رحمت عالم حضرت محمد ﷺ کا دشمنوں سے حسن سلوک

محمد کامران خالد  منگل 14 جنوری 2014
جس کسی نے حضور ﷺ کو آزار پہنچایا، اگرچہ آپ ﷺ با اختیار تھے، لیکن آپ ﷺ نے انہیں معاف فرما دیا۔  فوٹو : فائل

جس کسی نے حضور ﷺ کو آزار پہنچایا، اگرچہ آپ ﷺ با اختیار تھے، لیکن آپ ﷺ نے انہیں معاف فرما دیا۔ فوٹو : فائل

یہ عام سی بات ہے کہ انسان اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور دوست احباب سے تو حسن سلوک کرتا ہے، مگر اپنے کسی دشمن سے تو شاید ہی کوئی حسن سلوک کرے۔

مگر جن کا ہم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے اور جن کی غلامی پر ہم کو ناز ہے، وہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کا حسن سلوک دشمنوں اور جانی دشمنوں تک کے لیے بھی، اس قدر وسیع اور عام ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ آج ہم آپ ﷺ کے عفو درگزر اور حسن سلوک کے چند ایمان افروز واقعات قارئین کی نذر کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

ایک بار ایک یہودی اور ایک مسلمان کا مقدمہ حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں پیش ہوا، آپ ﷺ نے مذہب اور عقیدہ کا لحاظ کیے بغیر حقائق کی بناء پر یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا۔ عدل و انصاف پر زور دیتے ہوئے آپ ﷺ نے قرآن کریم کی یہ تعلیم پیش فرمائی ہے کہ (سورہ مائدہ) کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بے انصافی سے کام لو، ہمیشہ عدل و انصاف کو قائم کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور ﷺ نے مشرکین مکہ سے معاہدہ کیا تھا کہ اگر مکہ سے کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ حضور ﷺ کے پاس پہنچے گا تو اسے واپس بھیجا جائے گا اور اگر کوئی مسلمان مدینہ سے واپس مکہ چلا جائے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا، بہت سے مسلمانوں کو مکہ میں اذیتیں دی جاتی تھیں اور وہ مجبور تھے کہ مکہ سے ہجرت کرکے حضور ﷺ کے پاس مدینہ آجائیں، ایسے ہی لوگوں میں ابو جندلؓ اور سہیلؓ بھی شامل تھے، جن کو مکہ میں اسلام قبول کرنے کی وجہ سے سخت اذیت دی جاتی تھی اس لیے وہ مدینہ آگئے تھے۔ لیکن آپ ﷺ نے دشمنوں سے بھی معاہدہ کی اس حد تک پابندی کی کہ ابو جندلؓ کو واپس مکہ بھجوا دیا حالاںکہ انہیں وہاں سخت اذیتیں دی جاتی تھیں۔

فتح خیبر کے موقع پر مفتوح یہودیوں نے درخواست کی کہ ہمیں بے دخل نہ کیا جائے، ہم نصف پیداوار مسلمانوں کے حوالے کر دیا کریں گے، حضور ﷺ نے ان کی درخواست کو قبول فرما لیا۔ مگر یہودیوں نے اس احسان کے باوجود حضور ﷺ سے یہ سلوک کیا کہ ایک یہودی عورت نے حضور ﷺ کو زہر ملا گوشت کھلا کر شہید کرنے کی کوشش کی۔ حضور ﷺ کو جب اس خوف ناک سازش کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے اسے طلب فرمایا اور اس نے اقرار کیا کہ بے شک میری نیت آپ کو قتل کرنا تھی، آپ ﷺ نے فرمایا مگر اﷲ کی منشاء نہ تھی کہ تیری آرزو پوری ہوجائے۔ صحابہؓ نے اسے قتل کرنا چاہا تو آپ ﷺ نے منع فرما دیا، حضور ﷺ نے جب اس عورت سے پوچھا کہ تمہیں اس ناپسندیدہ فعل پر کس بات نے آمادہ کیا تو اس نے جواب دیا، میری قوم سے آپ ﷺ کی لڑائی ہوئی تھی، میرے دل میں آیا کہ آپ ﷺ کو زہر دے دیتی ہوں اگر واقعی آپ نبی ہوئے تو بچ جائیں گے۔ رسول ﷺ نے اسے معاف فرما دیا۔ جانی دشمنوں کے ساتھ ایسا سلوک یقینا عفو کی مثال کامل ہے جو تاریخ عالم میں کہیں نہیں مل سکتی۔

اسی جنگ خیبر میں ابھی محاصرہ جاری تھا کہ ایک یہودی رئیس کا گلہ بان جو اس کی بکریاں چرایا کرتا تھا، مسلمان ہو گیا، مسلمان ہونے کے بعد اس نے کہا یا رسول اﷲ ﷺ! اب میں ان لوگوں کے پاس تو جا نہیں سکتا اور یہ بکریاں اس یہودی رئیس کی امانت ہیں اب میں کیا کروں؟ سرکار ﷺ نے فرمایا بکریوں کا منہ قلعہ کی طرف کر دو اور ان کو پیچھے سے ہانک دو، اﷲ خود انہیں ان کے مالک کے پاس پہنچا دے گا، چناںچہ اس نے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعے کے پاس چلی گئیں جہاں سے قلعہ والوں نے ان کو اندر داخل کر لیا۔

اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ نبی پاک ﷺ کس قدر امانت اور دیانت کے اصولوں پر عمل پیرا تھے۔ کیا آج کل کے مہذب زمانہ میں بھی ایسی کوئی مثال مل سکتی ہے کہ دشمن کے جانور ہاتھ آجائیں اور پھر انہیں واپس لوٹا دیا جائے، کیا اس کے صاف معنی یہ نہ تھے کہ دشمن کے لیے مہینوں کی غذا کا سامان مہیا کر دیا جائے، مگر رحمت عالم ﷺ نے یہ خطرہ مول لے لیا، لیکن یہ پسند نہیں فرمایا کہ اس مسلمان کی امانت میں فرق آئے جس کے سپرد وہ بکریاں تھیں۔ ایک اور موقع پر آپ ﷺ جہاد میں مشغول تھے، دشمنوں نے آپ ﷺ کی صفوں میں کچھ بدنظمی پائی اور ایک کافر تلوار لے کر آپ ﷺ کے سر پر آگیا اور کہنے لگا محمد ﷺ اب آپ کو کون بچا سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اﷲ، یہ سن کر اس پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گئی، آپ ﷺ نے فورا اس کی تلوار اٹھا لی اور فرمایا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ وہ کافر بولا آپ نے مجھے اسیر کر لیا اب دوسرے قید کرنے والوں سے بہتر سلوک مجھ سے کیجئے، آپ ﷺ نے اسے معاف فرما دیا۔

جب وہ کافر اپنے لوگوں میں واپس آیا تو کہنے لگا میں اس وقت دنیا میں سب سے بڑے انسان کے پاس سے آرہا ہوں۔ جس کسی نے حضور ﷺ کو آزار پہنچایا، اگرچہ آپ ﷺ با اختیار تھے، لیکن آپ ﷺ نے انہیں معاف فرما دیا۔ آپ ﷺ سب سے زیادہ حلیم اور معاف فرمانے والے تھے۔ ہر مخلوق پر ہمیشہ رحم فرماتے۔ ایک موقع پر ایک یہودی نے حضور اکرم ﷺ سے قرض کی ادائی میں سختی کرتے ہوئے گستاخی کے کلمات کہے اور حضور ﷺ کے گلے میں چادر ڈال کر بل دیا، آپ ﷺ کی رگیں ابھر آئیں، حضرت عمرؓ اس موقع پر موجود تھے، وہ یہ صورت حال دیکھ کر بے قابو ہوگئے، انہوں نے بڑی سختی سے یہودی کو ڈانٹا، یہ سن کر رحمت عالم ﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا عمر! تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، تمہیں چاہیے تھا کہ اسے نرمی سے سمجھاتے، کیوں کہ ابھی اس کے قرض کی ادائی کی میعاد میں تین دن باقی ہیں اور تمہیں مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ قرض وقت پر ادا کرو۔

اس کے بعد حضرت عمر ؓ کو حکم دیا کہ تم میری طرف سے اس کا قرض بے باق کر دو اور بیس صاع کھجور مزید اپنی طرف سے اس سخت کلامی کے تاوان کے طور پر اسے ادا کرو۔ یہ رحمت دوعالم ﷺ کا کردار ہے کہ کس طرح آپ ﷺ نے اپنے دشمنوں سے معاملہ فرمایا۔ کعب بن زبیر جو عرب کا مشہور شاعر تھا اور ہمیشہ سرکار دوعالم ﷺ اور اسلام کی مخالفت میں شعر کہہ کر لوگوں کو اشتعال دلایا کرتا تھا اس کے دل کو اﷲ نے بدل دیا، اسے بھی آپ ﷺ نے معاف فرما دیا، وہ آپ ﷺ کی مدح میں ایک مشہور قصیدہ لے کر حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا۔

یہ وہی قصیدہ ہے جو بانت سعاد کے نام سے مشہور ہے۔ غزوہ بنو مصطلق میں رئیس المنافقین عبداﷲ بن ابی سلول نے سرکار دوعالم ﷺ کی شان میں گستاخی کا یہ فقرہ کہا کہ مدینہ جا کر میں جو سب سے زیادہ معزز ہوں سب سے زیادہ ذلیل شخص کو مدینہ سے نکلوا دوں گا۔ ایسی گستاخی پر صحابہ کرام ؓ نے چاہا کہ اسے قتل کر دیا جائے، کیوں کہ یہ گستاخ رسول ﷺ ہے۔ مگر حضور پاک ﷺ نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی، گستاخی کے اس فقرے کا جب اس کے مخلص بیٹے کو علم ہوا تو اس نے حضور ﷺ سے اپنے گستاخ باپ کو خود قتل کر دینے کی اجازت طلب کی، آپ ﷺ نے اسے بھی منع فرمایا اور فرمایا کہ ہم تمہارے باپ سے نرمی اور احسان کا معاملہ کریں گے۔

اس کے باوجود غیرت مند بیٹے نے مدینہ میں داخل ہونے سے قبل اپنے باپ کو گھوڑے سے اتار لیا اور اس سے جب تک یہ نہیں کہلوایا کہ وہ خود مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل اور محمد ﷺ سب سے زیادہ معزز ہیں، اسے نہیں چھوڑا۔ یہی عبداﷲ بن ابی سلول جب فوت ہوا تو اس کے بیٹے نے حضور پاک ﷺ سے جنازہ پڑھنے کی درخواست فرمائی، حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں جنازہ پڑھا دیتا ہوں، یہ سن کو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اﷲ نے قرآن میں منافق کا جنازہ پڑھنے سے منع کرتے ہوئے یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر آپ ﷺ ستر بار بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں، پھر بھی اﷲ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا۔ یہ سن کر سراپا رحمت ﷺ نے فرمایا کہ میں اس کے لیے اس سے زیادہ بار مغفرت کی دعا کروں گا۔

آج کا مقدس دن بھی ہم سے یہی تقاضا کر رہا ہے کہ ہم سب اپنے نبی پاک ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں اور آپس میں پیار، رواداری، محبت اور بھائی چارہ قائم کریں۔ اﷲ ہمیں اپنے محبوب پاک ﷺ کے صدقے اور آج کے دن کی عظمتوں کے طفیل معاف فرمائے اور پاکستان کی حفاظت فرمائے، آمین۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔