حجم،حجامت،حجامہ اورہجوم

سعد اللہ جان برق  جمعـء 25 جون 2021
barq@email.com

[email protected]

ایک خبرجو  خبرتونہیں ہے بلکہ معمول کی بات ہے، بھلا اس میں کیاخبریت ہوسکتی ہے کہ کھانے والے نے کھانا کھالیا یا پانی پیا،کتے نے کسی کوکاٹا، کورونا نے کسی کومارا، پھر بھی یہ خبر ہے کہ صوبے پر قرضوں کاحجم اتنا ہوجائے گا، اتنا کو بھی چھوڑ دیجیے،قرض لینے والے کوبھی اورقرض دینے والے کوبھی اورچڑھنے کوبھی کہ قرضہ ہمیشہ چڑھتا ہے اورجب چڑھتاہے تو پھر ’’اترنا‘‘ بھول جاتاہے۔ ہمیں پریشان اسی لفظ حجم نے کیاہے ۔

اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں

روز اک طرز نئی موت کی ایجاد کرے

کیوں کہ اس حجم کا رشتہ ’’حجامت‘‘ سے جڑتا ہے اورحجامت ہمیشہ ان کی ہوتی ہے جن کے ’’بال‘‘ بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔’’حجامت‘‘ بھی اتنی پریشان کن نہیں بلکہ آج کل اس کا ایک اوررشتہ دار’’حجامہ‘‘ بھی سننے میں آتاہے۔ حجامہ کو ہم نے کبھی دیکھا تو نہیں ہے لیکن ریڈیوکے بے شمار چینلوں پر اس کے بے شمار چرچے ہیں،حجامہ حجامہ کروالو، ہم اس پر بھی حیران ہیں کہ حکومت کے ہوتے ہوئے یہ نئے حجامہ کرنے والے کہاں سے آئے۔

’’حجامہ‘‘سناہے ایک طرزعلاج ہے جو براہ راست عربستان سے آیا ہے اورپڑوسی ملک کے ایلوویرے اورآئیورویدک کاجواب ہے بلکہ ان کے تھپڑپر مکااوراینٹ پرپتھرہے۔ سناہے یہ علاج ’’استرے‘‘ سے کیاجاتاہے جس طرح بچوں کا ختنہ کیاجاتاہے۔ اس طرح یہ استرے کاعلاج بھی ہے،خیراس طرح یااس طرح یااسترا،جس طرح کوکس طرح کردیجیے۔ مسلہان سب کی آپس میں رشتہ داری کاہے، حجم، حجامت ،حجامہ…

پریشاں ہوں پریشانی سے پہلے

بہا جاتا ہوں طغیانی سے پہلے

اگر صوبے والوں کو کہیں سے پتہ چل گیاکہ حجم کاعلاج حجامہ ہے توہماری تو حجامت ہوجائے گی بلکہ کچھ کچھ ہمیں شبہ سا ہورہاہے کہ حکومت نے قرضے کے ’’حجم‘‘ کاعلاج ’’حجامہ ‘‘ سے شروع بھی کردیاہوگا۔یہ روزبروزجونئے نئے وزیرمشیر اور برائے خصوصی بڑھائے جارہے ہیں،کارڈ بانٹے جارہے ہیں،میگا،میگی اورمیگے منصوبے لانچ کیے جارہے ہیں، کہیں یہ ’’حجامہ‘‘ کی ابتداتو نہیں اور ظاہرہے کہ حجم ہویاحجامت یاحجامہ اس ’’ہجوم‘‘ کا کیا جاتاہے جسے کالانعام کہاجاتاہے، جو نشیبی کرمہ میں آباد ہیں اوراونچے اونچے پہاڑوں پر جب بھی بارش برستی ہے وہ سیلاب بن کر اس ’’کرمہ ‘‘کو بہالے جاتاہے۔

یہ دراصل ایک گیت ہے جس کا مطلب ہے کہ بارش تو اونچی اونچی چوٹیوں پر برس کر گل وگلزار کھلارہی ہے لیکن سیلاب ’’کرمہ‘‘ پر آجاتاہے جہاں میرے نصیب نے مجھے لاکر آباد کیاہواہے،مثال کے طور پر ٹیکس درآمد ہونے والے اشیائے تعیش پر بڑھتا ہے تو لڑھک لڑھک کر اس بدنصیب کرمہ وال کے سر پر آکر ٹوٹتاہے جسے ان چیزوں کے نام بھی معلوم نہیں ہوتے، یاجس طرح ٹی وی لائسنس کوبجلی کے بل میں شامل کرکے ان سے بھی وصول کیاجاتاہے جن کے گھر ٹی وی ہوتا  ہی نہیں۔

ٹھیک اسی طرح جس طرح ہم نے بات ’’شروع‘‘ کہاں سے کی تھی اورپہنچ کہاں گئی،حجم سے شروع ہوجانے والی بات کا ’’ہجوم‘‘تک پہنچنا ہمیں تشویس میں مبتلاکیے دے رہی ہے، اگر خدانخواستہ خدانخواستہ یہ کم بخت ’’حجم‘‘ بھی سب کچھ پھلانگ کرسیدھا ہم تک ،مطلب ہے نشیبی کرمہ تک یا ہجوم تک آپہنچا توہماری یہ پتلی گردن تو ٹوٹی ہوئی سمجھو، جو پہلے ہی بے شمار ’’حجموں‘‘کی ماری ہوئی یعنی ’’حجم زدہ ‘‘ہے،اتنے بھاری بھرکم وزیروں کاحجم ، ان کے نہایت بابرکت خاندانوں کاحجم،اوپر سے ’’مہالکشمی‘‘ کے قرضوں کاحجم، ہر ہرمحکمے میں بلاضرورت بھرتی کیے ہوئے نکھٹوئوں کا حجم ،یوں سمجھ لیجیے کہ حجم ہی حجم…

کہہ دو ان ’’حجموں’’ سے کہیں دورجابسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل داغ دارمیں

ماناکہ ہمارے پاس ’’تیل ‘‘ کے بیس پچیس کروڑ کنوئیں ہیں اورکنوئیں بھی وہ جن کے بارے میں رحمان بابا نے کہاہے کہ کنوئیںکاپانی جتنا نکالو اتنابڑھتاجاتاہے لیکن پھربھی کنوئیں ہیں، سمندر تونہیں۔دراصل حکومت اورہمارے درمیان ’’عقیدے‘‘کااختلاف ہے۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ حجم کم کرنے کے لیے حجم کم کرنا ضروری ہے جب کہ حکومت کاعقیدہ ’’علاج بالمثل‘‘ کاہے یعنی حجم کرنے کے لیے ’’حجم‘‘ بڑھایاجائے،حجم بڑھانے سے مریض کی قوت برداشت بڑھ جاتی ہے لیکن یہ تو ہم جانتے ہیں لیکن اگر حجم بڑھانے سے مرض کا’’حجامہ‘‘پاجامہ ہوگیاتو؟ بانس ہی نہیں رہے گا تو بانسری کہاں سے بجے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔