گندم نہیں ’’جو‘‘ ہے

سعد اللہ جان برق  جمعـء 11 جون 2021
barq@email.com

[email protected]

ایک بہت پرانا گانا تھا، شاید آپ نے بھی سنا ہو۔

ناچ میری بلبل کہ پیسہ ملے گا

نہیں قدردان تجھے، ایسا ملے گا

اس زمانے میں تو یہ گاناٹھیک تھا کہ لوگ ناچتے تھے لیکن آج کل اکثرلوگ ’’ناچتے ‘‘نہیں بلکہ دوسروں کو نچواتے ہیں، وہ بھی انگلیوں پر ۔یا رادھا کو نومن تیل کے عوض۔ویسے بھی ہمارایہ ’’آنگن‘‘کچھ ٹیڑھا سا ہے، اس لیے ناچنے نچوانے کے بجائے بول میری بلبل بلکہ بول میری بول بول گایاجارہاہے اورہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ ہرطرف بول بول کے بول سنائے دے رہے ہیں۔

کتنے ہیں جوصبح بولتے ہو ئے اٹھتے ہیں اور شام کو بولتے بولتے سو جاتے ہیں۔ ہمارا اشارہ صرف معاونین خصوصی کی طرف نہیں بلکہ سارے ہی ’’خصوصی‘‘ صرف بولنے کاکام جانتے اور کرتے ہیں اوراس کے سوا نہ کچھ جانتے ہیں نہ کرتے ہیں۔

جی تو چاہتاہے لیکن ہماری کون سنے گا کہ ’’اخبار‘‘ کا نام بدل کر ’’خیرالبیان‘‘ رکھ دیا جائے کیوں کہ اخبار میں تو خبریں ہونا چاہیں جب کہ یہاں صرف بیان پر بیان ہوتے ہیں اور اردوکی ایسی کون سی لغت ہے جس میں ’’خبر‘‘ مطلب بیان اوربیاں کامطلب خبر۔

بھئی جب خبریں ان میں ہوتی ہی نہیں تو اخبار نام کس خوشی میں رکھا ہواہے، سیدھا سیدھا بیان یا بیانات یا مجموعہ بیانات رکھ دیں،ارے ہاں وہ سب سے مناسب اوربہترین نام تو ہم بھول گئے تھے ’’بیانیہ‘‘۔ بیانوں کابیانیہ۔

یہ تو خیربیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ ان کو اوپر سے حکم صادر ہواہے کہ

بول میرے بول بول کہ پیسہ ملے گا

نہیں ناپرساں تجھے ایسا ملے گا

ایسے قدردان اورکہاں ملیں گے کہ ستر سال سے ایک ہی بیان روزانہ سنتے ہیں اورایسا سردھنتے ہیں جیسے پہلی بار سن رہے ہوں،بلکہ اب تویہ بیان بیان کاسلسلہ اتنا پھیل گیاہے کہ جن کی اپنی بیویاں تک بھی نہیں سنتیں وہ بھی بیان اوربیانیے جاری کررہے ہیں ۔

مرشد نے بھی کہا تھا کہ بولنے کا یہ مرض بہت ہی متعدی ہے ۔

میں چمن میں کیاگیا گویادبستان کھل گیا

بول بولیںسن کر مرے نالے غزل خواں ہوگئیں

یہ اس وقت کی بات ہے جب باغوں میں بلبلیں ہوتی تھیں اوروہ غزل خواں ہوتی تھیں، آج کل تو صرف ایک باغ ہے جسے ’’سیاست باغ‘‘ کہتے ہیں اورجس میں بلبلیں نہیں بلکہ ’’بول بولیں‘‘ ہوتی ہیں اوروہ ’’بول بول‘‘خواں ہوچکی ہیں۔ ویسے یہ بات سوچنے کی ہے  اوراخباروالوں کواس پر سوچنا چاہیے کہ جب اخبار ابھی اخباررہاہی نہیں ’’ابوالبیان‘‘ ہوچکاہے تو کیوں نہ پرانانام تیاگ کرنیانام ’’بیانیہ‘‘رکھ دیاجائے ۔

بیانیہ جہاں،بیانیہ پاکستان،بیانیہ کراچی، بیانیہ لاہور،بیانیہ اسلام آباد،بیانیہ خیرپخیر یا بیانیہ مارگلہ یا بیانیہ بنی گالہ ۔ اوراخبار میں اتنی زیادہ تکلیف اورخرچے اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں کہ ایڈیٹر،رپورٹر،نمایندے وغیرہ رکھیں اوربچارے کمپوزروں کو تکلیف دیں، اخبار میں صرف نام ہی کافی ہوں گے، صدر، وزیراعظم۔ وزیر فلاں، مشیرفلاں اورمعاون خصوصی برائے فلاں ،لوگ نام دیکھ کرہی سمجھ جائیں گے کہ کس کابیانیہ کیاہے یعنی۔

مجھ کو تم سے ’’بیانیہ‘‘ تھا آج بھی ہے اورکل بھی رہے گا

یہ بیانیہ کالفظ جب پہلے اچانک منصفہ شہود پرآیا اورکورونا کی طرح پھیل گیا یعنی ہرزبان اور قلم پر چسپان اوررواں ودواں ہوگیا تو ہمیں حیرت ہوئی کہ اچانک یہ نیا ’’گل‘‘ کیسے اور کیوں کھلاکہ ۔

آج کل تیرے میرے چرے ہرزبان پر

سب کو معلوم ہے سب کو خبرہوگئی

یہاں تک کہ قہرخداوندی چشم گل چشم عرف کورونا وائرس اورعلامہ بریانی عرف برڈ فلو بھی ایک دوسرے پر ’’بیانیہ‘‘ فائرکرنے لگے۔

وہ عقدہ اب کہیں جاکر کھلاکہ جب دنیا میں صرف بیانیہ ہی بیانیہ اوربیان ہی بیان ہیں تو اورکوئی نام رکھنے کی ضرورت کیاہے؟ یہ اس بیانیہ کافیض ہے کہ آپ کسی بھی چلتے ہوئے شخص کو پکڑ کر پوچھیں کہ بیانیہ کیاہے تو وہ آپ کو فرفر ہرکسی کابیانیہ سنادے گا۔

گزشتہ سترسال کی تاریخ کاذکر بھی صرف اسی ایک لفظ سے کیاجاسکتاہے یعنی۔

اک لفظ محبت کا اتنا سا فسانہ ہے

سمٹے تو دل عاشق،پھیلے  تو زمانہ ہے

اورجب سے یہ نیاوژن طلوع ہواہے اس عرصے کے تمام اخباروں اورخبروں کو جمع کرکے نچوڑ لیں تو ٹپ ٹپ ’’تبدیلی‘‘کی بوندیں ٹپکنے لگیں گی اورباقی صرف پھوگ رہ جائے گا، مطلب ہے جدید بیانیہ ’’تبدیلی‘‘ ہے،چنانچہ اس وجہ سے بھی اخباروں اورچینلوں کوکرنا صرف یہ ہے کہ اخبارات بھی صرف یہی ایک لفظ چھاپا کریں اورچینلوں کی پیٹوں میں بھی اسی ایک لفظ کی ریل گاڑی رواں دواں کی جائے۔

پشتو میں ایک کہاوت ہے جس کاترجمہ تو بڑا مشکل ہے لیکن کوشش کرتے ہیں کہ آپ کے پلے کچھ پڑجائے ۔اناج کی جب صفائی کی جاتی ہے تو خواتین چھاج میں ڈال کر اچھالتی ہیں جس سے ’’سپ سپ‘‘ کی آوازآتی ہے ،اسی بنیاد پر کہاوت ہے ۔کہ تم نے ’’سپ‘‘کیاتو میں سمجھ گیا کہ گندم نہیں ’’جو‘‘ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔