جرائم پیشہ عناصر کی دھمکیاں، مداخلت نادرا نے صفورا گوٹھ میں دفتر بند کر دیا

سید اشرف علی  جمعرات 9 جنوری 2014
ایجنٹ فی کیس 25 ہزار روپے وصول کرتے تھے، دفتر کا سامان ہیڈ کوارٹر منتقل، علاقے کے عوام مشکلات کا شکار، حکومت عملے کو تحفظ فراہم نہ کرسکی ۔ فوٹو: فائل

ایجنٹ فی کیس 25 ہزار روپے وصول کرتے تھے، دفتر کا سامان ہیڈ کوارٹر منتقل، علاقے کے عوام مشکلات کا شکار، حکومت عملے کو تحفظ فراہم نہ کرسکی ۔ فوٹو: فائل

کراچی: نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی صوبائی انتظامیہ نے سیاسی و لسانی جماعتوں اور ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے تارکین وطن کے شناختی کارڈ بنوانے کے دباؤ پر صفورا گوٹھ پر قائم نادرا کا دفتر بند کردیا۔

کراچی میں نادرا کے دیگر دفاتر کا عملہ بھی عدم تحفظ کے باعث سیاسی و جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں یرغمال بن گیا ہے جس سے خدشہ ہے کہ بڑی تعداد میں جعلی شناختی کارڈوں کا اجرا ہوسکتا ہے، ادارے کے افسران کے مطابق جو شناختی کارڈ غیرقانونی یا نامکمل دستاویزات پر بنوائے گئے ہیں ان نادرا ہیڈکوارٹر کی جانب سے بلاک کردیا گیا ہے، نادرا نے صفورا گوٹھ پر قائم دفتر گزشتہ ہفتے بند کردیا جس سے علاقہ مکینوں کو شناختی کارڈ کے اجرا میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ سیاسی ولسانی اور کالعدم تنظیموں کے کارکن اور جرائم پیشہ افراد کئی ماہ سے نامکمل دستاویزات پر شناختی کارڈ بنوانے آتے اور نادرا کے ملازمین کو دھمکاکر جعلی شناختی کارڈ کا اجرا کروالیتے تھے، صفورا گوٹھ کے اطراف میں نادرا کے 2 مراکز قائم ہیں، یونیورسٹی روڈ پر قائم ایگزیکٹو مرکز رینجرز اور پولیس کے گشت کے باعث جرائم پیشہ افراد کی دسترس سے محفوظ ہے تاہم نادرا رجسٹریشن سینٹر اندر گلی میں یونین کونسل کے دفتر میں قائم ہونے کی وجہ سے غیر محفوظ تھا،جرائم پیشہ افراد عموماً اس سینٹر کے باہر کھڑے رہتے تھے اور جو افراد دستاویزات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے شناختی کارڈ حاصل نہیں کرپاتے تھے ان کے غیرقانونی معاملات لیکر نادرا آفس میں زبردستی جعلی شناختی کارڈ بنوالیا کرتے تھے۔

عموماً غنڈے ایجنٹ شناختی کارڈ پر غلط پتے، تاریخ پیدائش اور دیگر معاملات لیکر آتے تھے جن کا دستاویزی ثبوت نہ ہوتا تھا، یہ ایجنٹ فی کیس 25 ہزار روپے وصول کرتے تھے اور نادرا ملازمین کو ڈرادھمکاکر شناختی کارڈ جاری کرالیا کرتے تھے ان ایجنٹوں کو سیاسی اور لسانی جماعتوں کی سرپرستی حاصل تھی جو تارکین وطن افغانیوں، بنگالیوں اور دیگر افراد کے شناختی کارڈ بنوانے کیلیے دباؤ ڈالتے تھے۔

مسلح غنڈوں کا گروہ نادرا سینٹر پر دھاوا بول کر عملے کو یرغمال بنا کر گن پوائنٹ پر جعلی شناختی کارڈ جاری کراتے تھے، عملے نے بتایا کہ مسلح بدمعاشوں کی غنڈہ گردی عرصے سے جاری تھی نادرا کے اعلیٰ حکام کو اس صورتحال سے آگاہ کیا گیا تھا تاہم سندھ حکومت ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی، مسلح غنڈے جب تارکین وطن کے شناختی کارڈ کے اجرا کیلیے دھمکیاں دینے لگے تو نادرا کے صوبائی حکام نے بالآخر یہ دفتر بند کردیا۔

نادرا کے افسران نے بتایا ہے کہ جو شناختی کارڈ غیرقانونی یا نامکمل دستاویزات پر بنوائے گئے ہیں ان تمام شناختی کارڈوں کو نادرا ہیڈ کوارٹر نے بلاک کردیا ہے، صفورا گوٹھ پر قائم نادرا کے بند ہونے والے دفتر سے سامان صوبائی ہیڈ کوارٹر منتقل کردیا گیا ہے اس سینٹر سے فری کیٹگری سے لیکر300 روپے ارجنٹ فیس لیکر شناختی کارڈ کا اجرا ہوتا تھا اور اطراف کی آبادیوں کے شہری یہاں سے کم فیس میں شناختی کارڈ بنوالیا کرتے تھے جبکہ صفورا گوٹھ پر قائم ایگزیکٹو سینٹر پر1500فیس وصول کرکے شناختی کارڈ جاری کیا جاتا ہے، واضح رہے 2 سال قبل مسلح غنڈوں نے کیماڑی کے نادرا دفتر میں جعلی شناختی کارڈ بنوانے کیلیے ملازمین پر تشدد کیا تھا جس پر نادرا کیماڑی کا دفتر دوسری جگہ منتقل کردیا گیا، نادرا کے کئی دفاتر میں بھی ملازمین عدم تحفظ کا شکار ہیں، تحفظ کے ناقص نظام کے باعث اکثر مسلح افراد نادرا مراکز میں گھس کر جعلی شناختی کارڈوں کے اجرا کیلیے ملازمین پر دباؤ ڈالتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔