الیکشن اصلاحات اور دھاندلی

جمیل مرغز  پير 28 جون 2021
jamilmarghuz1@gmail.com

[email protected]

بورژوا جمہوریت کے بارے میں ایک دانشور کا قول ہے کہ ’’اگر ان سرمایہ داروں کو یقین ہوتا کہ ووٹ کے ذریعے تبدیلی آئے گی اورغریبوں کو حق ملے گا ‘ تو کبھی بھی انتخابات کا ڈراما نہ رچاتے ۔‘‘

یہ حقیقت ہے کہ موجودہ بورژوا جمہوریت میں ملک کے 90فی صد محنت کش عوام کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ان کاکام صرف اپنے آقا اور محسن کو ووٹ دینا ہوتا ہے‘ اس نظام میں دس فی صد سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے درمیان اقتدار کی جنگ ہوتی ہے ‘یہ طبقے اصلی حکمران ہیں لیکن مختلف پارٹیوں مں بیٹھ کر جمہوریت جمہوریت کھیلتے ہیں اور مختلف طریقوں سے غریبوں سے ووٹ حاصل کرتے ہیں‘کبھی ایک جماعت بر سر اقتدار آتی ہے کبھی دوسری لیکن نظام وہی ہوتا ہے ‘یعنی حکمران طبقوں کے دو حصوں‘ برسر اقتدار اور اقتدار سے محروم طبقوں کے درمیان اقتدار کی جنگ ہوتی ہے ‘پہلے یہ تلواروں کے ذریعے میدان جنگ میں ہوتی تھی‘ اس میں غریب سپاہی مارے جاتے اور فاتح حکمران بن جاتا اور اب یہ لڑائی پولنگ اسٹیشن میں ہوتی ہے اور اس میں بھی غریبوں کے ووٹ پر حکمران خان بن جاتا ہے۔

مشہور پشتو شاعر ’’امیر شاد محبوب‘‘کا ایک شعر ہے کہ!۔

غریبہ تالا مردہ باد اور زندہ باد کے سہ دی ۔۔ دخان نالائق زوئے بہ قائد ایوان جوڑے گی۔

(اے غریب تمہیں زندہ باد اور مردہ باد کے نعروں میں کیا ملے گا‘آخرمیں خان کا بیٹا ہی قائد ایوان بنے گا)۔اس نظام میں غریب کے لیے تھوڑاسا نوالہ کبھی بے نظیر پروگرام اور کبھی احساس پروگرام اور لنگر خانوں کی شکل میں دے دیتے ہیں۔

غریبوں اور محنت کشوں کے لیے تبدیلی کی ایک موہوم امید ہی یہ نظام ہے کیونکہ متبادل کوئی نظام یا طریقہ موجود نہیں‘ جس سے غریب طبقے اپنی حالت تبدیل کر سکیں‘اس لیے اسی نظام کے تحت اپنے حالات زندگی کی تبدیلی کے لیے ووٹ دیتے ہیں‘انقلابی حالات کی غیر موجودگی میں یہ ممکن تھا کہ غریب طبقے متحد ہوکر اپنے طبقے کے امیدوار کو منتخب کرتے‘ جیسا کہ ہندوستان کے دلتوں یا وینزویلا‘ بولیویا اوربعض لاطینی امریکی اور یورپی ممالک میں لیبر کلاس اپنی پارٹیاں بناکر کامیابیاں  حاصل کرتی ہیں لیکن یہاںمظلوم اور محروم طبقے غربت کے خاتمے پر بھی متحد نہیں ہوتے کہ اپنے طبقے کے لوگوں کو کامیاب کرسکیں‘ اس لیے وہ بھی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو ووٹ دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پاکستان کے بدقسمت غریب طبقے؟

آج کل حکومت کی طرف سے انتخابی اصلاحات کا شور برپا ہے ‘قانون سازی ہو رہی ہے۔ انتخابی اصلاحات کے جو مقاصد ہونے چاہئیں وہ یہ ہیں کہ وہ آزادانہ اور شفاف ہوں، ہر ممکن دھاندلی سے محفوظ ہوں اور سو فی صد قابل اعتبار اور قابل بھروسہ ہوں‘ہر انسان کو اپنی مرضی کا ووٹ ڈالنے کی آزادی ہو‘ووٹ کا تقدس بحال رہے اور اس کے نتیجے کو تسلیم کیا جائے۔سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام میں یہ توقع رکھنا کہ غریب مزدور اور کسان اپنی مرضی سے ووٹ دے گا اور انتخاب آزادانہ اور منصفانہ ہوگا‘یہ خام خیالی ہے، اگر یہ مقاصد ہوں تو پھر یہ سب ڈراما ہے ۔

سب سے پہلے یہ امر سمجھ لینا چاہیے کہ دھاندلی پولنگ اسٹیشن میں بہت کم ہوتی ہے ‘وہاں ہر پارٹی کے ایجنٹ بڑی ہوشیاری سے ووٹنگ کی نگرانی کرتے ہیں ‘ان کا کام یہ ہے کہ وہ دیکھیں کہ صحیح آدمی ووٹ صحیح طریقے سے ڈال رہا ہے ‘پہلے یہ پہچان مشکل تھی لیکن اب چونکہ شناختی کارڈ آگیا ہے اس لیے ووٹر کی شناخت آسان ہو گئی ہے لیکن جناب کرپشن اور دھاندلی ووٹنگ کے دن سے بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے جس کوPre Pollingدھاندلی کہتے ہیں اور جو انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے‘جس طرح کرپشن سرمایہ دارانہ نظام کی خاصیت ہے‘ اسی طرح الیکشن میں دھاندلی سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بنیاد ہے۔

آئیے ! ذرا دھاندلی کے مختلف طریقوں کا جائزہ لیں۔ روسو نے کہا تھاکہ “Man is born free but every where he is chains.”یعنی انسان آزاد پیدا ہوا ہے لیکن ہر جگہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ‘غریبوںکو جکڑنے کی یہ زنجیریں مندرجہ ذیل ہیں۔

جاگیرداروںکا پریشر۔سب سے پہلے وڈیروں‘ چوہدریوں ‘سرداروں اور خوانین کا دباؤ‘ جہاں پر قرضوں کے لیے ہاریوں اور کسانوں کی بیویاں اور بیٹیاں ان وڈیروں کے پاس گروی ہوں‘ وہاں آزادانہ ووٹنگ کا تصور ہی غلط ہے ‘ہر مالک زمین اپنے ہاریوں اور کسانوں کو اپنا غلام سمجھتا ہے اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے جاگیردار کی مرضی کے مطابق ووٹ دے اور زندگی ان کی مرضی سے گزارے۔

مذہبی علماء کا پریشر۔اب تو مسلکوں کی بنیاد پر پارٹیاں بن گئی ہیں‘ سب اپنے پیروکاروں کو ابھارتے ہیں کہ ووٹ اپنے لوگوں ہی کو ڈالا جائے، سب اپنے اپنے پنجرے میں بند ہیں۔

خاندان کے بڑوں کا پریشر۔خاندان کے بڑے جس کوچاہیں چھوٹوں کو ان کی تقلید کرنا ہوتی ہے۔پیسوں پر ووٹوں کی خرید و فروخت۔بعض دوستوں نے حساب لگایا ہے کہ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے ہر جگہ ہزاروں افراد پیسے لے کر ووٹ دینے کے لیے مل جاتے ہیں بلکہ اب تو جلسوں کی رونق بڑھانے کے لیے بھی دیہاڑی پر مزدور بھی مل جاتے ہیں۔

حکومت کے ارکان تو نالیاں اور راستے بناکر‘ ملازمت دے کر اور مرضی کی جگہ پر تبادلہ کرکے بھی ووٹ لے لیتے ہیں‘ پولیس کے تھانے بھی ووٹ کے بڑے مراکز ہوتے ہیں‘تھانیداراپنی مرضی کا لگاؤ‘ وہ ملزموں اور مجرموں کے ساتھ صاحب کی مرضی کا سلوک کرے گا اور اس طرح ملزم اور اس کا خاندان ہمیشہ فرماں بردار رہے گا۔

میڈیا پر اشتہارات اور کارنامے صرف مالدار لوگوں کے نشر ہوتے ہیں‘آج کا میڈیا ووٹ کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔

اب تو ادارے بھی انتخابات کے نتائج بدلنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔پیشہ ور انتخابی شکاریوں کو کسی پارٹی سے نکالنا اور دوسری پارٹیوں میں شامل کرانا‘ مخالفین کو نا اہل قرار دینا اور قید کرنا ‘ جیسے کہ ایک سیاستدان کو عین الیکشن کے دوران رات کے بارہ بجے جیل بھیج دیا گیا اور نا اہل قراردیا گیا‘اس طرح کے ڈرامے اب معمول بن چکے ہیں‘اب تو RTSکے بجائے پورے پولنگ اسٹاف کو بھی دھند میںغائب کردیا جاتا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ مشینی ووٹنگ مشین سے دھاندلی ختم ہوجائے گی ‘یہ اصل مسئلے سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔ کوئی بھی حکومت جو خود دھاندلی کے نتیجے میں بر سر اقتدار آئی ہو اور اب بھی ضمنی انتخابات میں اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہو ‘وہ کیسے منصفانہ انتخابات کی بات کر سکتی ہے ‘اصل مسئلے کا یہ ذکر نہیں کرتے ‘جناب اصلی دھاندلی انتخابات سے قبل ہوتی ہے‘جیسا کہ 2018کے انتخابات میں۔

جب جمہوری ادوار میں انتخاب ہوا کرتا تھا تو سب جماعتوں کو انتخاب میں حصہ لینے کے لیے کچھ نہ کچھ یکساں مواقعے ملتے تھے ‘ اب صورت حال یہ ہے کہ انتخاب سے قبل اداروں اور میڈیا کو پارٹی کے حق میں استعمال کیا جاتا ہے ‘جس کو حکومت میں لانا مقصود ہو۔ ماضی میں ناپسندیدہ پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے لیے 58(2b)کا استعمال کیا جاتا تھا‘اس طرح ووٹ دینے والوں کا اختیار ختم کردیا جاتا تھا‘آج کل کھل کر اداروں کی طرف سے مداخلت اور الیکشن رزلٹ میں تبدیلی کا تماشہ ہو رہا ہے‘ووٹ کی کوئی عزت نہیں رہی۔ 2018کے انتخابات کی مثال لیں‘اس میں سب جماعتوں کو یکساں مواقعے نہیں دیے گئے ‘اس اسمبلی کے انتخاب سے قبل اداروں اور میڈیا کو پوری ریاستی قوت کے ساتھ ایک جماعت کے حق میں اور مسلم لیگ سمیت دیگر جماعتوں کے خلاف استعمال کیا گیا ‘ مخالف جماعتوں کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے۔

٭۔ الیک ٹیبلز کو دباؤ ڈال کر ایک جماعت میں شامل کیا گیا‘پھر انتحابی میدان سجایا گیا اور ووٹوں کی گنتی سے لے کر‘ RTSکے فیل ہونے تک اور اس کے بعد رزلٹ کے اعلان تک وہ خوفناک دھاندلی ہوئی کہ دنیا حیران رہ گئی۔اب سرکار کو الیکشن اصلاحات کا خیال آیا ہے۔حسب روایت ہر کام کی طرح ان اصلاحات کو بھی غلط طریقے سے کر رہے ہیں‘حزب اختلاف اور الیکشن کمیشن کو بلڈوز کرکے اصلاحات کی کوشش کر رہے ہیں‘کیا حکومت کو معلوم نہیں کہ کھیل کے اصول ایک فریق کی مرضی سے نہیں بنتے بلکہ تمام فریقوں کی مرضی اس میں شامل ہوتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔