روایات اور اخلاقیات کا جنازہ

احتشام بشیر  بدھ 21 اپريل 2021
دوران اجلاس شاہد خاقان نے اسپہکر قومی اسمبلی کو جوتا مارنے کی دھمکی دی۔ (فوٹو: فائل)

دوران اجلاس شاہد خاقان نے اسپہکر قومی اسمبلی کو جوتا مارنے کی دھمکی دی۔ (فوٹو: فائل)

آئینی طور پر ریاست کے تین ستون ہیں، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ۔ مقننہ یعنی پارلیمنٹ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں ملک کی قسمت کے فیصلے کیے جاتے ہیں، ملک کا بجٹ پاس ہوتا ہے، قانون سازی ہوتی ہے اور اہم ملکی معاملات زیر بحث آتے ہیں اور اس بحث و مباحثے میں ایک قومی پالیسی بن کر سامنے آتی ہے۔

عوام کے ووٹوں سے قومی اسمبلی کے رکن بننے والوں سے عوام کی توقعات ہوتی ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں ان کی آواز اٹھائیں گے، جہاں حکومت ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ان کی آواز سنے گی۔ اسی لیے قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حزب اقتدار کا فرق رکھا گیا ہے۔ اقتدار سے باہر جماعتوں کے نمائندے اپوزیشن میں رہ کر اپنے حلقے اور عوامی مسائل کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لاتے ہیں اور یہاں سے ہونے والے فیصلے قومی پالیسی کی صورت بنتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں قومی اسمبلی کو ایک جرگے اور پنجایت کی حیثیت بھی حاصل ہے، جہاں اسپیکر کا کردار ایک مشر یعنی بڑے کے ساتھ مصالحت، فیصلہ ساز کا بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے اسپیکر کی حیثیت کو مقدم رکھا گیا ہے اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے ساتھ روایات اور اخلاقیات اسپیکر کے احترام کا درس دیتی ہیں۔ اسپیکر کا کردار حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پل کا بھی ہوتا ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن کسی معاملے پر ڈیڈلاک کا شکار ہوجائیں تو اسپیکر کو اپنا آئینی اور بڑے پن کا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔

ایوان کے تقدس کےلیے ضابط اخلاق بھی بنائے گئے ہیں اور ہماری کچھ روایات بھی ہیں جس کا خیال رکھا جاتا ہے۔ لاکھ سیاسی اختلافات سہی لیکن قومی اسمبلی کے تقدس، مقننہ کے ضابطہ اخلاق اور روایات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے عوامی نمائندگی کرنے والے عوام کے مسائل بھول کر آپس کے اختلافات میں پڑگئے ہیں۔ سیاسی اختلافات میں روایات اور اخلاقیات کی سب حدیں پار کردی گئی ہیں۔ سیاسی جنگ میں برداشت کا مادہ ختم ہوگیا ہے۔

ماضی میں قومی اسمبلی اجلاسوں کے دوران اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بہت سے معاملات پر اختلافات دیکھنے میں آئے، یہاں تک کہ بحث و مباحثے میں ایک دوسرے پر غصے میں حملے کی بھی کوشش کی گئی۔ وزیراعظم کی موجودگی میں ایک دوسرے پر غصے کا اظہار بھی کیا گیا اور پھر معاملات کو سدھار لیا گیا۔ پارلیمنٹ میں یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ وزیراعظم کی تقریر کے دوران شور شرابہ بھی کیا گیا اور اسپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج بھی دیکھنے میں آئے۔ لیکن ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ اسپیکر جو کسٹوڈین آف دی ہاؤس ہیں، ان کے خلاف ایسی زبان استعمال کی جائے جو گزشتہ روز سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے استعمال کی۔

اجلاس کے دوران فرانسیسی سفیر کے حوالے سے قرارداد کے وقت جب اسپیکر کارروائی چلا رہے تھے تو اس وقت بولنے کی اجازت نہ ملنے پر شاہد خاقان عباسی آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے اسپیکر سے ایسا رویہ اپنایا جس کی توقع ان جیسے پرانے اور سمجھدار سیاستدان سے نہیں کی جاسکتی تھی۔ اسپیکر کو یہ کہہ دینا کہ وہ ’’جوتا مار دیں گے‘‘۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے اس رویے پر اسپیکر نے انہتائی ضبط کا مظاہرہ کیا، اس وقت وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کے خلاف کارروائی بھی کرسکتے تھے لیکن انہوں نے درگزر کی پالیسی اپنائی اور ایوان کی کارروائی کو آگے بڑھایا۔

شاہد خاقان عباسی کے اس رویے پر سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ہر کسی نے اسپیکر کے خلاف ان کے رویے کی مذمت کی۔ سیاسی اختلاف اسپیکر سے بھی کیا جاسکتا ہے اور کیا جاتا رہا ہے، لیکن سیاسی اختلاف میں اس قدر آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔ اسد قیصر کی شخصیت سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اس وقت اسپیکر کی نشست کا احترام کرنا چاہیے تھا۔ خیال یہ کیا جارہا تھا کہ وزیراعظم جیسے منصب پر رہنے والے شاہد خاقان عباسی شاید اپنے بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے رویے پر معافی مانگیں اور شرمندگی کا اظہار کریں گے لیکن انہوں نے رات ٹی وی چینل پر ایک پروگرام میں اپنے رویے کا تحفظ کیا۔

پارلیمان میں آج اسپیکر اسد قیصر کے ساتھ ایسا رویہ اپنایا گیا ہے تو آئندہ دوسری دوسری حکومت میں بھی کسی اور اسپیکر کے ساتھ بھی ایسا رویہ اپنایا جاسکتا ہے۔ اس غیر پارلیمانی اور غیر اخلاقی رویے کو روکنے کےلیے اپوزیشن اور حکومت دونوں کو سوچنا ہوگا اور ایسی حکمت عملی اپنانی چاہیے کہ آئندہ کوئی اسپیکر کی کرسی کی بے توقیری نہ کرے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔