اسمارٹ فون آلے سے صرف ایک گھنٹے میں انفیکشن کی تشخیص ممکن

ویب ڈیسک  پير 28 جون 2021
تصویر میں مک ماسٹر یونیورسٹی کا تیار آلہ نمایاں ہے جو اسمارٹ فون سے جڑ کر ایک گھنٹے میں انفیکشن کی شناخت کرسکتا ہے۔ فوٹو: بسکریہ مک ماسٹر یونیورسٹی

تصویر میں مک ماسٹر یونیورسٹی کا تیار آلہ نمایاں ہے جو اسمارٹ فون سے جڑ کر ایک گھنٹے میں انفیکشن کی شناخت کرسکتا ہے۔ فوٹو: بسکریہ مک ماسٹر یونیورسٹی

کینیڈا: اسمارٹ فون سے اب کئی طبی آلات جڑسکتے ہیں جن کی اپنی اپنی افادیت ہے۔ اب کینیڈا کے ماہرین نے اعلان کیا ہے کہ ان کا تیارکردہ کم خرچ آلہ بنایا ہے جو دومرحلوں میں کام کرتے ہوئے صرف ایک گھنٹے میں کسی بیکٹیریا یا وائرس کے انفیکشن شے آگاہ کرسکتا ہے۔

فی الحال کسی ڈاکٹر کو مریض میں انفیکشن کا شبہ ہوتا ہے تو وہ بدن کے مختلف مائعات کو تجربہ گاہ میں بھیجتے ہیں جہاں بیماری کے اثر یا انفیکشن کی تصدیق یا تردید کی جاسکتی ہے۔ اب پوری تجربہ گاہ اسمارٹ فون سے جڑنے والے ایک ایسے آلے میں سمودی گئی ہے جو خود انسانی مٹھی میں سماسکتا ہے۔

یہ سسٹم کینیڈا کی مِک ماسٹر یونیورسٹی نے تیار کیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق انسانی مائعات کے ٹیسٹ میں تین اہم مسائل سامنے آسکتے ہیں: اول، رپورٹ آنے میں کچھ دن لگتے ہیں جس کے دوران انفیکشن مزید خراب ہوجاتا ہے۔ دوم، پھر غریب ممالک میں تو یہ صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے کیونکہ وہاں تجربہ گاہوں کی شدید قلت ہوتی ہے۔ سوم، اگراس دوران ڈاکٹر اینٹی بایوٹکس دیتے ہیں تو وہ نتیجہ نہ آنے کی صورت میں غیرضروری ہوجاتی ہیں۔

اسی تناظر میں مِک ماسٹر ایک پروٹوٹائپ تیارکرلیا ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہے، اس میں دو چینل (راستوں) والا برقی سینسر لگا ہے جو ایک چپ پر نصب ہے۔ اس کا پروسیسنگ ماڈیول یو ایس بی اسٹک جیسا ہے جس میں چپ فٹ ہوجاتی ہے۔

جیسے ہی خون، لعاب، یا پیشاب کا ایک قطرہ چپ پر رکھا جاتا ہے۔ چپ میں پہلے سے موجود ڈین این اے اینزائم نمونے میں موجود بیکٹیریا میں پروٹین کے آثار سے تعامل کرتے ہیں۔ اور اس طرح بیکٹیریا کی نشاندہی ہوسکتی ہے۔ اس کے تمام نتائج اسمارٹ فون ایپ پر ظاہر ہوجاتےہیں اور منٹوں سے لے کر ایک گھنٹے تک اس کے نتائج ظاہر ہوجاتے ہیں۔

تجرباتی طور پر اس نے پیشاب کے نمونوں میں ای کولائی بیکٹیرا شناخت کرلیا جو ایک بہت مضر بیکٹیریا ھی ہے۔ اس کے علاوہ یہ نظام کئی طرح کے بیکٹیریا شناخت کرسکتا ہے۔ لیکن اس سسٹم کی حد یہاں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ معمولی سی تبدیلی سے یہ کئی طرح سے وائرل انفیکشن کی شناخت کرسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اس سے کووڈ 19 کی شناخت کرنا بھی ممکن ہے لیکن چپ میں بعض تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔

اس منصوبے پر کام کرنے والی ایک اور سائنسداں، لیلیٰ سلیمانی کہتی ہیں کہ یہ ایجاد ترقی پذیر اور غریب ممالک کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں اور اس سے مرض کی شناخت بہت آسان ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب اینٹی بایوٹکس کے غیرضروری استعمال بھی کم ہوسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔