قسمت ہوئی مہربان: بے گھر نوجوان راتوں رات سپر ماڈل بن گیا

ویب ڈیسک  منگل 11 مئ 2021
علی اولاکومنی ایک پل کے نیچے سو رہا تھا اور فوٹو شوٹ ڈائریکٹر نے اسے سپر ماڈل بنا دیا۔ (تصاویر: سوشل میڈیا)

علی اولاکومنی ایک پل کے نیچے سو رہا تھا اور فوٹو شوٹ ڈائریکٹر نے اسے سپر ماڈل بنا دیا۔ (تصاویر: سوشل میڈیا)

لاگوس: نائجیریا کا ابھرتا ہوا ماڈل ’’علی اولاکومنی‘‘ آج سے ڈیڑھ ماہ پہلے تک ایک بے گھر نوجوان تھا جو دن بھر میں چھوٹی موٹی مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتا تھا اور تھک ہار کر جہاں جگہ ملتی، وہیں سو جاتا۔

ہوا یوں کہ اپریل کی ابتداء میں لاگوس کی ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں ایفولابی، المعروف ’’اے ایل‘‘ نامی کری ایٹیو ڈائریکٹر اوسون اسٹیٹ میں ایک پل کے نیچے اپنے تمام عملے سمیت موجود تھا۔

یہ جگہ اس نے ایک تازہ فوٹو شوٹ کےلیے منتخب کی تھی لیکن جس ماڈل کو اس فوٹو شوٹ میں کام کرنا تھا، وہ کسی وجہ سے لوکیشن پر نہیں پہنچ سکا۔

تیاری مکمل ہونے کی وجہ سے ایفولابی وہ فوٹو شوٹ کسی صورت میں منسوخ کرنا نہیں چاہتا تھا لہذا اس نے پل کے نیچے ہی چکر لگانا شروع کردیا۔

کچھ دوری پر اسے پل کے نیچے سوتے ہوئے کچھ لوگ دکھائی دیئے جن میں سے ایک کا حلیہ اسے مطلوبہ ماڈل کے حساب سے موزوں ترین لگا۔ ایفولابی نے فوراً اسے جگایا اور فوٹو شوٹ میں کام کرنے کی پیشکش کر ڈالی۔

علی اولاکومنی نامی یہ نوجوان پہلے تو بوکھلایا لیکن جلد ہی سنبھل گیا اور اس نے ایفولابی کی پیشکش قبول کرلی۔

اگلے ایک گھنٹے میں ماڈل کے کپڑے علی کو پہنائے گئے جو حیرت انگیز طور پر بالکل فٹ آئے۔ فوٹو شوٹ شروع ہوا اور کامیابی سے مکمل ہوگیا۔

اگلے روز ایفولابی نے یہ واقعہ، تصاویر سمیت اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کردیا۔

اور اس طرح ’’علی‘‘ کے نام سے ایک نئے ماڈل کا جنم ہوا۔ لیکن ایفولابی صرف یہیں پر نہیں رکا، بلکہ اس نے علی کےلیے ایک علیحدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بنوادیا، جس کے فالوورز کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔

اسی اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کے جواب میں ایک صارف نے مختصر ویڈیو بھی شیئر کروا دی ہے جس کے پہلے حصے میں ’’علی‘‘ کو پل کے نیچے سوتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ یکایک اس کی کایا پلٹ ہوجاتی ہے:

اگر آپ کے خیال میں یہ واقعہ معمولی ہے تو یاد کیجیے کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی ایک ’’چائے والا‘‘ تھا جو سوشل میڈیا کی بدولت راتوں رات شہرت کی بلندی پر پہنچ گیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔