پنجاب میں سیاسی ہل چل

مزمل سہروردی  بدھ 23 جون 2021
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں ساری ہلچل پنجاب سے مرکز پہنچ گئی ہے۔ بظاہر حالات بلوچستان میں بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ ابھی جام کمال کو کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا تاہم سیاسی محاذ آرائی وہاں بھی خوب نظر آرہی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کو اپوزیشن کی جانب سے جوتا مارنے کی کوشش بھی دیکھی جو ان کے پاس سے گزر گیا۔

اس کے بعد اپوزیشن پر ایف آئی آر کاٹی گئی۔ بلوچستان اسمبلی کا اپوزیشن سے قبضہ واگزار کروانے کے لیے بکتر بند گاڑی کا استعمال بھی دیکھا گیا۔ اسپیکر بلوچستان کی جانب سے مفاہمت کی کوشش بھی ناکام نظر آئی۔ اپوزیشن لیڈر ساتھیوں سمیت گرفتاری دینے کے لیے تھانے پہنچ گئے لیکن پولیس نے انھیں گرفتار کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سب کچھ بلوچستان کے لیے نیا ہے۔ وہاں حکومتیں تبدیل بھی ہو جائیں تب بھی ایسا نہیں ہوتا۔ ملک میں جو محاذ آرائی تین سال سے چل رہی ہے، اس میں اب بلوچستان اسمبلی بھی رنگتی نظر آرہی ہے۔

قومی اسمبلی میں جو مناظر دیکھے گئے ان پر نہ  حکومت اور نہ اپوزیشن ہی فخر کر سکتی ہے۔ میری رائے میں حکومت کی کوشش تھی کہ ماحول کو اتنا خراب کیا جائے کہ اپوزیشن بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کر دے۔پھر نہ صرف بجٹ منظور ہو جائے گا بلکہ اپوزیشن کی تقاریر بھی نہیں ہونگی۔ لیکن اپوزیشن نے بائیکاٹ کے بجائے حکومت کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح لڑائی تین دن تک جاری رہی اور پھر سیز فائر ہوا جو جعلی ہی لگ رہا کیونکہ  اپوزیشن نے پھر عمران خان کی تقریر میں شور مچانا ہے۔ اس دوران ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی آئی اور واپس بھی ہو گئی۔

پنجاب میں معاملات نسبتاً پرامن رہے۔ بجٹ بھی پیش ہوا۔ اپوزیشن نے بجٹ تقریر کے دوران شور بھی مچایا لیکن پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کی تقریر میں حکومت نے کوئی شور نہیں مچایا۔ پنجاب اسمبلی کی کارروائی قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کی نسبتاً کافی پر امن نظر آئی۔ سندھ میں بھی شور نظر آیا۔ اس لیے شور اور نعرہ بازی کو اب محاذآرائی کہنا درست نہیں۔ جو کچھ قومی اور بلوچستان اسمبلی میں ہوا اس کو ہی محاذ آرائی اور لڑائی کہا جا سکتا ہے۔ باقی سب قابل قبول بن گیا ہے۔

پنجاب میں اپوزیشن کا وفد قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی قیادت میں اسپیکر کو مل کر نئی پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ پر مبارکباد دے رہا ہے۔اس لیے پنجاب میں سیاسی ماحول پر امن نظر آرہا ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ سردار عثمان بزدار کو ہٹانے کی مختلف تدابیر کرنے والے اب تھک گئے ہیں۔ اس لیے اب وہ تیزی نظر نہیں آرہی جو پہلے تھی۔ میں نے ہمیشہ لکھا ہے کہ سردار عثمان بزدار کو ہٹانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ انھوں نے آہستہ آہستہ اپنے تمام مخالفین کو شکست دی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ تمام سازشیں تحریک انصاف کے اندر سے ہی ہو رہی تھیں اپوزیشن تو کبھی سردار عثمان بزدار کو ہٹانے کے لیے کوشاں نہیں تھی۔

سردار عثمان بزدار کے خلاف سازشیں کرنے والے ان دوستوں نے اب تھک ہار کر ایک نئے ہدف کا انتخاب کر لیا ہے۔ اب ان کا نیا ٹارگٹ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے پرنسپل سیکریٹری طاہر خورشید ہیں۔ اسی لیے ہم آجکل ان کے خلاف ایک منظم مہم دیکھ رہے ہیں۔ طاہر خورشید پر بھی اب وہی الزامات لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو پہلے عثمان بزدار پر لگائے جاتے تھے۔ الزامات کی نوعیت میں کوئی فرق نہیں بس کردار بدل گیا ہے۔ اگر الزامات پہلے جھوٹے تھے تو اب بھی جھوٹے ہیں۔ نہ پہلے عثمان بزدار ان الزامات کا جواب دیتے تھے اور نہ ہی اب طاہر خورشید جواب دے رہے ہیں۔

ویسے یہ طاہر خو رشید پر کوئی پہلا حملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے جب عثمان بزدار کو ہٹانے کی سازش میں ناکام ہونے والوں نے پنجاب کو بذریعہ بیوروکریسی چلانے کی کوشش کی تب بھی ہم نے طاہر خورشید پر حملہ دیکھا تھا۔ انھیں پنجاب بدر کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی لیکن سب کوششیں ناکام ہو گئیں تب ہم نے دیکھا کہ افسر شاہی نے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح بھی شروع کر دیا تھا۔ لیکن پھر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو احساس ہوا کہ وہ ایک سیاسی حکومت چلا رہے ہیں۔ اس لیے افسر شاہی کے ذریعے پنجاب چلانا ان کے نقصان میں ہے۔ جو دوست یہ مشورہ دے رہے تھے وہ دوست کی شکل میں دشمن نکلے۔ اس لیے وہ سارا ماڈل چند ماہ بھی نہیں چل سکا۔

حکمران کے اعتماد کے افسر کو نشانہ بنانا بھی کوئی نئی روایت نہیں ہے۔ ماضی میں بھی حکمرانون کے قریب افسروں کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن اس نے پاکستان کے نظام حکومت پر کوئی اچھے نقو ش نہیں چھوڑے ہیں۔ بلکہ افسر شاہی بدظن ہوئی ہے۔ سیاسی لڑائیوں میں افسر شاہی کو گھسیٹنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ افسران نے ہر حکومت سے تعاون ہی کیا ہے۔ لیکن ان کو سیاسی محاذ آرئی کا حصہ بنانے کی کوشش نے افسر شاہی کے اندر ایک عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے افسر شاہی اب حکومت کے ساتھ اس طرح تعاون نہیں کر رہی جیسے کرتی تھی۔

زبان زد عام ہے کہ افسر شاہی کے عدم تعاون کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت وہ نتائج نہیں دے سکی جووہ دے سکتی تھی۔طاہر خورشید کے خلا ف مہم دوبارہ افسر شاہی میں بدگمانی اور عدم استحکام پیدا کر رہی ہے۔ تمام افسر خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ افسران کو سیاسی لڑائیوں سے دور رکھنے پر بھی غور ہونا چاہیے۔افسر شاہی کو پہلے نیب سے بہت مسائل ہیں۔ اور وہ نیب کے خوف سے کام نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انھیں بھی استثنیٰ حاصل ہونا چاہیے۔ اس طرح کی مہم حکومت کے لیے مزید نقصان دہ ہوگی۔اس لیے ارباب اختیار کو اس پر ایکشن لینا چاہیے اور اس کے سدباب کے لیے اقدامات کرنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔