زباں فہمی؛ رنگ باتیں کریں

سہیل احمد صدیقی  اتوار 13 جون 2021
محض چند شعراء کا کلام پڑھنے والے، بہت سے قارئین کے لیے یہ نام نامانوس ہو اور وہ بے اختیار سوال کریں، یہ کون تھے۔فوٹو : فائل

محض چند شعراء کا کلام پڑھنے والے، بہت سے قارئین کے لیے یہ نام نامانوس ہو اور وہ بے اختیار سوال کریں، یہ کون تھے۔فوٹو : فائل

زباں فہمی 101

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

درد پھولوں کی طرح مہکے، اگر تُو آئے

آج بڑی شدت سے یہ مقبول غزل یاد آئی۔ اپنے عہد کے ممتازشاعر سیدضیاء نثار احمد، سابق مینجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹیلی وژن، المتخلص بہ ضیاء ؔجالندھری (۲ فروری ۱۹۲۳ء، جالندھر۔ ۱۳مارچ ۲۰۱۲ء، اسلام آباد) کی شناخت یہی منفرد کلام ہے۔ آئیے پوری غزل سے لطف اندوز ہوں:

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

درد پھولوں کی طرح مہکے ، اگر تُو آئے

بھیگ جاتی ہیں اس امید پر آنکھیں ہر شام

شاید اس رات وہ مہتاب لبِ جُو آئے

ہم تیری یاد سے کترا کے گزر جاتے مگر

راہ میں پھولوں کے لب سایوں کے گیسو آئے

وہی لب تشنگی، اپنی وہی ترغیب سراب

دشت ِمعلوم کی ہم آخری حد چھو آئے

مصلحت کوشیٔ احباب سے دم گھٹتا ہے

کسی جانب سے کوئی نعرۂ یاہو آئے

سینے ویران ہوئے، انجمن آباد رہی

کتنے گُل چہرہ گئے، کتنے پری رُو آئے

آزمائش کی گھڑی سے گزر آئے تو ضیاءؔ

جشنِ غم طاری ہوا، آنکھ میں آنسو آئے

بہت ممکن ہے کہ نئی نسل کے، محض چند شعراء کا کلام پڑھنے والے، بہت سے قارئین کے لیے یہ نام نامانوس ہو اور وہ بے اختیار سوال کریں، یہ کون تھے۔ میں نے اُن کے کوائف یہاں درج کرنے کے بعد، اس خیال سے حذف کردیے ہیں کہ ایسے قارئین کو ازخود بھی کچھ کوشش کرنی چاہیے اور پھر جب خاکسار ایسی تفاصیل میں جاتا ہے تو موضوع سے قدرے غیرمتعلق گفتگو بھی راہ پاجاتی ہے۔ تو صاحبو! آج ہم بات کریںگے رنگ بِرنگی دنیا کے سب سے رنگین موضوع یعنی اپنے ماحول میں بکھرے ہوئے رنگوں کی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا اس لیے پُرکشش ہے کہ یہاں رنگ و نور کی سوغات ہمہ وقت، ہمہ جہت، ہر جگہ جلوہ افروز ہے۔

سطح ِ زمین ہو یا زیرِزمین، سطحِ آب ہو یا زیرِآب، آسمان کی دل کش چھت ہو یا افق کے دل فریب نظارے…..ہر مقام پر فطرت اپنے بیش بہا، بے شمار اور متنوع رنگ بکھیرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر ناصرف یہ دنیا، بلکہ پوری کائنات ، بے رنگ ہوتی، سادہ ہوتی ۔یا۔فوٹوگرافی کی اصطلاح میں ’سیاہ ۔سفید‘ [Black-n-White] ہوتی تو کیا ہوتا؟ کیا ہم ایسی دنیا میں جی سکتے تھے؟ کیا ہمارا یہاں جی لگتا؟ اگر یہ پھول، پتے، پودے، درخت، جھاڑیاں، گھاس پھوس، جڑی بوٹیاں، کائی، زیرِآب نباتات، پہاڑ، ٹیلے، کھائی، گلیشئیر، ریت، برف زار، آسمان اور سمندرکے بدلتے رنگ، افق پر پھوٹتی شفق اور قوس قزح، بعض ممالک میں پُراَسرار مخصوص روشنی کی برسات ….یہ سب کچھ نہ ہوتا تو کیا حضرت ِانسان کا اس بھری دنیا میں اور اپنی ارد گرد پھیلی ہوئی وسیع وعریض کائنات کے مشاہدے میں دل لگتا؟

اب آئیے ذرا رنگوں کی دنیا سے چیدہ چیدہ خوشہ چینی کرتے ہوئے ایسے الفاظ و تراکیب، محاورات واصطلاحات کا ذکر کرتے ہیں جن سے ہماری عظیم زبان کی وسعت، وقعت اور ہمہ گیری واضح اور نمایاں ہوتی ہے۔

سفید، سفیدہ، سفیدی، سپید، سپیدہ، اَبیَض

سفید رنگ پوری دنیا میں اَمن، آشتی، سکون، عافیت، بزرگی، پاکیزگی اور ٹھنڈک کی علامت ہے۔ (اسے پیش سے سُفید کہنا غلط العوام ہے)۔ سفید رنگ کے انسانی لباس میں یہ تمام عناصر کسی نہ کسی طرح شامل یا پوشیدہ سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ رنگ، حالت ِجنگ میں، فوری طور پر اَمن قائم کرنے کے بھی کام آتا ہے، جب ایسے میں سفید پرچم لہرا دیا جاتا ہے۔ ہندومَت میں بیوگی کی علامت ہے (کچھ عرصے سے ہمارے جعلی اہل قلم اور ٹی وی ڈراما پیش کار، اپنے ٹی وی ڈراموں میں بھی، مسلمان پاکستانیوں کو بحالت سوگ سفید لباس میں ملبوس دکھارہے ہیں، کیوںکہ اُنھیں ہندوستانی ڈراموں اور فلموں سے یہی پتا چلا ہے کہ سفید یا سیاہ لباس پہن کر میّت کے گرد جمع ہوکر بیٹھنا چاہیے)۔ قدیم کھیل گنجفہ کی آٹھ بازیوں میں ایک کا نام سفید ہے جو شطرنج اور مماثل کھیلوں میں بھی کسی نہ کسی طرح شامل ہے۔

لغات میں اس لفظ اور رنگ سے متعلق بہت مواد موجود ہے، جو ہم مصلحتاً ترک کررہے ہیں۔ یہی رنگ قدیم دور میں، سپید کہلاتا تھا۔ سنسکرت، ہندی، اردو، پہلوی ، فارسی اور اس کی ہم رشتہ زبانوں میں یہ لفظ آج بھی موجود ہے اور ادبیات کا حصہ ہے۔ آسمان پر اڑنے والے سفید پرندے، پانی پر تیرتے ہوئے سفید بگلے، ہنس، بطخیں، سفید کنول، چنبیلی، موتیا، موگرا، بیلا، چاندنی اور سدا بہار کے سفید پھول، پہاڑوں اور وادیوں میں جمی ہوئی سفید برف، یہ سب ہماری دنیا میں حسن ِفطرت کے انتہائی دل کش عناصر ہیں۔ سپیدہ سے مراد ، صبح کے وقت آسمان پر نمودار ہونے والی سفیدی یا روشنی ہے۔ سفیدی کا دوسرا مطلب، گھر، لباس یا کسی بھی چیز میں سفید رنگ کا شامل ہونا یا کیا جانا ہے۔ اب تو شاذ ہی کہیں سننے کو ملے گا کہ ہم نے گھر پر سفیدی کرائی۔ اب تو کہتے ہیں Colour/paintکرایا۔ ماضی میں قلعی بھی کہا جاتا تھا۔ برتنوں کو، رانگے سے چمکا کر سفید کرنے کا عمل بھی قلعی کہلاتا ہے۔ روس کے ایک سمندر کو White Sea یا بُحَیرہ اَبیَض کہا جاتا ہے۔

(یہ لفظ بے پر پیش، حے اور رے پر زبر کے ساتھ درست ہے)۔ دریائے ابیض [White River] نامی کئی دریا، دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ ایک مشہور، بہ یک وقت مفیدومُضرّصحت درخت Eucalyptus، اردومیں سفیدہ کہلاتا ہے۔ اس کے ماحول پر مرتب ہونے والے بُرے اثرات کی بحث سے قطع نظر، یہ درخت دوائی اعتبارسے نہایت مفید ہے۔ اس کے سبز، تازہ یا خشک، سوکھے ہوئے پتوں سے بھپارا[Steam] لینا، نزلہ زکام، بخار اور متعلقہ شکایات میں نہایت مفید ہے۔ کرونا کے متأثرین بھی بلاجھجک اس کے استعمال سے شفایاب ہوسکتے ہیں۔ اس کے تیل oil] [Eucalyptus کا استعمال دنیا بھر میں وِکس یا بام بنانے کے لیے (ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی، حکمت کی مختلف شاخوںمیں) کیا جاتا ہے، جب کہ اسی درخت سے حاصل ہونے والے Eucalyptol سے، کھانے پینے اور Cosmetics، نیز سگریٹ کی متعدد اقسام میں، مصالحہ دار (مسالہ پر تحقیق ابھی تک پایہ استناد کو نہیں پہنچی) ذائقے، خوشبو یا محض اضافی عنصر کا کام لیا جاتا ہے۔ یہاں مزید دو نکات، سفیدے کے متعلق عرض کرکے دیگر رنگوں کی بابت کچھ خامہ فرسائی کروں گا:

۱۔ہمارے یہاں ماہرین ماحولیات، سائنس داں، صحافی اور عوام النّاس، اپنی کم علمی یا لاعلمی کی وجہ سے مختلف دیگر پودوں اور درختوں کو ’’سفیدہ‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس کی تصحیح اَشدّ ضروری ہے ، ورنہ کل کو ہماری لغات میں بھی گڑبڑ ہوجائے گی۔ تفصیل کے لیے آن لائن کھوج کرلیں۔

۲۔ زرعی یونی ورسٹی، فیصل آباد سے منسلک، ماہر زراعت، ڈاکٹر شوکت علی کی تحقیق اور جناب محمد آصف کا رَدِّتحقیق پر مبنی مضمون، بلاشبہ اس جہت میں نئی اور عمدہ مساعی ہیں۔

قرہ، قرا، کارا، کالا، کالی، کالُو ، کلّو، کلّو‘ اور اَسوَد

(سیاہ، سیاہی)

ہم جسے کالا کہتے ہیں، وہ کہیں کارا ہے اور کہیں قرہ یا قرا۔ آپ نے قراقُرَم کا نام تو یقیناً سنا ہوگا۔ کوہ ِ قراقرم اور شاہراہ قراقرم۔ یہ درحقیقت قرہ قُورَم یعنی سیاہ پہاڑ ہے۔ آرمینیہ /آرمینیا اور آذربائی جان کے درمیان قرہ باغ کے علاقے پر مدتوں جنگ ہوتی رہی ہے، جسے اَب تلفظ کے فرق سے کارا باخ کہا جاتا ہے۔ یہ سب ترکی، اس کی ہم رشتہ زبانوں اور اس سے اکتساب کرنے والی زبانوں میں شامل ایک ہی لفظ کی لسانی تبدیلی کا خلاصہ ہے۔ سندھ میں کاروکاری کی لعنت میں استعمال ہونے والا لفظ بھی اسی کی ایک شکل ہے۔

ہم کالا رنگ حقیقی اور مجازی دونوں معانی میں کسی بھی انسان، لباس، نباتات وجمادات نیز کسی دیگر شئے کی خصوصیات نمایاں کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ماقبل اسلام سیاہ رنگ ماتمی یا سوگ کی علامت تھا (جسے بعد میں بھی بعض مذاہب اور فرقوں نے اپنایا)، مگر اسلام نے سیاہ سمیت کسی بھی رنگ کے بطور سوگ استعمال کی ممانعت کردی۔ سیاہ رنگ تقدس کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں عموماً سرفہرست مثال، حجر اسود یا سنگ ِ اسود کی دی جاتی ہے جو درحقیقت گہرا سُرمئی یعنی سُرمے کی رنگت کا ہے۔ ویسے سیاہ لباس بشمول عَمامہ پہننا (ماسوائے اظہارِ سوگ) مسنون اور مستحب ہے۔ ایک سمندر کا نام بُحَیرہ اَسوَد [Black Sea] ہے۔ اسے جہازرانی کے لیے غیرہموار اور مشکل قرار دینے کے لیے یہ نام دیا گیا۔ ہماری زبان میں کالک ملنا، کالک پوتنا، سیاہی پھیرنا اور سیاہی مَلنا سمیت متعدد الفاظ و محاورات کی ایک فہرست ہے جسے ملاحظہ کرنا چاہیے۔

نیلا، نیلی، نیل گُوں، نیلی فام، لاجوَرد اور اَزرَق

نیلارنگ، گہری محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ نیلا رنگ آسمان اور سمندر کو ایک جیسا دکھانے کے لیے قدرت کا عجیب و حسین تحفہ ہے۔ آپ لاکھ کہیں کہ آسمان کی رنگت کی وجہ سے سمندر، نیل گُوں ہے یعنی نیلے رنگ کا ہے، مگر جناب، سمندر کا نیلا تو اپنی جگہ مشہور ہے۔ اسی سمندر کے دیگر رنگ بھی دنیا میں جابجا دکھائی دیتے ہیں، مگر کوئی سرمئی سمندر، ہر ا سمندر، سبزی مائل نیلا سمندر جیسی تراکیب شاذ ونادر ہی استعمال کرتا ہے۔ ہاں یاد آیا کہ بچوں کی ایک نظم ہے ’ہرا سمندر، گوبھی بندر…بول میری مچھلی کتنا پانی‘۔ چرخِ نیلی فام بھی ایک ادبی اصطلاح ہے، مطلب وہی، نیلا آسمان۔ ویسے چرخ ایک جانور لگڑبھگا یعنی Hyena کا دوسرا نام ہے جو زیادہ معروف نہیں۔ اپنے جنگل کے نام نہاد بادشاہ، شیر صاحب اس سے، خارپُشت/سیہہ اور جنگلی کُتے سے ڈرتے ہیں (یہ الگ بات کہ اصل میں ان کا نام چلتا ہے، کام اور کارنامے شیرنی کے ہوتے ہیں۔ بے چارہ اُس کی مرضی کے بغیر، اُسے بحالت ِخواب بھی پیار نہیں کرسکتا)۔

یوں تو نیلے رنگ کے قیمتی پتھروں میں نیلم بہت مشہور ہے، مگر Lapis lazuli نامی شوخ، گہرا نیلا پتھر یعنی سنگِ لاجور د بھی اپنی شان دکھاتا ہے۔ اسی سے آسمان کا رنگ بھی موقع کی مناسبت سے لاجوردی کہلاتا ہے۔ نیلے رنگ کی اقسام بہت سی ہیں۔ انھی میں نِیل [Indigo] بھی شامل ہے جو بجائے خود ایک وسیع موضوع ہے۔ ہرچند کہ ُاودا۔یا۔بنفشئی[Violet] ہمارے یہاں الگ رنگ سمجھا جاتا ہے، مگر تکنیکی اعتبار سے یہ نیلے سے جدا نہیں۔ جامنی یا بیگنی رنگ بھی اسی طرح اسی ذیل میں شامل ہوسکتا ہے۔ ابھی تو یہ رنگ بھی ہماری جنبش خامہ کے منتظر ہیں:لال، زرد/پیلا، نارنجی، ہرا/سبز، مگر کیا کریں مواد کی بُہتات اور تنگی قرطاس و تنگی وقت کا احساس بھی دامن گیر ہے۔ کسی دردمند، محبِ اردو کی ایک نگارش گزشتہ کچھ دنوں سے مسلسل، واٹس ایپ اور فیس بک کی زینت بن رہی ہے۔ ایک جگہ لکھنے والے کا نام دوست محمد خان منقول ہے، مگر اِس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ رنگوں کی رنگارنگ دنیا کے متعلق عمدہ تحریرحسبِ ذیل (قوسین میں پیش خدمت) ہے:

*{رنگوں کے اُردو نام جو ہم بُھولتے جا رہے ہیں۔* مشتاق احمد یوسفی کی کتاب ’’*آبِ گُم*‘‘ سے ایک اِقتباس جس میں اُنھوں رنگوں کے وہ قدیم نام گِنائے تھے جو ہماری زبان سے تیزی سے مَتروک ہو رہے ہیں۔ یوسفی صاحب:

*’’افسوس! ہمیں اِحساس نہیں کہ ہمار ے یہاں رنگوں کے قدیم اور خوبصورت نام بڑی تیزی سے مَترُوک ہو رہے ہیں۔ کل اِنھیں کون پہچانے گا۔‘‘**’’شَنگرَفی، مَلاگیِری، عُنابی، کپاسی، کبُودی، شُتُری، زَمَرُّدی، پیازی، قِرمِزی، کاہی، کاکریزی، اَگرئی، کاسنی، نُقرَئی، قَناوِیزی، موتیا، نِیلوفَری، دھانی، شَربَتی، فالسئی، جامنی، چمپئی، تربوزی، مٹیالا، گیروا، مونگیا، شہتوتی، تُرنجی، انگوری، کِشمشی، فاختئی، پستئی، شَفتالُو، طاؤسی، آبنُوسی، عُودی، عَنبری، حِنائی، بنفشئی، کُسمبری، طُوسی، صُوفیانہ اور سُوقیانہ۔‘‘**’’ہم نے اپنے لفظ خزانے پر لات ماری، سو ماری، اپنی دھرتی سے پُھوٹنے والی دَھنَک پر بھی خاک ڈال دی۔‘‘*_ ہمارے ایک دوست نے فرمائش کی کہ ان رنگوں کے ناموں کی لُغت بھی پوسٹ کی جائے، چنانچہ مَیں نے ہی ایک رات کالی کر کے کِسی طرح ان رنگوں کے ناموں کی فرہنگ تیار کی جو اس اُمید پر پیش کر رہا ہوں کہ شاید ہم ان ناموں کو دوبارہ اپنی لُغت میں شامل کر کے اپنے اس قیمتی ورثے کو کم از کم اپنی نئی نسلوں کے سپرد کر جائیں۔

یہاں اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ہر رنگ کے اپنے شیڈ بھی ہوتے ہیں اس لیے کِسی ایک نام کے ساتھ صرف اس کے ایک ہی شیڈ کو مخصوص نہیں کیا جاسکتا۔ *فَرہَنگ:* _*Vermilion*

*شَنْگْرَفی*: سُرخ، خوب لال، شنجرفی۔

*شَنجرف*: گہرے سرخ رنگ کی ایک معدنی شَے جو مصوّری اور نقاشی میں کام آتی ہے اور دوا کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہے۔

*Sandalwood colour*

*مَلاگیِری*: جوگیا، گیروا، صَندَل کا رنگ۔

*ملاگیر*: صَندَل کی قسم کی ایک لکڑی جسے پِیس کر سُرخی مِلا کر اس میں کپڑے (خصوصا ً ڈوپٹے) رنگتے ہیں جو خوشبودار بھی ہوتے ہیں۔

*Sapphire Blue*

*کَبُودی*: نیلا، نیلگوں۔

کبودی، نیلم یاsapphire  جیسے گہرے نیلے رنگ کو کہا جاتا ہے۔ اس کی اصل یہ ہے کہ فارسی میں نیلم کو یاقوتِ کبود کہا جاتا ہے۔

*Light Brown*

*شُتُری*: شُتر (اونٹ) کے رنگ کا، ہلکا بُھورا، بادامی۔

*Emerald Green*

*زُمُرُّدی*: زمرد کے رنگ کا، سبز رنگ کا۔

*Crimson or Scarlet*

*قِرمِزی*: گہرا سُرخ۔

*Grass Green*

*کاہی*: گہرا سبز۔

*Dark Purple*

*کاکریزی*: سیاہی مائل اُودا رنگ، گہرا اُودا رنگ۔

*Aloe wood*

*اَگرئی*: گہرا کشمشی رنگ، زردی مائل یا بھورا رنگ، اَگر کے رنگ کا۔

*Lilac*

*کاسنی*: سرخی مائل نیلا، بنفشی، ہلکا اُودا، سوسنی رنگ۔

*قَناویزی*: غالباً سرخ رنگ کا۔ قَناویز دراصل سِلک کا ایک قسم کا کپڑا ہوتا تھا جو عموماً سرخ رنگ کا ہوتا تھا۔ اس قسم کا کپڑا اب نہیں بُنا جاتا۔

*colour of Blue Waterlily-*

*نیلوفری*: گہرا نیلا۔

*Light Green*

*دھانی*: سبز دھان کے رنگ کا، ہلکا سبز۔

*Orange or Pale Yellow*

*شربتی*: ہلکا زرد رنگ جو کسی قدر سُرخی مائل ہو۔

*Yellow, Golden, Orange*

*چَمپئی*: ہلکی زردی یا سنہرا پَن لیے ہوئے۔

*مِٹیالا*: مٹی کے رنگ کا، خاکستری، بُھورا۔

*Red Ochre*

*گیروا*: گیرو کے رنگ کا، جوگیا رنگ کا۔

*Green*

*مونگیا*: مونگ کے رنگ کا، سیاہی مائل سبز رنگ کا۔

*Citron or Orange coloured*

*تُرَنجی*: نارنجی رنگ کا، سرخی مائل زرد۔

*of Peach colour*

*شفتالوی*: سیاہی مائل سرخ رنگ کا۔

*آبنوسی*: کالا، سیاہ۔

*of the colour of Ambergris*

*عَنبَری*: سیاہی مائل بھورے یا گہرے سرمئی رنگ کا، عَنبَر کے رنگ کا۔

*حِنائی*: مہندی کے رنگ کا، زردی مائل سُرخ۔

*Violet*

*بنفشی*: بنفشئی، پھیکا نیلا رنگ۔

*Safflower*

*کُسمبری*: کُسُمبی یا کُسُمبھی، سرخی مائل گہرا نارنجی رنگ، کُسُمب یاکُسُمبھ سے بنایا گیا رنگ۔

*Purple*

*طُوسی*: ایک قسم کا بینگنی رنگ۔

*صوفیانہ*: سادہ یا ہلکا رنگ۔

*سوقیانہ*: بازاریوں کا سا، عامیانہ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔