پاکستان 2050ء تک دنیا کی 18 ویں بڑی معیشت بن جائے گا، برطانوی اقتصادی ماہر

اے پی پی  پير 20 جنوری 2014
اگراونیل کاتجزیہ درست ہے توآئندہ35 سال میں پاکستان کی معیشت 15 گناترقی کریگی۔ فوٹو: فائل

اگراونیل کاتجزیہ درست ہے توآئندہ35 سال میں پاکستان کی معیشت 15 گناترقی کریگی۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: برطانیہ کے ماہر اقتصادیات جم اونیل نے کہا ہے کہ سال2050ء تک پاکستان دنیاکی کئی بڑی معیشتوں کوپیچھے چھوڑکر18 ویں بڑی معیشت بننے کی اہلیت رکھتاہے۔

انہوں نے اپنے تجزیہ میں کہا پاکستان 2050ء تک دنیاکی18 ویں بڑی معیشت بن جائیگاجس کے جی ڈی پی کاحجم3.33 ٹریلین ڈالرہوگاجوجرمنی کے موجودہ معاشی حجم کے برابرہوگاجبکہ پاکستان کی فی کس آمدنی20500 ڈالرہوجائیگی۔پاکستان اس وقت دنیا میں 225.14 ارب ڈالرجی ڈی پی کیساتھ44 واں بڑامعاشی ملک ہے اسکامطلب ہے کہ اگراونیل کاتجزیہ درست ہے توآئندہ35 سال میں پاکستان کی معیشت 15 گناترقی کریگی۔

بی بی سی نے اپنے حالیہ آرٹیکل میں بتایاہے کہ پاکستان کئی ترقی یافتہ ممالک کے برابرآنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔چین اور روس جیسے ممالک کی معیشت نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ جم اونیل نے بی آرآئی سی کی اصطلاح2001ء میں متعارف کرائی تھی جس میں انہوں نے برازیل، روس، بھارت اورچین سے متعلق اپنے تجزیہ میں کہاتھاان ممالک میں دنیاکی طاقتور معیشتیں بننے کی بھرپور صلاحیتیں موجودہیں، اب وہ ایک نئی اصطلاح ایم آئی این ٹی کیساتھ کہہ رہی ہیں میکسیکو، انڈونیشیا، نائیجیریا، ترکی بھی اپنی اقتصادی ترقی کیلئے کاوشیں کر رہے ہیںجس کے تحت آنیوالی دہائی میں یہ ممالک مضبوط اقتصادی طاقتیں ثابت ہوںگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔