نئی اسرائیل حکومت غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیرات فوری بند کرے،اقوام متحدہ

ویب ڈیسک  جمعـء 25 جون 2021
یہودی بستیوں کی تعمیر عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، انتونیو گوتریس۔ فوٹو : فائل

یہودی بستیوں کی تعمیر عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، انتونیو گوتریس۔ فوٹو : فائل

 نیویارک: اقوام متحدہ نے اسرائیل پر غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیرات روکنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نئی اسرائیلی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیرات کو فوری بند کرے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور مشرقی وسطیٰ میں اقوام متحدہ کے ایلچی ٹور وینیسلینڈ نے 2016 میں سیکیورٹی کونسل کی قرارداد پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ پیش کی، قرارداد میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی بستیوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں لہذا ان کی تعمیرات روکی جائیں۔ انتونیو گوتریس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں 540 گھروں کی تعمیرات اور چیک پوسٹ کی منظوری دینا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے، یہ تعمیرات نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ خود اسرائیلی قانون کے تحت بھی غیر قانونی ہیں۔

مشرقی وسطی کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی نے کہا کہ میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اسرائیلی بستیوں کی تعمیرات عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے، اسرائیل کا یہ طرز عمل 2 ریاستی حل سمیت دیرپا اور جامع امن کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے لہذا ان بستیوں کی تعمیرات کو فوری روکا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔