پنجاب میں جنگلی حیات کا مستقبل، دعوے اور اقدامات

آصف محمود  ہفتہ 19 جون 2021
ایک سال سے بھی کم عرصے میں سالٹ رینج میں ہرنوں اور اڑیال کا قتل عام ہوا ہے۔ (فوٹو: فائل)

ایک سال سے بھی کم عرصے میں سالٹ رینج میں ہرنوں اور اڑیال کا قتل عام ہوا ہے۔ (فوٹو: فائل)

یہ پچھلے برس کی بات ہے لاہور سے بذریعہ موٹروے اسلام آباد جاتے ہوئے فوٹوگرافی کےلیے سالٹ رینج میں چند منٹ قیام کرنا پڑا۔ قدرت کے حسین نظاروں کا لطف لیتے پہاڑوں میں ہرن نظر آئے۔ پہلے تو آنکھوں کو یقین نہیں ہورہا تھا کہ بھلا یہاں ہرن کیسے آسکتے ہیں؟ لیکن یہ خواب نہیں حقیقت تھی۔

ایک نہیں، وہاں کئی ہرن تھے جو مختلف جگہوں پر خوراک کی تلاش میں گھوم پھر رہے تھے، جبکہ کئی اونچے پہاڑوں کے پتھروں کے درمیان بیٹھے آرام کررہے تھے۔ بچوں نے پہلی بار چڑیا گھر کے علاوہ یہاں کھلے ماحول میں ہرن دیکھے تو بڑےخوش ہوئے۔ یہ پنجاب اڑیال اور چنکارہ ہرن تھے، جو سالٹ رینج میں بکثرت پائے جاتے ہیں، لیکن اب یہاں صورتحال بدل چکی ہے۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں سالٹ رینج میں ہرنوں کا وہ قتل عام ہوا ہے جس کی شاید مثال نہیں ملتی ہے۔

آپ ضلع چکوال کے مختلف دیہات خاص کر وہ ایریاز جو سالٹ رینج کے اندر ہیں، وہاں کا دورہ کیجئے، یہاں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوگا جہاں سیزن کے دوران ہرن کا گوشت نہیں پکایا جاتا۔ یہ لوگ بڑے منظم طریقے سے شکار کرتے اور پھر نہ صرف خود آپس میں گوشت تقسیم کرتے بلکہ فروخت بھی کرتے ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف کی ٹیمیں ایسے کئی پیشہ ور شکاریوں کو پکڑ چکی ہیں، جو یہ دھندا کرتے تھے۔ مگر ملزمان چند ہزار روپے جرمانہ ادا کرکے بری ہوجاتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب متعدد بار اس عزم کا اعادہ کرچکے ہیں کہ ملک میں جنگلات اور جنگلی حیات کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے اور یہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ لیکن عملی طور پر کوئی ایسا بڑا اقدام نظر نہیں آتا جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ حکومت واقعی جنگلی حیات کے فروغ کےلیے سنجیدہ ہے۔ اگر ہم دوسرے ممالک کا موازنہ کریں تو موجودہ دہائیوں میں جنگلی حیات کے فروغ اور روزگار کا ذریعہ بنانے میں نارتھ امریکا اور ساؤتھ افریقہ نے بہت زیادہ کام کیا ہے۔ جہاں نہ صرف جنگلی حیات کی بقا اور تحفظ کےلیے کام کیا گیا ہے بلکہ وہاں لوگ عام مویشیوں کے بجائے جنگلی جانوروں اور پرندوں کی بریڈ کرتے اور انہیں فروخت کرکے اچھا خاصا پیسہ کما رہے ہیں۔ دنیا کے جن ممالک میں جنگلی حیات میں بہتری آئی ہے وہاں ایک تو حکومت کی طرف سے سخت قوانین اور ان کا نفاذ بہتر ہے، جبکہ دوسری بڑی وجہ مقامی کمیونٹی کو جنگلی حیات کے تحفظ اور فروغ کےلیے متحرک کرنا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلی حیات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ لوگ جنگلی حیات کا غیر قانونی شکار کرنا فخر سمجھتے ہیں جبکہ یہاں قوانین بھی بڑے کمزور ہیں۔ آپ دس ہرن شکار کرلیں، چند ہزار روپے جرمانہ دیں اور باعزت بری ہوجاتے ہیں۔ بے گناہ جانوروں اور پرندوں کے غیرقانونی شکار پر جیل جانا تو دور کی بات ہے، آپ کو تھانے جانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے مطابق چند ہزار روپے جرمانہ دے کر آپ موقع پر ہی فارغ ہوجاتے ہیں۔

جنگلی حیات کے تحفظ کےلیے کام کرنے والی این جی اوز کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ پاکستان میں جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے، جب تک غیرقانونی شکار کرنے والے ملزموں کو چند دن اور ہفتوں کےلیے جیل نہیں بھیجا جائے گا وہ اس گھناؤنے جرم سے باز نہیں آئیں گے۔ اسی طرح جنگلی حیات کے تحفظ اور افزائش کےلیے مقامی کمیونٹیز کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں سی بی اوز (کمیونٹی بیسیڈ آرگنائزیشن) کا ماڈل پہلے ہی موجود ہے۔ پنجاب میں بھی مختلف سی بی اوز کام کررہی ہیں لیکن ان کی تعداد انتہائی محدود ہے۔ مجھے یاد ہے سالٹ رینج کے جس علاقے میں ہم نے پنجاب اڑیال اور چنکارہ ہرن کھلے عام گھومتے دیکھے تھے، وہ پوٹھوہار سی بی او کا علاقہ تھا، لیکن اب اس علاقے میں نیشنل پارک کے قیام کا اعلان کرکے یہ سی بی او ختم کردی گئی ہے۔

جنگلی حیات کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں جنگلی حیات کے فروغ کےلیے بریڈنگ سینٹرز کی تعداد بڑھانے اور ان کے منتظمین کی ٹریننگ کی ضرورت ہے، تاکہ یہاں ایسے جنگلی جانوروں اور پرندوں کی بریڈنگ کی جائے جو ہمارے قدرتی ماحول میں ختم ہوچکے ہیں یا ان کی نسل کو معدومی کے خطرات لاحق ہیں۔ ایسے جانوروں اور پرندوں کو بریڈنگ سینٹر سے قدرتی ماحول میں چھوڑا جائے۔ اس سے قبل انہیں جس علاقے میں چھوڑا جائے وہاں کے ماحول سے آشنا کرنے کےلیے پہلے انہیں کچھ عرصہ انہیں وہاں رکھا جائے پھر آزاد ماحول میں چھوڑا جائے۔ اسی طرح سی بی اوز، گیم ریزور، پروٹیکٹڈ ایریاز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سرپلس اور طبی عمر پوری کرنے والے جانور، جیسا کہ پنجاب اڑیال ہے، اسی طرح دیگر جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کو بھی فروغ دیا جائے۔

یہ کام سی بی اوز کے ذریعے کیا جائے تو اس سے نہ صرف مختلف علاقوں میں ان جنگلی جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر ملکی شکاری ٹرافی ہنٹنگ کےلیے پاکستان آئیں گے، جس سے کروڑوں روپے زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ کنٹرولڈ ہنٹنگ کے ذریعے نہ صرف جنگلی حیات کی افزائش میں اضافہ ممکن ہے بلکہ اس سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ ایکو ٹوور ازم کو پوری دنیا میں پسند کیا جارہا ہے اور پاکستان اس کےلیے بہترین خطہ ہے۔ پاکستان جنگلی حیات کے ذریعے ایکو ٹوور ازم کو فروغ دے کر کروڑوں روپے زرمبادلہ کما سکتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان میں موجود جنگلی حیات کو دنیا کے سامنے متعارف کروانے کےلیے سرکاری سطح پر کوششیں کی جانی چاہئیں۔ ٹی وی چینلز، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں پائی جانے والی جنگلی حیات سے متعلق دستاویزی فلمیں، معلومات شیئر کی جائیں تاکہ غیرملکی سیاح یہاں کا رخ کرسکیں۔

جنگلی حیات اور جنگلات لازم و ملزوم ہیں، جنگلی حیات کے فروغ کےلیے جنگلات کا بکثرت ہونا ضروری ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ زیادہ سے زیادہ جنگلات لگائے جائیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو اس طرف راغب کرنا ہے کہ وہ درخت لگائیں۔ حکومت پرائیویٹ سیکٹر کی معاونت سے مصنوعی جنگلات اگائے۔ بڑی بڑی ہاؤسنگ اسکمیوں کےلیے لازم قرار دیا جائے کہ وہ اپنی سوسائٹیز میں نہ صرف درخت لگائیں بلکہ پارک کےلیے مختص حصوں میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔

پنجاب حکومت کے عملی اقدامات کی بات کی جائے تو پنجاب وائلڈ لائف نے نئے مالی سال کے دوران نیچرل ہسٹری میوزیم اور اوکاڑہ وائلڈ لائف پارک کے قیام سمیت مختلف وائلڈ لائف پارکس اور بریڈنگ سینٹرز میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے 675 ملین سے زائد کے منصوبے شامل کیے ہیں۔ محکمہ جنگلات نے بھی پنجاب میں پانچ نئے نیشنل پارک بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ وائلڈ لائف بریڈنگ سینٹر باراٹھی تحصیل چونسہ میں باؤنڈری وال کی تعمیر، جانوروں اور پرندوں کے انکلوژر اور پنجرے، زیر زمین پانی اسٹوریج سمیت دیگر کاموں کےلیے 72 اعشاریہ 824 ملین روپے مختص کیے ہیں۔ وائلڈ لائف پارک ہیڈ سلیمانیکی اوکاڑہ میں تعمیراتی کام مکمل کرنے کےلیے 22 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح رائیونڈ سفاری زو کی چار دیواری کےلیے 62 ملین روپے مانگے گئے ہیں۔ وائلڈ لائف پارک لوئی بھیر راولپنڈی کے 15 اعشاریہ 815 ملین روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اوکاڑہ میں چڑیا گھر کے قیام کےلیے سب سے زیادہ 142 اعشاریہ 982 ملین روپے تجویز کیے گئے ہیں، جبکہ تونسہ بیراج آب گاہ میں جاری ترقیاتی کاموں کی تکمیل کےلیے مزید 17 ملین روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ لاہور میں نیچرل ہسٹری میوزیم کے پی سی ٹو کےلیے 17 ملین روپے مانگے گئے ہیں، جس میں نیچرل ہسٹری میوزیم کی فزیبلٹی رپورٹ، ماسٹر پلان اور نقشہ تیار کیا جائے گا۔ پنجاب وائلڈ لائف کے حکام نے بتایا کہ بجٹ میں ان ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ہوجائے گی، جس سے جنگلی حیات کے تحفظ اور فروغ میں مدد ملے گی۔

اسی طرح محکمہ جنگلات پنجاب نے نئے مالی سال کے دوران صوبے میں پانچ نئے نیشنل پارک بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بجٹ میں ان منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے گرین پاکستان پروگرام کے تحت ان پانچ نئے نیشنل پارکوں کے قیام کا تخمینہ 978 اعشاریہ 78 ملین روپے لگایا گیا ہے۔ پنجاب کے صوبائی بجٹ میں محکمہ جنگلات پنجاب کے معمول کے اخراجات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ پانچ نئے نیشنل پارک بنانے کی بھی تجویزپیش کی گئی ہے۔ محکمہ جنگلات نے پبی نیشنل پارک، خیری مورت نیشنل پارک، لال سوہنرا نیشنل پارک بہاولپور، سالٹ رینج نیشنل پارک، چنجی نیشنل پارک کے قیام کی تجاویز بجٹ میں شامل کی ہیں۔

محکمہ جنگلات پنجاب کے حکام کے مطابق یہ پانچ نئے نیشنل پارک نئے مالی سال کے دوران بننا شروع ہوں گے اور سال 2024 میں مکمل ہوں گے۔ محکمہ جنگلات نئے مالی سال کے دوران 10 بلین ٹری منصوبے پر خصوصی توجہ دے گا اور وفاقی حکومت کی معاونت سے اس منصوبے پر کام جاری رہے گا۔ ایکسپریس کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق نئے مالی سال کے دوران لاہور رنگ روڈ، لاہور سیالکوٹ موٹروے سمیت اہم شاہراہوں کے اطراف میں بھی پھل اور سایہ دار پودے لگائے جائیں گے۔ جبکہ میاواکی جنگلات کا دائرہ کار دوسرے شہروں تک بڑھایا جائے گا۔ اس مقصد کےلیے محکمہ جنگلات پی ایچ اے، محکمہ شاہرات پنجاب، پنجاب وائلڈ لائف سمیت دیگر محکموں کی خدمات بھی حاصل کرے گا تاکہ صوبے کو سرسبز و شاداب بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔

واضح رہے کہ نیشنل پارک سے مراد ایسا علاقہ ہے جو مختلف اقسام کی جنگلی حیات کا قدرتی مسکن ہے۔ یہاں مزید درخت لگانے کے ساتھ پنجاب وائلڈ لائف کی معاونت سے جنگلی حیات کی افزائش میں اضافے کی بھی کوشش کی جائے گی۔ صوبائی وزیر جنگلات پنجاب سبطین خان نے بتایا کہ بجٹ میں ان منصوبوں کی منظوری ہوجائے گی اور خود ان کی نگرانی کریں گے تاکہ صوبے میں مزید پانچ نئے نیشنل پارک بنائے جاسکیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

آصف محمود

آصف محمود

بلاگر کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ 2009 سے ایکسپریس میڈیا گروپ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پاک بھارت تعلقات، بین المذاہب ہم آہنگی اورسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں۔ بلاگر سے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔