چین کا ’ژورونگ روور‘ مریخ پر پانی اور زندگی ڈھونڈنے کےلیے تیار

ویب ڈیسک  پير 17 مئ 2021
چین کا ژورونگ روور اپنے لینڈر پر موجود، مصور کا تخیل۔ (تصاویر: چائنیز میڈیا)

چین کا ژورونگ روور اپنے لینڈر پر موجود، مصور کا تخیل۔ (تصاویر: چائنیز میڈیا)

بیجنگ: ہفتے کے روز مریخ پر اُترنے والا، چین کا ’’ژورونگ روور‘‘ اپنے لیزر آلے اور ریڈار کی مدد سے وہاں زندگی کے آثار اور زیرِ سطح پانی تلاش کرنے کےلیے تیار ہوچکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، چھ پہیوں والی نیم خودکار گاڑی ’’ژورونگ روور‘‘ چین کے ’’تیانوین اوّل‘‘ (Tianwen-1) مشن کا حصہ ہے جسے گزشتہ سال جولائی میں روانہ کیا گیا تھا اور جو اس سال فروری میں مریخ کے گرد اپنے مدار میں کامیابی سے داخل ہوگیا تھا۔

چینی دیومالائی داستانوں میں ’’ژورونگ‘‘ ایک دیوتا تھا جس کا چہرہ انسان کا اور جسم کسی عفریت کی مانند تھا جبکہ وہ دو ڈریگنوں پر سواری کیا کرتا تھا۔

ژورونگ روور کو پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ایک حفاظتی کیپسول میں بند کیا گیا تھا جسے ایک بڑے ایک پیراشوٹ کے ذریعے ’’یوٹوپیا پلینیشیا‘‘ کہلانے والے ایک مقام پر اتارا گیا۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں 1976 میں ’’ناسا‘‘ نے اپنا ساکن لینڈر ’’وائکنگ دوم‘‘ اتارا تھا۔

’’یوٹو پلینیشیا‘‘ ایک قدرے ہموار میدانی علاقہ ہے جو تقریباً تین ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں پچھلے کئی عشروں سے تحقیق ہورہی ہے جس سے اندازہ ہوا ہے کہ شاید یہاں زیرِ سطح پانی موجود ہے۔

مریخ پر سطح کے نیچے پانی کی تلاش کےلیے ’’ژورونگ‘‘ پر ایک خاص ’’گراؤنڈ پینیٹریشن ریڈار‘‘ نصب ہے جس سے خارج ہونے والی ریڈیو لہریں مریخی سطح کے اندر، خاصی گہرائی تک پہنچ سکتی ہیں جن کی مدد سے وہاں پانی/ برف کی موجودگی یا عدم موجودگی کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

علاوہ ازیں، ارد گرد کی چٹانوں اور پتھروں کا کیمیائی تجزیہ کرنے کےلیے ژورونگ روور پر ایک لیزر بھی موجود ہے۔

اس کیمیائی تجزیئے (کیمیکل اینالیسس) کے ذریعے مریخ پر ایسے مرکبات کا سراغ لگایا جاسکے گا جو ممکنہ طور پر وہاں زندگی کی موجودگی کا ثبوت فراہم کرسکتے ہوں۔

اس روور پر ایک لیزر موجود ہے جس سے یہ وہاں موجود پتھروں کی کیمیائی ساخت کا پتا لگا سکتا ہے جبکہ اس پر ایک ریڈار ہے جس کا کام زیرِ سطح پانی تلاش کرنا ہے۔

امریکا اور روس کے بعد چین وہ تیسرا ملک بن گیا ہے جو پہلی ہی کوشش میں مریخ پر اپنا کھوجی (پروب) اتارنے میں کامیاب ہوا ہے۔ (یورپی خلائی ایجنسی اور جاپان کے لینڈرز ناکامی سے دوچار ہوچکے ہیں۔)

بڑا فاصلہ، بڑا چیلنج

کسی بھی دور دراز خلائی مشن کو کنٹرول کرنے میں سب سے بڑا چیلنج طویل فاصلے کا ہوتا ہے۔ چینی روور ’’ژورونگ‘‘ کو مریخ پر اتارنے میں بھی یہ ایک اہم ترین چیلنج تھا۔

بتاتے چلیں کہ مریخ کا زمین سے اوسط فاصلہ تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ کلومیٹر ہے۔ البتہ حالیہ دنوں میں مریخ اور زمین کا درمیانی فاصلہ 32 کروڑ 25 لاکھ کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔

خلاء میں ریڈیو لہروں کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس وقت زمین سے مریخ کی طرف بھیجے گئے ریڈیو سگنلوں کو وہاں تک پہنچنے میں تقریباً 18 منٹ لگ جائیں گے۔

اس کا مطلب یہی تھا کہ ژورونگ کے مریخ پر اُترنے کا مرحلہ مکمل خودکار و خودمختار ہونا چاہیے تھا کیونکہ زمینی کنٹرول روم سے بھیجی گئی ہدایات وہاں تک کئی منٹ تاخیر سے پہنچتی ہیں۔

یہی وہ چیلنج ہے جسے چینی خلائی ماہرین نے بھرپور کامیابی سے مکمل کیا اور ایک نئی تاریخ رقم کی۔

چینی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ اس روور سے 90 مریخی دنوں تک کام لے سکتے ہیں جس دوران یہ وہاں کی زمینی صورتحال کا جائزہ لے گا۔ مریخ کا ایک دن 24 گھنٹوں اور 39 منٹ کا ہوتا ہے، یعنی زمینی اعتبار سے یہ مشن 92 دن سے کچھ زیادہ وقت پر محیط ہونے کی توقع ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔