غذائی اجناس کی مہنگائی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج

رضوان آصف  بدھ 9 جون 2021
حکومت نے بھی آٹا قیمتوں میں خودساختہ اضافے کو روکنے کیلئے ’’انتظامی گنڈاسہ‘‘ نکال لیا تھا اور مکمل تیاریاں کر لی گئی تھیں۔فوٹو : فائل

حکومت نے بھی آٹا قیمتوں میں خودساختہ اضافے کو روکنے کیلئے ’’انتظامی گنڈاسہ‘‘ نکال لیا تھا اور مکمل تیاریاں کر لی گئی تھیں۔فوٹو : فائل

 لاہور:  ملک میں بجٹ کی ’’بہار‘‘ آنے والی ہے، 11 جون کو وفاق جبکہ 14 جون کو پنجاب کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔

حکومت کا دعوی ہے کہ اس مرتبہ بجٹ میں عوام کو نمایاں ریلیف دیاجائے گا، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بجٹ بھی معاشی اعداد و شمارکا ویسا ہی گورکھ دھندہ ہوگا جیسا کہ حکومت معاشی ترقی کے بارے میں دعوے کر رہی ہے۔

مہنگائی کی شدت کا اندازہ وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ غیر معمولی مہنگائی کا سوچ کر انہیں راتوں کو نیند نہیں آتی۔

وزیر اعظم نے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو بھی بتا دیا ہے کہ ان کی پہلی ترجیح مہنگائی میں کمی لانا ہے۔ چند اشیاء جن میں امپورٹ کی جانے والی سبزیاں اور دالیں شامل ہیں، ان کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب امپورٹ لاگت میں اتار چڑھاو ہے لیکن مقامی طور پر پیدا ہونے والی تمام زرعی اجناس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کا سبب ذخیرہ اندوزی، انتظامی خامیاں اور سیاست سے بالا تر ہو کر فیصلہ سازی کا فقدان ہے۔

چینی کا شور کم ہوا ہے تو اب پھر سے آٹا گندم کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ پنجاب میں گزشتہ روز گندم کی اوسط قیمت 2020 روپے فی من کے لگ بھگ تھی اور اگر بڑے شہروں کی بات کی جائے تو صرف 48 گھنٹے قبل راولپنڈی میں قیمت 2100 روپے تھی جو کم ہو کر 2060 تک آ گئی ہے ،لاہور میں قیمت 2030 روپے تک ہے۔

جون کے مہینے میں گندم کی قیمتوں کا اس سطح پر آجانا نہ ہی فطری ہے اور نہ ہی معمولی،کیونکہ ابھی تک سرکاری و نجی گندم خریداری ہو رہی ہے، 15 جون کو محکمہ خوراک اور پاسکو اپنی خریداری مہم کو باضابطہ طور پر ختم کردیں گے جبکہ فلورملز کی خریداری چند روز مزید جاری رہے گی ۔

ملک کی گندم آٹا مارکیٹ کے عدم استحکام اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سب سے بڑا سبب سندھ حکومت کی جانب سے قیمت خرید 2 ہزار روپے مقرر کرنا ہے۔ اس وقت ملک کے دو صوبوں میں سرکاری طور پر گندم کی قیمت 1800 روپے مقرر ہے جبکہ دو صوبوں میں قیمت 2 ہزار روپے فی من مقرر ہے۔

ایسے میں بحران پیدا ہونا ہی تھا۔ سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے کے باوجود پنجاب سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہے کیونکہ جنوبی پنجاب سے بڑی مقدار میں گندم اور آٹا سندھ جا رہا ہے تو دوسری جانب راولپنڈی، سرگودھا کے راستے گندم آٹا خیبر پختونخواہ پہنچ رہا ہے جس کی وجہ سے پنجاب میں آٹا کی قیمت بڑھ رہی ہے۔

وفاق کے دباو کی وجہ سے پنجاب حکومت پختونخواہ کیلئے سپلائی پر ایک حد سے زیادہ سختی نہیں کر سکتی اور پختونخواہ کو دی جانے والی اس ’’رعایت‘‘ کی وجہ سے سندھ کے ساتھ ملحق بارڈر مکمل بند نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب حکومت نے ہنگامی طور پر سہولت بازار قائم کر کے وہاں دس کلو آٹا تھیلا کی فروخت 430 روپے میں شروع کرائی ہے لیکن اس طریقہ کار سے عارضی طور پر تو بحران کو دبایا جا سکتا ہے لیکن مستقل خاتمہ ممکن نہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین گزشتہ چند روز سے سرکاری اجلاسوں میںبالخصوص وزیر اعظم کے سامنے یہ تجویز دے چکے ہیں کہ آٹا قیمت کو فوری طور پر کم کرنے کیلئے پنجاب حکومت سرکاری گندم کی فلورملز کو فراہمی شروع کرے جبکہ شوکت ترین اور وفاقی سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی غفران میمن  30 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرنے کیلئے وزیر اعظم اور کابینہ سے منظوری حاصل کر چکے ہیں۔

شوکت ترین نے یہ تجویز نیک نیتی کے ساتھ دی ہے اور ان کا مقصد عوام کو ریلیف دینا اور حکومت کی سبکی کا سبب بننے والے معاملہ کو ختم کرنا ہے لیکن زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو اس وقت سرکاری گندم کا اجراء کرنا مناسب نہیں کیونکہ گزشتہ دو برس کے برعکس اس بار فلور ملز نے زیادہ گندم خریدی ہے، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے تیار کردہ محکمہ خوراک کے فلور مل لیجر سسٹم میں فلور ملز نے 10 اپریل سے ابتک 14 لاکھ ٹن سے زیادہ نئی گندم کی خریداری ظاہر کی ہے جس میں سے ابتک 9 لاکھ ٹن گندم کی پسائی ہو چکی ہے جبکہ باقی کی ساڑھے پانچ لاکھ ٹن گندم ملز کے گوداموں میں موجود ہے۔

خفیہ اداروں اور محکمہ خوراک کی اطلاعات کے مطابق پنجاب کی فلورملز کے پاس 3 سے4 لاکھ ٹن مزید ایسی گندم موجود ہے جو انہوں نے سرکاری ریکارڈ میں ظاہر نہیں کی۔گندم بیوپاریوں کے مطابق فلورملز نے زیادہ تر گندم 1800 سے 1900 روپے فی من قیمت پر خریدی ہوئی ہے۔

اس مرتبہ ملک میں گزشتہ برسوں کی نسبت زیادہ پیدوار ہوئی ہے ،گندم کا 95 فیصد استعمال فلورملز نے ہی کرنا ہوتا ہے لہذا اوپن مارکیٹ میں جو گندم چھپاکر رکھی گئی ہے وہ بھی ملز نے ہی خریدنی ہے ،ان کے علاوہ تو کوئی خریدار نہیں ہے۔

حکومت کو چاہئے کہ ایسے اقدامات کرے کہ ذخیرہ کی گئی گندم مارکیٹ میں آجائے اور قیمتوں میں کمی آئے،سرکاری محکموں کی خریداری فوری طور پر بند کردینا چاہئے تا کہ فلورملز کے پاس یہ جواز باقی نہ رہے کہ محکمہ خوراک اور پاسکو کی پکڑ دھکڑ سے گندم قیمت بڑھ رہی ہے۔سندھ کو جانے والی گندم کی روک تھام کیلئے فول پروف نظام بنایا جائے۔

وفاقی حکومت گندم امپورٹ کے باضابطہ شیڈول کا اعلان کر دے اور سب سے زیادہ ضرورت اس اقدام کی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار ، سینئر وزیر علیم خان ،چیف سیکرٹری، سیکرٹری و ڈائریکٹر فوڈ سمیت دیگر متعلقہ وزراء اور افسروں کی مشاورت کے بعد وزیر اعظم سے سرکاری گندم کی قیمت فروخت کی منظوری حاصل کر کے اس کا باضاطہ اعلان کرے، گزشتہ برس حکومت نے 1400 روپے میں خریدی گندم 1475 میں فلورملز کو دی تھی اور آٹا 860 روپے میں فروخت کروایا تھا۔

لہذا اس مرتبہ بھی سرکاری گندم کی قیمت فروخت کم ازکم 1850 روپے مقرر کرنا دانشمندی ہوگی اگر اس سے کم قیمت رکھی تو پھر نہ تو عوام کو وافرمقدار میں آٹا دستیاب ہوگا اور نہ ہی حکومت کو سکھ کا سانس آئے گا، سارا سال انتظامیہ اور فلورملز کے درمیان دنگل ہوتا رہے گا۔وفاقی سیکرٹری غفران میمن گندم امپورٹ کے حوالے سے ٹریڈنگ کارپوریشن کو خط لکھ چکے ہیں کہ عالمی منڈی میں جیسے ہی قیمت کم ہوتی ہے تو گندم امپورٹ کی جائے۔

فلورملز ایسوسی ایشن کی قیادت نہایت دباو میں ہے کیونکہ مارکیٹ میں گندم کی بڑھتی قیمتوں کے سبب مل مالکان پریشانی میں ہیں لیکن مہنگائی کے ستائے عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت کی خصوصی درخواست پر سہولت بازاروں میں اصل لاگت سے کم قیمت پر آٹا فراہم کیا جارہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ باضابطہ طور پر معمول کی گندم ریلیز کے حوالے سے درست فیصلے کئے جائیں گے۔

تا کہ ملنگ انڈسٹری بھی بحران سے نکل آئے اور عوام کو بھی دقت نہ ہو۔چند روز قبل فلورملنگ انڈسٹری کے ایک غیرموثر گروپ’’پروگریسو ملرز‘‘ نے سیکرٹری اور ڈائریکٹر کے ساتھ ملاقاتوں میں آٹا قیمت بڑھانے کا عندیہ دیا تھا لیکن پنجاب کی سینکڑوں فلورملز نے اس گروپ کی اس کوشش کی حمایت نہیں کی اور واضح کردیا کہ آٹا قیمتوں میں ردوبدل سمیت تمام فیصلوں کا اختیار فلورملز ایسوسی ایشن کی قیادت کے پاس ہے ،چیئرمین عاصم رضا، لیاقت علی خان، میاں ریاض ، حافظ احمد قادر سمیت تمام مرکزی رہنماوں نے انڈسٹری کے حقوق کے دفاع کیلئے دن رات محنت کی ہے اور ہم انہی کے فیصلوں پر عمل کریں گے۔

چند معروف برانڈ بنانے والی فلورملز کے ذاتی مفادات کیلئے اپنا کندھا فراہم نہیں کریں گے۔حکومت نے بھی آٹا قیمتوں میں خودساختہ اضافے کو روکنے کیلئے ’’انتظامی گنڈاسہ‘‘ نکال لیا تھا اور مکمل تیاریاں کر لی گئی تھیں۔وزیر اعظم صاحب کو چاہئے کہ بلا تاخیر فلورملز کو فروخت کی جانے والی سرکاری گندم کی قیمت اور وقت اجراکا اعلان کردیں ،آدھا بحران تو ان کے اس اعلان سے ہی ختم ہوجائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔