ایرانی صدارتی انتخابات کیا معنی رکھتے ہیں؟

تنویر قیصر شاہد  جمعـء 18 جون 2021
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

آج 18جون2021 کو ایران میں صدارتی انتخابات ہمارے لیے بھی اُتنے ہی اہمیت کے حامل ہیں جتنے ایرانیوں کے لیے۔ جناب آیت اللہ روح اللہ خمینی ؒ کی انقلابی قیادت میں سابق شاہ ایران، رضا شاہ پہلوی، کی ایرانی سر زمین سے ناقابلِ رشک رخصتی کے بعد یہ 13واں ایرانی صدارتی انتخاب ہے۔

دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ایرانی صدارتی انتخابات ایرانی عوام کے لیے کیا معنی اور اہمیت رکھتے ہیں؟ اور یہ کہ کوئی بھی منتخب ایرانی صدر کیا واقعی معنوں میں اپنی سیاسی قیادت و سیادت میں اپنی مرضی و منشا کے ساتھ اہم ایرانی پالیسیوں میں جوہری تبدیلیاں لانے کی طاقت و قوت رکھتا ہے؟ اور یہ بھی کہ ایرانی انقلاب کے 40برس گزرنے کے دوران جتنے بھی ایرانی صدور منتخب ہُوئے ، وہ آج کہاں ہیں اور ایرانی معاشرے میں اُن کی اہمیت کیا رہ گئی ہے ؟

چار عشرے قبل ایرانی بادشاہت کے خاتمے پر انقلابی اسلامی حکومتِ ایران کا قیام عمل میں آیا تو ابو الحسن بنی صدر اس کے پہلے صدر منتخب ہُوئے ۔ وہ ایک سال اور کچھ ماہ ایرانی صدارت پر براجمان رہ سکے ۔ جلد ہی حالات ایسا رُخ اختیار کر گئے کہ بنی صدر کو ایران سے فرار ہونا پڑا۔ آج یہ صاحب فرانس میں خود ساختہ جلاوطنی اور گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

دوسرے ایرانی صدر، محمد علی رجائی ، 1981میں ایک بم حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ تیسرے ایرانی صدر علی خامنہ ای منتخب ہُوئے تھے اور آج وہی ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ ایران کا اصل اقتدار انھی کے ہاتھ میں ہے۔ چوتھے، پانچویں اور چھٹے منتخب ایرانی صدور اپنی صدارتی مدت کے خاتمے پر سائیڈ لائن لگا دیے گئے۔

ساتویں منتخب ایرانی صدر، علی اکبر ہاشمی رفسنجانی، دو بار ایرانی صدر منتخب ہونے کے بعد جب تیسری بار صدر بننے کے لیے میدان میں اُترے تو طاقتور ایرانی شوریٰ نگہبان نے انھیں نااہل قرار دے دیا۔ آٹھویں منتخب ایرانی صدر، محمد خاتمی، آٹھ سال ایرانی صدارت سے لطف اندوز ہونے کے بعد آج ایرانی سیاست و صحافت میں شجرِ ممنوعہ بنا دیے گئے ہیں۔ انھیں شاید ’’ایرانی گرین موومنٹ‘‘ میں سرگرم حصہ لینے کی ’’سزا‘‘ دی گئی ہے۔ اس کے بعد منتخب ہونے  والے دلیر ایرانی صدر، محمود احمدی نژاد، جنھوں نے ہر گام پر اسرائیل کو للکارا ، بھی ایرانی طاقتور شوریٰ نگہبان کے ہاتھوں نااہل قرار دیے جا چکے ہیں ۔

ہم پاکستان میں دو منتخب وزرائے اعظم(سید یوسف رضا گیلانی اور میاں محمد نواز شریف)کی نااہلیوں پر ماتم کناں رہتے ہیں لیکن ایران میں تو منتخب صدور کی نااہلیوں کی ایک لمبی فہرست ہے اور ایرانی پھر بھی صبر کیے بیٹھے ہیں۔ اگر کئی سابق منتخب ایرانی صدور بوجوہ ایرانی سیاست سے نکال باہر کیے گئے ہیں تو اس کا معنی ومفہوم یہ ہے کہ ایرانی سیاست و اقتدار میں کوئی ایسی شخصیت اور ادارہ ضرور ہے جو منتخب صدر سے بھی زیادہ طاقتور اور قوی ہے۔ جی ہاں ایرانی ولایت فقیہ کے مروجہ نظامِ سیاست و اقتدار میں اصل حکومتی طاقت و قوت ایرانی سپریم لیڈر کے پاس ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر ایرانی منتخب صدور سے بالا واعلیٰ حیثیت رکھتا ہے۔ ایرانی انقلاب کے فوری بعد پہلے یہ طاقت وعہدہ جناب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پاس تھا۔ اُن کی وفات کے بعد یہ بلند ترین عہدہ جناب آیت اللہ علی خامنہ ای کو منتقل ہو گیا۔ پچھلے32 برس سے خامنہ ای صاحب ہی اس عہدہ جلیلہ پر فائز ہیں۔

اگر ہم اسلامی جمہوری انقلابی ایران کے آئین کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایرانی اقتدار کی اصل طاقت ایرانی شوریٰ نگہبان (گارڈین کونسل) اور سپریم لیڈر کے پاس ہے۔ یوں منتخب ایرانی صدر مذکورہ دونوں اداروں کے سامنے کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر : ایرانی آئین کا آرٹیکل 4کہتا ہے کہ تمام ایرانی قوانین کی حتمی توثیق شوریٰ نگہبان کرے گی اور یہ دیکھے گی کہ آیا نیا قانون اسلام کے مطابق ہے یا نہیں ۔ شوریٰ نگہبان میں 12ارکان ہوتے ہیں جن میں نصف تعداد ممتاز ایرانی جید علما پر مشتمل ہوتی ہے اور ان کا براہِ راست انتخاب ایرانی سپریم لیڈر کرتا ہے۔

یوں شوریٰ نگہبان کی طاقت بھی دراصل ایرانی سپریم لیڈر ہی کی طاقت ہے ۔ کوئی بھی ایرانی منتخب صدر اس شوریٰ کے کسی بھی فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ یہ شوریٰ نگہبان ہی ہے جو یہ فیصلہ کرنے کی مجاز ہے کہ کون کون ایرانی صدارتی انتخاب لڑنے کا اہل ہو سکتا ہے۔ مثلاً: آج 18جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے، کئی ماہ پہلے، سیکڑوں ایرانیوں نے اپنے ناموں کا اندراج کروایا تھا لیکن شوریٰ نگہبان کے ارکان نے سخت اسکروٹنی کے بعد صرف سات افراد کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت دی۔ان میں سے بھی اب دو اُمیدوار الیکشن سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ نااہل ہونے والے صدارتی اُمیدواروں نے سخت احتجاج تو کیا لیکن سب کی احتجاجی آوازیں صدا بہ صحرا ثابت ہُوئی ہیں ۔

اسلامی جمہوری انقلابی ایران کا آرٹیکل 115 کہتا ہے کہ ایرانی صدارتی انتخاب وہی ایرانی شہری لڑ سکتا ہے جو ایرانی اکثریتی مسلک سے تعلق رکھتا ہو۔ طاقتور شوریٰ نگہبان نے آج تک کسی ایرانی خاتون کو صدارتی انتخاب کے میدان میں اُترنے دیا ہے نہ کسی ایرانی اقلیت سے تعلق رکھنے والے کسی شہری کو اس عہدے کے حصول کے لیے سامنے آنے کی اجازت دی ہے ۔منتخب ایرانی صدر کا ایرانی سپریم لیڈر کی طاقت  کے سامنے کیا مقام ہے ، اس کا اندازہ صرف ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے :اصولی طور پر ایرانی انٹیلی جینس منسٹر کا تقرر ایرانی صدر کرتا ہے۔

سابق منتخب ایرانی صدر، محمود احمدی نژاد، نے جب اپنی صدارت کے دوران انٹیلی جینس وزیر ، حیدر مصلحی، کو عہدے سے ہٹا دیا تو سپریم لیڈر نے اپنے صدر کے اس اقدام کو ناپسند کیا اور اپنے خصوصی اختیارات کو بروئے کار لاکر حیدر مصلحی کو دوبارہ انٹیلی جینس منسٹر لگا دیا۔

یہ ہیں وہ زمینی حقائق جن کی موجودگی میں آج18جون کو ایران میں صدارتی انتخابات کا رَن پڑ رہا ہے۔ پچھلے ہفتے ایرانی سرکاری ٹی وی پر ساتوں ایرانی صدارتی اُمیدواروں کے درمیان، تین مراحل میں، قومی مسائل پر خوب گھمسان کا اور گرما گرم بحث مباحثہ ہُوا۔ کئی الزامات کی بازگشت بھی سنائی دی گئی۔ مثال کے طور پر (1) ایران میں پھیلی بے لگام کرپشن کو ہر صورت لگام دینا ہو گی (2)ایرانی عوام میں بڑھتی بے روزگاری کی شرح کو نیچے لانا ہوگا (3) ایرانی ایٹمی پروگرام پر امریکا سے کوئی متفقہ سمجھوتہ نہ ہُوا تو ایران نئی عالمی پابندیوں کی زَد میں آ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ ایرانی صدارتی انتخابات عین اُس وقت ہو رہے ہیں جب(1) ایران اور امریکا میں صلح کے لیے ٖڈول ڈالے جانے کی خبریں گردش میں ہیں(2) جب افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا تیزی سے جاری ہے (3) جب ایران اور چین کی کاروباری قربتیں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں ایرانی اسٹیبلشمنٹ کو ایسا صدر چاہیے جو نظریاتی طور پر اُن کا ہم نظر اور ہمنوا ہو ۔ اس پس منظر میں شاید ابراہیم رئیسی صاحب بہترین انتخاب ہوں گے۔حیرانی کی بات ہے کہ رئیسی صاحب کے منتخب ہونے سے قبل ہی امریکی اور عالمی میڈیا میں اُن کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کا طبل بج رہاہے۔اعلیٰ ترین ایرانی قیادت کو مگر اس طرح کے منفی پروپیگنڈوں کی کبھی کوئی خاص پروا نہیں رہی ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔