افغان مسئلے پر پاکستان کو اعتماد میں نہ لینا تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے، امریکی سینیٹر

ویب ڈیسک  بدھ 23 جون 2021
پاکستان کے بغیر امریکی فوجیوں کا مؤثر انخلا کیسے ممکن ہے، لنڈسے گراہم )(فوٹو: فائل

پاکستان کے بغیر امریکی فوجیوں کا مؤثر انخلا کیسے ممکن ہے، لنڈسے گراہم )(فوٹو: فائل

 واشنگٹن: امریکی سینیٹر لِنڈسے گراہم نے صدر جوبائیڈن کے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا جیسے اہم موقع پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے رابطہ نہ کرنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا نتیجہ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے غیر ملکی فوجیوں کا انخلا کا عمل آخری مرحلے میں ہے اور آج بھی دنیا کا سب سے بڑا کارگو جہاز فوجیوں کا ساز و سامان لینے کابل آیا تھا۔

افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلا پر اتفاق طالبان اور امریکا کے درمیان گزشتہ برس 29 فروری کو دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے میں کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے لیے امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے بارہا پاکستان کی خدمات کا اعتراف بھی کیا گیا تھا۔

تاہم نئی امریکی حکومت کے قیام کے بعد سے افغانستان کے معاملے پر پاکستان سے رابطہ نہیں کیا گیا جس پر سیاسی تجزیہ کار سمیت امریکی حکام بھی حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس صورت حال پر امریکی سینیٹر لِنڈسے گراہم بھی خاموش نہ رہ سکے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ سن کر حیرت ہوئی کہ صدر بائیڈن نے پاکستانی وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے پاک امریکا اور افغانستان تعلقات کے بارے میں رابطہ نہیں کیا۔

امریکی سینیٹر نے مزید لکھا کہ کہ ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ پاکستان سے ہم آہنگی کے بغیر افغانستان سے ہمارے فوجیوں کی واپسی مؤثر ہوگی جب کہ بائیڈن انتظامیہ واضح طور پر جانتی ہے کہ اںخلا کے بعد بھی افغانستان میں ہمارے لیے مسائل موجود رہیں گے۔

اپنی سلسلہ وار ٹویٹ کے آخر میں سینیٹر لِنڈسے گراہم نے لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ جوبائیڈن کا افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کے عمل میں پاکستان کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ بڑی تباہی کی صورت میں عراق میں ہونے والی غلطی سے بھی بدتر غلطی ثابت ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔