کرکٹ کا سونامی؛ آئی سی سی کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

اسپورٹس ڈیسک  جمعـء 16 اپريل 2021
چیف ایگزیکٹیوز کمیٹی کے اجلاس میں معاملات کو سلجھانے کاآغازہوگا۔ فوٹو: فائل

چیف ایگزیکٹیوز کمیٹی کے اجلاس میں معاملات کو سلجھانے کاآغازہوگا۔ فوٹو: فائل

دبئی: کرکٹ کے سونامی نے آئی سی سی کیلیے خطرے کی گھنٹی بجا دی جب کہ 8 برس کے اگلے دورانیے میں انٹرنیشنل میچز، نئے ایونٹ اور ڈومیسٹک لیگز کو جگہ دینا چیلنج بن چکا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی چیف ایگزیکٹیوز کمیٹی نے 33-2023 کے اگلے 8 سالہ دورانیہ کے خدوخال کا جائزہ لینا شروع کردیا،’’کرک انفو‘‘ کے مطابق اب تک کمیٹی اس حوالے سے مختلف بورڈز کی رائے حاصل کررہی ہے۔

کمیٹی کے سامنے 2 بڑے سوال ہیں، ایک یہ کہ آئی سی سی ایونٹس اور ڈومیسٹک لیگز کی وجہ سے کیلنڈر میں باہمی سیریز کیلیے کتنی جگہ بچے گی، دوسرا سوال یہ ہے کہ ورلڈ کپ سپر لیگ اور ٹیسٹ چیمپئن شپ کیسی ہونا چاہیے۔

آئی سی سی اگلے دورانیے میں ایک اور انٹرنیشنل ایونٹ کیلنڈر میں شامل کرنا چاہتی ہے جو ون ڈے یا ٹی 20 ٹورنامنٹ ہوسکتا ہے، بھارتی کرکٹ بورڈ اس کا سب سے بڑا مخالف ہے،اس معاملے میں آسٹریلیا اور انگلینڈ بھی اس کے ہمنوا ہیں۔

اس وقت ون ڈے کرکٹ کا مستقبل بھی زیر غور ہے کیونکہ ٹی 20 اور ٹیسٹ کرکٹ مستحکم نظر آتے ہیں مگر باہمی ون ڈے سیریز میں زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کی جا رہی، ایک فرمائش ون ڈے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کی ہے،سپر لیگ کی ٹاپ 8 ٹیمیں 2023 کے میگا ایونٹ میں براہ راست انٹری پائیں گی، باقی 2 جگہوں کیلیے کوالیفائنگ ایونٹ ہوگا، سپر لیگ میں ابھی 13 ٹیمیں شامل ہیں۔

اگر 2027 کے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد بڑھائی جاتی ہے تو ہے پھر سپر لیگ کا مقصد ہی ختم ہوجائے گا،اگر سپر لیگ میں بھی ٹیموں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو پھر یہ کیلینڈر کا کافی ہڑپ کرجائے گی، یہی معاملہ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا ہے جس میں زمبابوے، افغانستان اور آئرلینڈ بھی شامل ہونا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب ہر ملک اپنی ڈومیسٹک لیگ کیلیے کیلنڈر میں جگہ چاہتا ہے، اس حوالے سے پاکستان اور جنوبی افریقہ کی لیگز کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے، یہ ایسے موقع پر کھیلی جاتی ہیں جب تمام ٹاپ 6 ٹیمں ایک ساتھ فارغ نہیں ہوتیں، یہ صورتحال آئی سی سی کیلیے کسی دردسر سے کم نہیں اور وہ اسے سلجھانے کی خواہاں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔