عام انجکشن سے بدن میں داخل کی جانے والی معالجاتی چپ

ویب ڈیسک  جمعـء 14 مئ 2021
تصویر میں عام انجیکشن کی نوک پر ایک مائیکروچپ دکھائی دے رہی ہے۔ یہ دنیا کا سب سے چھوٹا معالجاتی چپ سسٹم ہے جو الٹراساؤنڈ کے تحت بدن سے ڈیٹا حاصل کرسکتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ کولمبیا یونیورسٹی

تصویر میں عام انجیکشن کی نوک پر ایک مائیکروچپ دکھائی دے رہی ہے۔ یہ دنیا کا سب سے چھوٹا معالجاتی چپ سسٹم ہے جو الٹراساؤنڈ کے تحت بدن سے ڈیٹا حاصل کرسکتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ کولمبیا یونیورسٹی

 نیویارک: کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے دنیا کی مختصر ترین طبی چپ بنائی ہے جسے عام سوئی میں رکھ کر جسم میں اتارا جاسکتا ہے۔ بدن کے اندر جاکر یہ درجہ حرارت، آکسیجن کی سطح اور دیگر اہم اشیا کو نوٹ کرسکتی ہے۔ اس میں ’نیورل ڈسٹ‘ نامی جدید سینسر شامل کر کے ہاتھوں ہاتھ اعصابی سگنل معلوم کئے جاسکتے ہیں۔   

کولمبیا یونیورسٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دنیا کا مختصر ترین طبی چپ کا مکمل نظام ہے جس کا ہر حصہ مکمل طور پر کام کرتا ہے اور جسامت صرف 0.1 مکعب ملی میٹر ہے۔ اسے صرف خردبین سے ہی دیکھا جاسکتا ہے اور یہ بہت کم توانائی استعمال کرتا ہے۔

اس میں آر ایف (ریڈیو فری کوئنسی) کی بجائے الٹراساؤنڈ امواج کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک پیزوالیکٹرک ٹرانسڈیوسر نصب ہے جسے اینٹینا کہا جاسکتا ہے۔ اس طرح یہ الٹراساؤنڈ کے ذریعے رابطہ کرتا ہے۔

جب اسے زندہ چوہوں پر آزمایا گیا تو اس نے بدن کے اندر کا درجہ حرارت یا اس میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ کردیا۔ اس کامیابی کے بعد اسے انسانوں پر بھی آزمایا جاسکے گا۔ تھوڑی سی تبدیلی کے بعد اس سے بلڈ پریشر، خون میں شکر اور سانس کے افعال نوٹ کئے جاسکیں گے۔

بلاشبہ یہ ایک اہم پیشرفت ہے جس میں جسم کے اندرونی ماحول میں انتہائی مختصر ترین چپ بنائی گئی ہے۔ اس چپ کا مستقبل بہت روشن ہے کیونکہ اس سے لاتعداد اطلاقات بھی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔