ٹوکیو میں پاک امریکا وزرائے خارجہ ملاقات، پاکستان کی امداد کے بجائے تجارت بڑھائیں گے، ہلیری کلنٹن

ایکسپریس اردو  پير 9 جولائ 2012
 وزیرخارجہ حنا ربانی کھر اپنی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن سے ٹوکیو کانفرنس کے موقع پر مصافحہ کررہی ہیں۔ فوٹو ایکسپریس

وزیرخارجہ حنا ربانی کھر اپنی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن سے ٹوکیو کانفرنس کے موقع پر مصافحہ کررہی ہیں۔ فوٹو ایکسپریس

ٹوکیو:  پاکستان اور امریکا نے باہمی تعلقات کو نئے خطوط پر استوار کرنے اور مفاہمت بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ امریکا نے امدادکے بجائے تجارت بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔ اتوار کو جاپان کے شہر ٹوکیو میں افغانستان سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کی سائیڈلائن پر وزیرخارجہ حناربانی کھر اور ان کی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن کے مابین ملاقات ہوئی۔

دونوں وزراء خارجہ کی ون آن ون ملاقات ایک گھنٹہ دومنٹ تک جاری رہی، ملاقات کے بعد جب دونوں وزرائے خارجہ باہر آئیں تو ہلیری کلنٹن نے ہاتھ ہلا کرخوشی کا اظہارکیا۔ اس موقع پر حنا ربانی کھر نے کہاکہ ڈرون حملوں سمیت تمام مسائل پر بات کی ہے، پاک امریکا تعلقات میں کئی مہینوںکا تنائو ختم ہوا ہے، امریکا پاکستان کی پارلیمنٹ کی قراردادوںکی روشنی میںتعلقات آگے بڑھانا چاہتا ہے، سلالہ واقعے پر امریکی معافی پاکستان کی خواہش پر ہوئی ،

امریکا نے محسوس کرلیاکہ پاکستان کو ماضی میںنظرانداز کرنے کی وجہ سے فاصلے بڑھے ، اب ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ امریکی وزیرخارجہ نے نیٹوسپلائی کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاک امریکا تعلقات کا مشکل دور ختم ہوگا اور وسیع البنیاد شراکت داری میں پیش رفت ہوگی، ہم نے مشکلات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور آنیوالے چیلنجوں کا سامنا کریں گے ، ان میں سب سے اہم ان عسکری گروپوں کیخلاف جنگ ہے جو پاکستان کو امریکی فوجیوں پر حملے کیلیے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ لوگ افغانستان کے مستقبل کو بھی متاثر کر تے ہیں، دہشت گردی خطے میں استحکام اور امریکی مفادات کیلیے خطرہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکا سمجھتا ہے کہ پاکستان طالبان اوردیگر گروپوں کو تشدد ترک کرنے اورمذاکرات میں شمولیت اختیار کرنے پر رضا مند کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے تعلقات پیچیدہ لیکن اہم ہیں تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ کئی مواقع پر یہ تعلق مشکلات سے دوچار رہ سکتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کیلیے امداد کی جگہ تجارت بڑھانے کے فارمولے پر کام کر رہے ہیں، امریکا کو پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس ہے، واشنگٹن پاک فوج کیلیے اتحادی سپورٹ فنڈ کے 1ارب10کروڑ ڈالر جاری کرے گا ۔ ملاقات میں ہلیری کلنٹن نے حنا ربانی کھر کو امریکا کے دورے کی دعوت بھی دی جو انھوں نے قبول کر لی۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ مل کر دہشتگردی کیخلاف مشترکہ کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ اے ایف پی کے مطابق ہلیری کلنٹن نے کہا کہ پاکستان اور امریکا نے ماضی کی کشیدگی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنمائوں نے افغان وزیرخارجہ زلمے رسول سے بھی ملاقات کی، جس میں تینوں رہنمائوں نے افغانستان میں قیام امن کیلیے مل کرکام کرنے پر اتفاق کیا ، ملاقات کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغان عوام، پاکستان، امریکا اور عالمی برادری کی قربانیوں اور کوششوں سے خطے میں القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کو ختم کیا گیا ہے۔ دریں اثناء وزیرخارجہ حناربانی کھر نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا سے بھی ملاقات کی ، اس موقع پر سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی، جاپانی میں پاکستانی سفیر نورمحمد اور افغانستان میں پاکستانی سفیر محمدصادق بھی موجود تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایس ایم کرشنا نے پاکستانی ہم منصب سے ابوجندل کا معاملہ اٹھایا اور اس کے متعلق شواہد کا بھی ذکر بھی کیا۔ ملاقات سے قبل ’’ایکسپریس نیوز‘‘ سے گفتگو میں بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا کاکہنا تھا کہ انھوں نے سیکریٹری خارجہ جلیل عباس کو حناربانی کھر سے ٹوکیو میں ملاقات کی دعوت دی تھی، مذاکرات میں ہماری وہی لائن ہوگی جو منموہن سنگھ کی ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ حناربانی کھر کا کہناتھا کہ پاکستان اور بھارت کو باہمی اعتماد سازی کے اقدامات کو مزید بڑھانا ہوگا، مذاکرات کے نتائج بھی برآمد ہونے چاہئیں ۔

انھوں نے کہاکہ سرکریک اور سیاچن پر بھارت کی جانب سے واضح موقف آنا چاہیے، مذاکرات میں کشمیر کو بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا ۔ حناربانی کھر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، جاپان ، جرمنی اورآسٹریلیا کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ایکسپریس کے استفسارپر حناربانی کھر نے کہاکہ امریکی اب پاکستان کی پالیسی کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔ حنا ربانی سے ملاقات کے بعد جاپانی وزیرخارجہ نے کہا کہ جاپان میں پاکستان کیلیے کانفرنس کا انعقاد کریں گے تاکہ یہاں سرمایہ کاری بڑھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔