سعودی عرب،غیرملکیوں کے قیام کی مدت 2 سال کرنے پرغور

آئی این پی  منگل 21 جنوری 2014
غیرملکی شہریوں کی ملازمت کی درجہ بندیوں کیلیے وضع کردہ طریقہ کار میں بھی تبدیلی پرغورکیا جا رہا ہے۔ فوٹو:فائل

غیرملکی شہریوں کی ملازمت کی درجہ بندیوں کیلیے وضع کردہ طریقہ کار میں بھی تبدیلی پرغورکیا جا رہا ہے۔ فوٹو:فائل

ریاض: سعودی وزارت محنت وافرادی قوت نے غیر ملکی شہریوں کے ملک میں قیام کی مدت4 سال سے کم کرکے2 سال کرنے پرغورشروع کردیا۔

غیرملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق غیرملکی شہریوں کی ملازمت کی درجہ بندیوں کیلیے وضع کردہ طریقہ کار میں بھی تبدیلی پرغورکیا جا رہا ہے جس کے بعد کسی بھی غیرملکی کوکفیل کی اجازت کے بغیرمرضی سے ملازمت تبدیل کرنے یا کسی نئی جگہ کام کرنے کی سہولت ہوگی۔ اس طرح کوئی بھی غیر ملکی اپنے یلواسکیل کوگرین اسکیل یا پلاٹینیم اسکیل میں تبدیل کرانے کا حق حاصل کرلیگا، جس کے بعد وہ غیر مشروط طور پر اپنے کام کی نوعیت اور ادارہ تبدیل کرنے کا مجاز ہوگا۔ تاہم اس کی مدت ملازمت4 کے بجائے صرف 2 سال ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق کسی بھی غیر ملکی شخص کے مملکت میں قیام کی مدت کا آغاز ملازمت کیلیے لائسنس کی تاریخ اجرا سے ہوگا، چاہے اس کے بعد وہ جتنے اداروں میں کام کرے، 2 سالہ قیام کی مدت کے معاہدے کی ہر6 ماہ بعد توثیق کرائی جائے گی زرد اسکیل کے حامل غیرملکی ملازمین کو وزارت لیبرکی جانب سے کسی قسم کی اضافی سروس مہیا نہیں کی جائیگی اورنہ ہی اس کے ورکنگ لائسنس کی تجدید ہوگی تاہم گرین اسکیل کے حامل غیرملکی ملازمین ہر2سال بعد اپنی مدت ملازمت میں مزید2 سال کی توسیع کرا سکیں گے بشرطیکہ ان کا عرصہ قیام 6 سال سے کم ہو، اگر 6 سال قیام کرچکے ہوں تو وہ مزید توسیع نہیں کرا سکیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔