زندگی میں ڈسپلن لائیے

عمیر اکرم میواتی  جمعـء 14 مئ 2021
قدرت کا سارا نظام ہی ڈسپلن پر کاربند ہے۔ (فوٹو: فائل)

قدرت کا سارا نظام ہی ڈسپلن پر کاربند ہے۔ (فوٹو: فائل)

کشتی اور چپو ایک دوسرے کےلیے لازم و ملزوم ہیں۔ کشتی کو چلانے کےلیے چپو نہ ہو تو اس کا کنارے لگانا مشکل ہے۔ اسٹیشن پر پہنچنے کےلیے ضروری ہے کہ ٹرین پٹڑی سے نہ اترے۔ گھوڑے کو لگام اس لیے ڈالی جاتی ہے کہ اس کو غلط سمت جانے سے روکا جاسکے۔ اندھے کے ہاتھ میں لاٹھی ہو تو ٹھوکر لگنے کا احتمال نہیں رہتا۔

مندرجہ بالا مثالوں میں ایک قدر مشترک ہے جسے نظم وضبط یا ڈسپلن کہتے ہیں۔ سمندر میں چپو کشتی کا نظم برقرار رکھتا ہے۔ پٹڑی ٹرین کو اور لگام گھوڑے کو ضبط مہیا کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح کامیابی کا چپو، پٹڑی، لگام اور لاٹھی ڈسپلن ہے پھر چاہے اس کا تعلق ہمارے ذاتی اطوار سے ہو یا پھر اجتماعی افعال سے۔ اعمال کا دارومدار اگر نیت کی مرہون منت ہے تو کامیابی کا تعلق ڈسپلن کی بجاآوری سے ہی ممکن ہے۔ اسکولوں میں سب سے پہلا کام جو سر انجام دیا جاتا ہے وہ اسمبلیوں کی صورت میں بچوں کو ڈسپلن کی عملی تربیت فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس بات سے ہم ڈسپلن کی قدرو قیمت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔

سورج کا وقت پر طلوع ہونا، چاند ستاروں اور کہکشاٶں کے جھرمٹ کا اپنے اپنے محور کا پابند ہونا اللہ تعالیٰ کے تخلیق کردہ ڈسپلن کی ایک بے نظیر مثال ہے۔ نہ رات صبح سے پہلے آتی ہے نہ صبح رات سے پہلے۔ قدرت کا سارا نظام ہی ڈسپلن پر کاربند ہے۔ اگر یہ پابند نہ رہیں تو دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے۔ ہماری زندگیاں بھی اسی ڈسپلن کی متقاضی ہیں۔ اگر زندگی میں نظم و ضبط کا وجود نہ ہو تو اس کا نظام بھی بگڑ جاتا ہے۔ طعامِ بے ترتیب سے معدہ کا ڈسپلن بگڑتا ہے۔ وقت پر نہ سونا صحت کو زک پہنچاتا ہے، بے ہنگم ٹریفک سے حادثات جنم لیتے ہیں۔ تجاوزات شہر کے حسن کو پھیکا کردیتی ہیں۔ اور نظریات میں ڈسپلن کا نہ ہونا ایک قوم کو ہجوم میں بدل دیتا ہے۔

ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا مشاہدہ عمل میں لاٸیں تو وہاں کے انفرادی و اجتماعی رویوں میں ڈسپلن کا چال چلن نمایاں ہے۔ آٸین کو عزت بخشی جاتی ہے۔ وہاں لاٸن توڑ کر آگے پھلانگنے کی سعی نہیں کی جاتی، پان سے دیواروں کے منہ پر نہیں تھوکا جاتا۔ ٹریفک قوانین کی دھجیاں نہیں اڑاٸی جاتی۔ انہیں دیواروں پر لکھنا نہیں پڑتا کہ ’’یہاں لکھنا منع ہے۔‘‘ شاید یہ قباحتیں آپ کو نچلی سطح کی معلوم ہوں مگر یہ کسی بھی معاشرے کی سماجی و اخلاقی قدروں کی عکاس ہوتی ہیں۔

اسلام ڈسپلن کا سب سے بڑا داعی ہے۔ وقت پر اذان و صلوٰة، عربی و عجمی، ثروت مند اور غریب کندھے سے کندھے ملائے اللہ کے حضور کھڑے نظر آتے ہیں۔ بدنی عبادت سے ہٹ کر یہ ڈسپلن کا عملی مظاہرہ بھی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان جس کا قومی قول ہی ’’اتحاد، ایمان اور نظم‘‘ ہے وہاں نظم و ضبط کا فقدان نظر آتا ہے۔ عمرانی معاہدے کا لب لباب ہی یہ تھا کہ فراٸض ادا کرنے کے عوض آپ کو حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ ہم کوڑا سڑکوں پر پھینک کر صحت مند معاشرے کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ ووٹ بیچ کر تقدیر نہیں بدلی جاسکتی۔

سیاسی ضمن میں پرکھا جائے تو ریاست کو جو چیز ضبط کی لڑی میں پروتی ہے، وہ آٸین ہے۔ اگر اس پر عمل نہ ہو تو ترقی کا خواہاں ہونا محض دیوانے کا خواب تو ہوسکتا ہے پر حقیقت نہیں۔ آٸین کا نفاذ ہی صحیح معنوں میں ریاست کے بپھرے عناصر کو نتھ ڈال سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آٸین پر عملداری ہمیشہ تعطل کا شکار رہی ہے۔ جس نے ریاستی معاملات کے ڈسپلن میں بگاڑ پیدا کیا اور اسی اجتماعی غفلت کے باعث ہمارا ملک مختلف مساٸل کی آماج گاہ بنتا چلا آرہا ہے۔ مشینری کو زنگ یا رواں رکھنے کےلیے ضرورت پڑنے پر تیل اور مرمت وغیرہ کی جاتی ہے، پوری مشین کو نہیں بدلا جاتا۔ اسی طرح آٸین میں کوٸی سقم یا ڈسپلن کا غماز ہو تو اس کا بھی طریقہ آٸین میں موجود ہے۔

اس کی مثال ہم یوں لے سکتے ہیں کہ اگر ٹریفک کے قوانین یا سڑک پر ڈسپلن کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا تو جانی و مالی حادثات ہوتے ہیں اور اگر آٸین پر عملدرآمد نہ ہو تو سیاسی و قومی حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ہم ماضی میں ایسے حادثات کا تلخ تجربہ سقوط ڈھاکا اور کٸی آمرانہ ادوار کی صورتوں میں کرچکے ہیں۔ پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک قومی سوچ گرادب کی نذر ہوتی رہی ہے۔ گو کہ اب جمہوریت ہے لیکن گاہے بگاہے آمریت کی دھول اڑتی رہتی ہے۔ جب ایک قوم کی سوچ اور نظریات ڈسپلن کے پابند نہ رہیں تو آمرانہ عناصر کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔

عوامل چاہیں سیاسی ہوں یا سماجی، انفرادی ہوں یا اجتماعی، جب تک ان کو ڈسپلن سے بہرہ ور نہیں کیا جاتا ترقی ممکن نہیں ہے۔ انسانوں اور جانوروں کو ایک دوسرے سے جو عوامل ممتاز کرتے ہیں ڈسپلن ان میں سے ایک ہے۔ انسانوں کےلیے آٸین بنائے جاتے ہیں جبکہ جانوروں کے ریوڑ کےلیے ڈنڈے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہی چیز ہمیں جانوروں سے منفرد بناتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔