقیاتی اخراجات جوکہ کافی عرصے سے انتہائی کم ہو رہے ہیں۔ ترقیاتی اخراجات بڑھانے سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہی روپیہ معیشت میں داخل ہو جاتا ہے جس کے باعث معیشت کو ترقی حاصل ہوتی ہے،کیونکہ اس روپے سے پراجیکٹ مکمل ہوتے ہیں۔ سامان خریدے جاتے ہیں اور اس پراجیکٹ سے متعلقہ لوگوں کو ادائیگیاں کی جاتی ہیں لہٰذا معیشت کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اب ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا۔ یوٹیلیٹی بلز میں اضافہ ہوگا۔ لاگت بڑھے گی، مہنگائی بڑھے گی، حکومت پر پھر مزید دباؤ بڑھے گا اور سیاسی عدم استحکام بھی مزید بڑھ کر رہے گا۔

سیاسی اثرات پاکستان کی معیشت، بزنس، اسٹاک ایکسچینج پر منفی طور پر مرتب ہوتے رہتے ہیں۔ پہلی مرتبہ کرنسی کو قدرے استحکام حاصل ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک ڈالر 157 روپے کا بھی دستیاب تھا۔ اب اس پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 24 مارچ کو آئی ایم ایف کے اجلاس میں چوتھا جائزہ لینے کے بعد چاروں جائزوں کی بنیاد پر اور جو شرائط مان لی گئی ہیں اور جو زیرالتوا ہیں ان سب کو مدنظر رکھتے ہوئے امید ہے کہ 50 کروڑ ڈالر کی قسط کی منظوری مل جائے گی۔ اس طرح قسط ملنے کے بعد قرض میں سے کل 2 ارب ڈالر پاکستان کو موصول ہوجائیں گے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کوکم ازکم 32 شرطوں پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ان میں سے کچھ شرائط کو زیرالتوا رکھ دیا گیا ہے۔ ان پر عملدرآمد کی تاریخوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ قصہ مختصر یہ ہے پاکستان کو اب آئی ایم ایف کی بدولت سخت ترین معاشی مشکلات سے گزرنا پڑے گا اور سارا نزلہ پاکستانی عوام پرہی گرے گا۔

حکومت چاہے جتنے ٹیکس صنعتکاروں پر لاگو کردے یہ لازمی امر ہے کہ وہ سب عوام پر ہی منتقل کردیے جائیں گے اور اس کے منفی اثرات برآمدات پر مرتب ہونے کی صورت میں پاکستانی روپیہ متاثر ہوگا۔ کیونکہ آئی ایم ایف کے معالجوں کی نظر میں ایک ہی علاج ہے کہ روپے کی کھل کر بے قدری کردی جائے۔ پھر اس کے ساتھ ہی درآمدات پاکستان میں مہنگی ہوکر رہیں گی۔ بالآخر تان مہنگائی پر آکر ٹوٹے گی۔ اب ایک بڑا امتحان اسٹیٹ بینک کو بھی درپیش ہوگا۔

اگر تو شرح سود بڑھادی جاتی ہے جب بھی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوکر رہے گی۔اس کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک کو مکمل خودمختاری کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔ اب ان لمحات میں ایک اہم سہارا ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہوتے رہنے پر ہوگا۔ اگر محب وطن پاکستانی دیار غیر سے ترسیلات زر میں اضافہ کرتے رہیں اور پاکستان کے حکام اس بات پر گہری نظر رکھیں کہ ہر وہ شے جوکہ تعیشات فضولیات اور اسراف میں آتی ہیں ان کی درآمد کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان پن بجلی کے منصوبوں پر غورکرے تاکہ پن بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے کم لاگت والے لگائے جائیں تاکہ آیندہ چند برسوں میں بجلی کی قیمت کو کم کیا جاسکے۔

کیونکہ ان قرضوں، پھر ان کی سخت ترین تکلیف دہ شرائط کے اثرات اس پورے عشرے میں محسوس کیے جائیں گے۔ جس کا ابھی سے ادراک کرلینا یہ ہمارے معاشی حکام کی کامیابی ہوگی۔ کیونکہ ان قرضوں کے منفی اثرات اور آیندہ مہنگائی سے بچانے کے اقدامات اور مزید ایسی منصوبہ بندی کہ پاکستانی معیشت کو آیندہ بہتر صورتحال کا سامنا کرنا پڑے یہ سب منحصر ہے معاشی حکام کی حکمت عملی پر اور ان کے ادراک پر۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔