ملالہ: خیالات و نظریات کیسے بدلے ہیں؟

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  ہفتہ 5 جون 2021
ملالہ کے بیان پر تنقید کرنے والوں میں صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ لبرل افراد بھی شامل ہیں۔ (فوٹو: فائل)

ملالہ کے بیان پر تنقید کرنے والوں میں صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ لبرل افراد بھی شامل ہیں۔ (فوٹو: فائل)

نکاح سے متعلق حال ہی میں ملالہ کے خیالات منظرعام پر آنے کے بعد ایک بڑی بحث چھڑ گئی، جس میں مذہبی لوگوں کے علاوہ لبرل خیالات رکھنے والے بھی شامل ہوگئے اور ملالہ کے بیان پر سخت تنقید کرنے لگے۔ تنقید کرنے والوں میں خود شوبز سے تعلق رکھنے والے بھی شامل تھے۔ گویا یہ صرف مذہبی معاملہ نہیں، معاشرتی معاملہ بھی تھا۔

اس سے قطع نظر یہ خیالات درست ہیں یا غلط، ایک اہم سوال یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں اس قسم کے خیالات کو کیسے اپنا لیا گیا؟

تاریخ انسانی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں کم و بیش اکیس تہذیبیں گزری ہیں، جن میں ایمانیات کو اولین حیثیت حاصل تھی اور عقل کی بنیاد پر ایمان کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا تھا۔ مذہب مخالف نظریات پیش کرنے والے گو کہ بہت پہلے سے منظرعام پر آتے گئے مگر ان کے پیش کردہ نظریات کو معاشرے میں کلی طور پر نہیں اپنایا گیا۔ مغرب میں جب ریاست اور کلیسا کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں تو مذہب کی حیثیت کو بھی اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا گیا۔ حد تو یہ ہوئی کہ مارٹن لوتھر جیسی مذہبی شخصیت نے بھی عیسائی فرقے کی وہ بنیاد رکھ ڈالی جس نے روایتی مذہب کے برعکس فرد کو دنیاداری اپنانے کی ترغیب دی۔

مختصر یہ کہ مغرب میں رفتہ رفتہ مذہب کی ہدایات پس پشت چلی گئیں اور ریاست و معاشرے کےلیے وہ ضابطے اور قوانین اپنالیے گئے جن کی بنیاد مذہب کے بجائے عقل پرستی پر تھی۔

یوں مغرب میں ریاست کے قوانین بھی عقل کی بنیاد پر فیصلے کرکے بنائے گئے اور کلچر بھی۔ اس طرح مغرب میں جس تیزی سے روشن خیالی بڑھی اسی تیزی سے معاشرے سے مذہبی معاملات کی حیثیت بھی ختم ہوتی چلی گئی۔

سب سے خطرناک کام مغرب کے ’’تصور آزادی‘‘ نے کیا، جس کے مطابق ہر فرد اپنی ذات میں آزاد ہے کہ وہ جس طرح چاہے زندگی گزارے۔ اسے آزادی کے حق سے نہ مذہب روک سکتا ہے، نہ ہی ماں باپ یا معاشرہ۔یوں مغربی معاشرہ مذہبی، اخلاقی اور سماجی اقدار سے خالی ہوتا چلا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زندگی گزارنے کےلیے نکاح جیسے مقدس تصور کو بھی زندگی گزارنے کی لذت اور عیاشی تک محدود کرلیا گیا۔

مذہب میں نکاح تو مرد و عورت کو صرف لذت نہیں ذمے داریوں سے بھی وابستہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑھاپے میں والدین کو جب سہارے کی ضرورت ہوتی ہے تو اولاد اس کا سہارا بنتی ہے۔

مغرب کے تصور آزادی کی طرح ’’روشن خیالی‘‘ کا تصور بھی مذہب مخالف ہے، جس کو ایمونوئیل کانٹ نے پیش کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جو شخص صرف اپنی عقل سے فیصلے کرے اور مذہب وغیرہ سے رہنمائی نہ لے وہی روشن خیال ہے۔ یوں مذہب کے تمام تصورات کی حیثیت رفتہ رفتہ مغرب میں ختم ہوتی چلی گئی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخرت اور خدا کے سامنے جواب دہی کا تصور کمزور ہوا اور پورا مغربی معاشرہ مادہ پرست بن گیا اور پیسہ بنانے اور دنیاوی زندگی کو ہی جنت بنانے میں مصروف ہوگیا۔ جس کے نتیجے میں دنیا تو پرتعش بنتی چلی گئی اور نت نئی ایجادات ہوتی چلی گئیں، مگر مذہب پیچھے چلا گیا۔

اس نئی پرتعیش زندگی اور ماحول میں سب ڈھل گئے مگر مذہب کی حیثیت صفر ہونے کا نہ کسی کو احساس ہوا نہ غم، کیونکہ مذہب ایک نظم و ضبط کے ساتھ زندگی گزارنے کی ہدایت دیتا ہے اور اس نظم و ضبط کی زندگی میں وہ پرتعیش عیاشی نہیں ہوسکتی جو آج مغرب کو حاصل ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ معاشرے کے لوگوں کے جیسے تصورات یا عقائد ہوتے ہیں ویسے ہی ان کے علوم اور ان علوم کی بنیاد ہوجاتی ہے اور پھر ان علوم و فنون سے ویسی ہی شے برآمد ہوتی ہیں اور معاشرے کا کلچر بھی ویسا ہے بن جاتا ہے۔ مغرب نے جس قسم کے مذہب مخالف نظریات اپنائے ویسے ہی ان کے علوم اور ان کی بنیاد بنی اور پھر ان علوم سے بھی ان کے عقائد سے ہم آہنگ شے برآمد ہوئی (جس کا نام آج کی ایجادات یا ترقی ہے)۔

مغرب کو فخر ہے کہ اس نے یہ ترقی حاصل کرلی مگر یہ غم نہیں کہ مذہب ہاتھ سے چلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں آج بچوں کو سگے ماں باپ آسانی سے نہیں ملتے۔ اگر ملتے ہیں تو وقت ماں باپ کے ساتھ کم اور ڈے کیئر سینٹر میں زیادہ گزرتا ہے۔ اسی طرح اولاد کا وقت بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنے میں نہیں گزرتا، کیونکہ انھیں اولڈ ہاؤس میں ڈال دیا جاتا ہے۔

اس سب حقیقت کے باوجود ہم مغرب کی ترقی سے متاثر ہیں اور ان جیسا تعلیمی نظام چاہتے ہیں، ان جیسے قوانین اپنے ہاں لانا چاہتے ہیں، ان کے جیسی آزادی اپنے معاشرے اور میڈیا کےلیے بھی چاہتے ہیں، ان جیسی ترقی چاہتے ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ جن کو یہ تمام چیزیں مل جاتی ہیں یعنی ان جیسی تعلیم، ماحول اور آزادی، تو پھر نتیجے میں ان لوگوں کے خیالات بھی ویسے ہی ہوجاتے ہیں۔ یہی کچھ ملالہ کے ساتھ ہوا۔ یہی کچھ ہمارا تعلیمی نظام اور میڈیا کررہا ہے، جبکہ ہمارا روشن خیال، صاحب طاقت و اختیار طبقہ بھی یہی کررہا ہے۔ جس کے نتیجے میں ملکی قوانین آئے دن بدل رہے ہیں، اور لوگوں کے خیالات بھی رفتہ رفتہ بدل رہے ہیں۔ بس اس قطار میں ملالہ سب سے آگے کھڑی ہے اور قوم قطار کے سب سے آخر میں۔

اس قوم کے صاحب دانش اور مذہب کی سمجھ رکھنے والے اپنی نسل کو خیالات اور نظریات کی اس تبدیلی سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر سیکولر تعلیمی نظام اور میڈیا ان کی کوششوں کو ناکام بنانے کےلیے کھڑا ہے، کیونکہ مغرب سب سے زیادہ ان ہی کا آئیڈیل ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔