سجل علی اور احد رضامیر کی ویب سیریز ’دھوپ کی دیوار‘ پر پابندی کا مطالبہ

زنیرہ ضیاء  ہفتہ 19 جون 2021
کچھ لوگوں نے عمیرہ احمد کو غدار قرار دیتے ہوئے نہ صرف ’دھوپ کی دیوار‘پر پابندی کا مطالبہ کیا بلکہ عمیرہ احمد پر بھی پابندی کا مطالبہ کیا، فوٹوسوشل میڈیا

کچھ لوگوں نے عمیرہ احمد کو غدار قرار دیتے ہوئے نہ صرف ’دھوپ کی دیوار‘پر پابندی کا مطالبہ کیا بلکہ عمیرہ احمد پر بھی پابندی کا مطالبہ کیا، فوٹوسوشل میڈیا

کراچی: سوشل میڈیا پر اداکارہ سجل علی اور احد رضا میر کی ویب سیریز’دھوپ کی دیوار‘ پرپابندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

15 جون 2021 کو احد رضا میر اور سجل علی کی ویب سیریز’دھوپ کی دیوار‘ کا ٹریلر ریلیز کیا گیا۔ یہ ٹریلر بھارتی اسٹریمنگ چینل زی فائیو نے  اپنے یوٹیوب چینل پر جاری کیا اور یہ ویب سیریز بھی زی فائیو پر ہی 25 جون سے دکھائی جائے گی۔ لوگوں کو احد رضا میر اور سجل علی کے اس پراجیکٹ کا شدت سے انتظار تھا کیونکہ دونوں بہت عرصے بعد  کسی پروجیکٹ میں ایک ساتھ نظر آرہے ہیں۔

تاہم ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اس ویب سیریز کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ ٹوئٹر پر سوشل میڈیا صافین کی جانب سے ’دھوپ کی دیوار‘ پر پابندی کا مطالبہ بھی  کیا جارہا ہے۔

کہانی

ویب سیریز کی کہانی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی روایتی کہانی ہے جو لائن آف کنٹرول پر ہونے والی خلاف ورزیوں اوراس کی وجہ سے سرحد پر شہید ہونے والے  دونوں ممالک کے فوجیوں  کے خاندانوں کو پیش آنے والی مشکلات  کے گرد گھومتی ہے۔

ویب سیریز میں احد رضامیر ایک ہندو لڑکے کا اور سجل علی ایک مسلمان لڑکی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ دونوں کے والد سرحد پر ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں مارے جاتے ہیں۔ جس کے بعد دونوں میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے نظرآتے ہیں۔ تاہم آہستہ آہستہ ان دونوں کرداروں کی دشمنی کو دوستی اور پسندیدگی میں تبدیل ہوتے دکھایا گیا ہے اور وہ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ان ممالک میں رہنے والے لوگوں کی باہمی لڑائی نہیں ہے۔

ٹریلر میں مزید دکھایا گیا ہے کہ دونوں گھنٹوں ایک دوسرے سے انٹرنیٹ اور فون پر بات کرتے ہیں اور اپنے اپنے گھروالوں سے ایک دوسرے کا دفاع بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن دونوں کو ہی گھروالوں کی کڑواہٹ کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ اس ویب سیریز کی کہانی مصنفہ عمیرہ احمد نے لکھی ہے۔ اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس ویب سیریز پر کئی اعتراض اٹھائے ہیں۔

ویب سیریز پر اٹھائے جانے والے اعتراضات

1 ہندو لڑکا اور مسلمان لڑکی

لوگوں کا کہنا ہے کہ ویب سیریز میں لڑکا ہندو اور لڑکی کو مسلمان کیوں دکھایا گیا ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں عمیرہ احمد نے وضاحت کی ہے کہ یہ کوئی پیار محبت کی کہانی نہیں ہے۔ اس ویب سیریز میں موجود دونوں کرداروں کو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے نہیں دکھایا گیا اور میرے خیال میں انڈیا اور پاکستان کے باہمی مسائل کے بارے میں بات کرنے کے لیے ہمیں لو اسٹوری کی ضرورت نہیں ہے۔

حالانکہ ٹریلر میں واضح طور پر احد رضامیر اور سجل علی کی ایک دوسرے کے لیے پسندیدگی دکھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پوسٹر میں بھی جو تصویر موجود ہے وہ ایک لواسٹوری کو بیان کرتی ہے۔ تاہم یہ ٹریلر کی بات ہے کہانی  آگے کیا موڑ لے گی یہ تو ویب سیریز دیکھ کر ہی پتہ چلے گا۔

2 مسئلہ کشمیر کو فراموش کردیا گیا

ایک اور نقطہ جو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اٹھایا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ عمیرہ احمد نے اس ویب سیریز میں مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کو فراموش کردیا ہے۔ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے عمیرہ احمد نے کہا ہے کہ ’دھوپ کی دیوار‘ مسئلہ کشمیر کے بارے میں نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے میرا موقف وہی ہے جو باقی دوسرے پاکستانیوں کا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔

3 دوقومی نظریہ کو بھلادیا گیا

ایک اور اعتراض جو عمیرہ احمد پر اٹھایا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ اس ویب سیریز میں انہوں نے دو قومی نظریے کو نظر انداز کیا ہے جو کہ دراصل پاکستان  کے قیام کی وجہ بنا۔ اس بارے میں عمیرہ احمد نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا دو قومی نظریے کا تعلق آزادی سے ہے اور کوئی بھی باشعور اور ہوش مند انسان دو قومی نظریے کو جھٹلا نہیں سکتا۔ ورنہ اسے اپنی آزادی کھونی پڑے گی تو میں کیسے دو قومی نظریہ کو جھٹلاسکتی ہوں؟

’دھوپ کی دیوار‘ کے ٹریلر پر سوشل میڈیا پر ردعمل

ویب سیریز ’دھوپ کی دیوار‘ کی کہانی کس طرح پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں پنپنے والی محبت کی کہانی سے مختلف ہے یہ تو ویب سیریز کو دیکھ کر ہی پتہ چلے گا۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین کاٹریلر کو دیکھ کر کیا ردعمل ہے یہ ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

عبدالرحمان تیوانا نامی صارف نے لکھا عمیرہ احمد جیو اور ہم ٹی وی کے غیر اخلاقی ڈراموں کے لیے صرف بیوقوفانی لواسٹوریز ہی لکھ سکتی ہیں۔ کشمیر کے مسئلے پر بات کرنا ان کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ خاص طور پر فوجی اور خارجہ امور میں عمیرہ احمد کو زیادہ سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

عائشہ نامی خاتون نے لکھا اگر کسی ڈرامے کی کہانی دشمنی کا خاتمہ اور امن قائم کرسکتی تو پھر ہمارے بزرگوں نے  مسلمانوں کی آزادی کے لیے اتنی قربانیاں کیوں دیں؟ ہمارے لیے  جدوجہد کرنے والے قائد اعظم کی دانشمندی کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

کچھ لوگوں نے اس ویب سیریز میں احد رضامیر اور سجل علی کے کام کرنے پر بھی اعتراض کیا اور لکھا  اگر اس ویب سیریز کی کہانی پاکستان کی آئیڈیولوجی کے خلاف ہے تو بھر سجل علی اور احد رضامیر نے اس ڈرامے کا انتخاب کیوں کیا؟

زہرہ فاطمہ نامی خاتون نے لکھا دوقومی نظریہ پاکستان کی بنیاد ہے۔ ہمارے شہدا ہمارا فخر ہیں۔  ہم عمیرہ احمد جیسے لوگوں کو ہر گز  کشمیری اور پاکستانی لوگوں کے جذبات مجروح کرنے کی اجازت نہیں دیں  گے۔

کچھ لوگوں نے عمیرہ احمد کو غدار قرار دیتے ہوئے نہ صرف ’دھوپ کی دیوار‘پر پابندی کا مطالبہ کیا بلکہ عمیرہ احمد پر بھی پابندی کا مطالبہ کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔